سعودی وزیر تجارت کی اسرائیلی وزیر سے ملاقات کی خبروں کی تردید

سرکاری ذرائع نے سعودی وزیر تجارت ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصبی اور ایک اسرائیلی وزیر کے درمیان ملاقات سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کی تردید کی ہے۔

سعودی وزیر تجارت ماجد عبداللہ القصبی 26 فروری 2024 کو ابو ظبی میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے وزرائے تجارت کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں (ماجد عبداللہ القصبی ایکس)

سعودی عرب کے ایک سرکاری ذرائع نے سوشل میڈیا پر مملکت کے وزیر تجارت کی اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کے بارے میں گردش کرنے والی ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی  (ایس پی اے) کے مطابق ایک سرکاری ذرائع نے سعودی وزیر تجارت ڈاکٹر ماجد عبداللہ القصبی اور ایک اسرائیلی وزیر کے درمیان ملاقات سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو  کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو اس وقت بنائی گئی تھی جب سعودی وزیر ابوظہبی، متحدہ عرب امارات میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی 13ویں وزارتی کانفرنس کے آغاز سے قبل نائجیریا کے وزیر تجارت کے ساتھ کھڑے تھے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ایک نامعلوم شخص سعودی وزیر کے پاس آیا اور بعد میں اپنی شناخت ’قابض‘ اسرائیلی حکومت میں وزیر اقتصادیات کے طور پر کروائی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب غزہ کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر سیز فائر کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔ گزشتہ ہفتے غزہ میں فوری جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کو امریکہ کی جانب سے ویٹو کیے جانے پر سعودی عرب نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔

غزہ کی پٹی اور اس کے گرد و نواح میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی قرارداد الجزائر نے عرب ممالک کی حمایت سے سلامتی کونسل میں جمع کرائی تھی۔

سعودی عرب غزہ کی پٹی اور اس کے گردونواح میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی فوجی کارروائیوں میں اضافے  پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہتا آیا ہے کہ کہ فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے کسی بھی کوشش کو بروئے کار نہیں لایا گیا۔

غزہ پر سات اکتوبر 2023 سے اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کے حملوں میں اب تک 30 ہزار سے  افراد کی جان جا چکی ہے جس میں اکثریت خواتین بچوں کی ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا