ایم ایچ 370: کیا پائلٹ 238 لاشوں سے بھرا جہاز سات گھنٹے اڑاتا رہا؟

تصور کریں کہ جہاز کے کیبن میں 238 افراد اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ مسافر رات کے وقت تھک کر سو رہے ہیں، مگر دراصل تمام کے تمام کب کے مر کر ٹھنڈے ہو چکے ہیں۔

تصور کیجیے کہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ایک بوئنگ 777 جہاز رات کے اندھیرے میں سیاہ سمندر کے اوپر اڑا چلا جا رہا ہے، جہاز کے کیبن کے اندر بتیاں بند ہیں، تمام مواصلاتی آلات آف کر دیے گئے ہیں، وائرلیس سروس معطل ہے، زمین پر کسی کنٹرول ٹاور کے ریڈار پر جہاز نظر نہیں آ رہا۔

اسی منظر کو آگے بڑھاتے ہوئے ذہن پر پردے پر فلم چلا کر دیکھیے کہ جہاز کے کیبن میں 238 افراد اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے مسافر اپنی نیند پوری کر رہے ہیں کہ صبح جب جہاز منزل پر پہنچے تو تازہ دم ہوں۔

لیکن یہ سب بےحس و حرکت ہیں، کہیں سے کسی کے بولنے، خراٹے بھرنے یا سیٹ پر کسمسانے اور حفاظتی بند کھولنے کی مخصوص کلک کی آواز نہیں آ رہی۔ صرف جیٹ کے انجن کا لگاتار، یکساں شور ہے، جسے توڑنے، اس میں خلل ڈالنا والا کوئی نہیں۔

جہاز کے کیبن میں تمام کے تمام انسان گھنٹوں پہلے مر کر ٹھنڈے ہو چکے ہیں۔

یہ 14 ملکوں کے شہری ہیں، جن میں خطاطی کے ایک مقابلے میں حصہ لینے والے 19 فنکاروں کا ایک گروپ بھی شامل ہے۔ ایک کمپنی کے درجن بھر ملازم کمپنی کے خرچ پر ٹور لگا کر واپس آ رہے ہیں، ان کے علاوہ عورتیں ہیں، بچے ہیں، صحت مند نوجوان بھی ہیں، اور بڈھے مریض بھی، ریٹائرڈ لوگ بھی ہیں اور ابھی پرائمری سکول پڑھنے والے طلبہ بھی۔

مسافروں پر ہی موقوف نہیں، جہاز میں ادھر ادھر ایئرہوسٹسوں اور سٹیورڈز کے جسم بھی بکھرے پڑے ہیں، جو اب کسی اور کی تو کیا، اپنی مدد کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

لیکن اسی منظر کا سب سے بھیانک حصہ ابھی میں نے آپ کو نہیں دکھایا۔ اب تصور کریں کہ صرف کاک پٹ زندہ ہے۔ اس کی بتیاں روشن ہیں، انسٹرومنٹ کلسٹر کام کر رہا ہے جس سے کبھی کبھار ہلکی سی بیپ یبپ کی صدا آ جاتی ہے۔۔۔ اور ایک شخص، جہاز کا پائلٹ، اپنی کرسی پر سیٹ بیلٹ سے بندھا ہوا بیٹھا ہے، خاموش، سوچوں میں گم۔ جہاز خودکار سسٹم کے تحت اڑے چلا جا رہا ہے، مگر اس کو پائلٹ نے کسی ملک، کسی ہوائی اڈے، کسی منزل تک پہنچنے کا پتہ نہیں بتایا۔ بس یہی ہدایات ہیں کہ جب تک دم میں دم ہے، یعنی ایندھن باقی ہے، اڑتے چلے جاؤ۔

اس پائلٹ کے ذہن میں کیا چل رہا ہے؟ وہ کن سوچوں میں گم ہے؟ اس کے ارادے کیا ہیں؟ کیا وہ کبھی کبھی کاک پٹ کا بھاری دروازہ کھول کر جہاز کے کیبن کا چکر بھی لگا کر وہاں کے مقتل کا بھی جائزہ لیتا ہے کہ وہاں مسافر کس حال میں مرے پڑے ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ کسی ڈراونی فلم کا سین نہیں، بلکہ آج سے ٹھیک 10 سال قبل آج ہی کے دن غائب ہونے والے ملائیشین ایئر لائن کی پرواز ایم ایچ 370 کا ماجرا ہے، جس کا نہ تو آج تک ملبہ ملا ہے، نہ ہی اس واقعے کی کوئی تشفی بخش توجیہ سامنے آئی ہے۔

 

اس جہاز کے انجام کے بارے میں متعدد مفروضے پیش کیے گئے ہیں۔ اسے امریکہ نے مار گرایا، روس نے ہائی جیک کر لیا، برمودا ٹرائی اینگل کی طرز کے کسی بلیک ہول نما نے نگل لیا، دہشت گردی کا نشانہ بنا، آسمانی بجلی نے اسے بھسم کر دیا، فنی خرابی، کمپیوٹر سسٹم کا بریک ڈاؤن، شہابِ ثاقب سے ٹکر، کوئی بھی تشریح، کوئی بھی توجیہہ اس بات کی وضاحت کرنے سے قاصر ہے کہ جہاز کے تمام مواصلاتی آلات ایک ساتھ کیسے بند ہو گئے؟

مواصلاتی رابطے منقطع ہونے کے بعد سات گھنٹے سے زائد وقت تک یہ کیسے اڑتا رہا؟ بجائے کسی ہوائی اڈے یا خشکی پر اترنے کی کوشش کی بجائے جہاز نے کھلے سمندر کا رخ کیوں کیا جہاں سینکڑوں میل تک خشکی کا نام و نشان تک نہ تھا؟

پچھلے دس سال کی تحقیق و تفتیش کے بعد ماہرین کی اکثریت کا نظریہ ہے کہ جہاز کو کوئی حادثہ پیش نہیں آیا بلکہ وہ سوچے سمجھے خودکش منصوبے کا نشانہ بنا ہے اور یہ کام پائلٹ نے کیا، جو اپنے ساتھ 227 مسافروں اور عملے کے 11 ارکان کو بھی لے ڈوبا۔

جہاز میں دو پائلٹ تھے، 27 سال فارق عبدالحامد اور 53 سالہ زہری احمد شاہ۔ ناتجربہ کار فارق سے اتنے بڑی اور پیچیدہ منصوبہ بندی کرنے کی توقع نہیں، اس لیے شبہات کا رخ زہری احمد شاہ کی جانب ہے، جن کا تجربہ فارق احمد کی عمر کے برابر، یعنی 27 برس تھا۔ ان کا جہاز اڑانے کا کل وقت 18 ہزار گھنٹے سے زائد تھا۔

زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ زہری احمد شاہ نے اپنے معاون پائلٹ فارق کو کسی کام سے کاک پٹ سے باہر بھیج کر دروازہ پیچھے سے بند کر لیا، اس کے بعد انہوں نے جہاز کے کیبن کو ڈی پریشرائز کر دیا، جس سے جہاز کی آکسیجن بند ہو گئی۔

چونکہ جہاز 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا، اس لیے جلد ہی آکسیجن ختم ہو گئی۔ جہاز میں ہر مسافر کے لیے صرف 15 منٹ کی آکسیجن تھی، جس کے ختم ہونے کے بعد مسافر دم گھٹ کر مر گئے۔ کاک پٹ میں زیادہ آکسیجن ہوتی ہے اس لیے زہری احمد زندہ رہے۔

معمے کی ایک کڑی جو زہری کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ ان کے گھر موجود فلائیٹ سمولیٹر ہے۔ ملائیشین پولیس نے ان کے گھر کی تلاشی لی تو اس سمولیٹر ہر انہیں ایک ایسی ہی فلائٹ کا نقشہ ملا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے پہلے سے اس پرواز کی مشق کر رکھی تھی۔

زہری احمد نے یہ ہیبت ناک کام کیوں کیا؟ انہوں نے کوئی پیغام نہیں چھوڑا، کوئی شواہد نہیں کہ انہوں نے کسی کو اس بارے میں کچھ بتایا ہو۔ ایئر پورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں اور جہاز کے غائب ہونے سے پہلے تک ان کی چال ڈھال، بات چیت اور رویے میں کوئی سراغ نہیں ملتا کہ وہ اس قسم کا کوئی کام کرنے جا رہے ہیں، لیکن پھر بھی تمام کھرے انہی کی طرف جاتے ہیں۔

اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ زہری احمد کی اپنی بیوی سے تلخی چل رہی تھی۔ ان کے بالغ بچے گھر چھوڑ کر جا چکے تھے اور زہری احمد تنہائی کی زندگی گزار رہے تھے۔

زہری کے کچھ دوستوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ بیوی کے جانے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو گئے تھے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی بعض ایئر ہوسٹسوں سے قربت تھی، جس کا ان کی بیوی کو پتہ چل گیا تھا۔

مزید یہ کہ ان کے ایک ماڈل کے ساتھ تعلقات تھے اور وہ ان کی فیس بک پوسٹوں پر اکثر تبصرے کرتے رہتے تھے، لیکن ہمارے خیال سے ان میں سے کوئی بات بھی ایسی غیر معمولی نہیں جو کسی انسان کو اس قدر ہولناک، تباہ کن قدم اٹھانے پر مائل یا مجبور کرے۔

اس بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہم ابھی تک اپنی تمام تر سائنسی ترقی کے بعد انسانی ذہن کی اتھاہ تاریکیوں میں جھانک نہیں سکے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ انسان جو ایک جانب تو جان پر کھیل کر ایثار کا مظاہرہ کرنے کا اہل ہے، دوسری جانب وہ ایسے گھناؤنے کام کر بیٹھتا ہے، جس کی کوئی توجیہہ نہیں دی جا سکتی۔

ایم ایچ 370 بحرِ ہند کی گہرائیوں میں کہیں دفن ہے اور اس کے ساتھ ہی پائلٹ زہری احمد شاہ کا محرک بھی غرق ہو گیا ہے۔ اگر جہاز کا بلیک باکس مل بھی جائے تو شاید زہری احمد کے ذہن کے بلیک ہول تک کبھی بھی رسائی نہ مل سکے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ