نئی تعلیمی پالیسی: ’خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا تعلیمی معاملات سے کیا تعلق؟‘

پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے قائم کونسل نے وفاقی وزارت تعلیم کو نئی تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جس پر مبصرین تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔

10 فروری، 2019 کو طلبہ کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے کراچی سٹیڈیم آ رہے ہیں۔ سپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے وفاقی وزارت تعلیم کو نئی تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے (اے ایف پی)

پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے قائم سپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے وفاقی وزارت تعلیم کو نئی تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کے بعد سیاسی و دیگر حلقوں میں اس فیصلے پر تنقید کی جا رہی ہے۔

گذشتہ برس حکومت نے ایس آئی ایف سی قائم کی تھی، جو اب تعلیمی معاملات کے حوالے سے متحرک ہو گئی ہے۔ 

کونسل کی ویب سائٹ پر درج تفصیل کے مطابق ادارے کا مقصد زراعت و مویشی، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام، کانوں اور معدنیات، توانائی، صنعت، سیاحت و نجکاری کے شعبوں میں دوست ممالک کی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ 

ویب سائٹ کے مطابق کونسل سرمایہ کاری میں سہولت کے لیے ’سنگل ونڈو‘ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی اور ’پورے حکومتی نقطہ نظر‘ کے ذریعے ممکنہ سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنائے گی۔

تاہم ویب سائٹ پر تعلیم کے شعبے سے متعلق کوئی ذکر موجود نہیں۔ جمعرات کو وفاقی وزارت تعلیم کے زیر صدارت اور ایس آئی ایف سی کے زیر اہتمام ایک اجلاس میں وزارت تعلیم کو تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لینے کے بعد دو ماہ میں نئی ​​تعلیمی پالیسی کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی گئی۔

وفاقی وزارت تعلیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو ایک بیان میں کہا کہ اندازے کے مطابق دو کروڑ 60 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔

اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ ’اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی فریم ورک اور حکمت عملی کی فوری ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے۔‘

بیان کے مطابق کوآرڈینیٹر ایس آئی ایف سی لیفٹیننٹ جنرل سرفراز نے اس بات پر زور دیا کہ ’تعلیم اور سکل ڈویلپمنٹ کے چیلنجز سے نمٹے بغیر سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی جبکہ یہ ادارہ آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے الگ سے کام کرے گا۔‘

وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے مستقبل میں مارکیٹ کے لیے طلبہ کو متعلقہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق سکلز سیکھنے پر زور دیا ہے۔ 

آئین پاکستان میں کی گئی اٹھارہویں ترمیم کے مطابق شعبہ تعلیم اب ایک صوبائی موضوع ہے۔

جس کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جہاں ایس آئی ایف سی کے قیام کا بنیادی مقصد بیرونی سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنا تھا وہاں یہ ادارہ تعلیم سے متعلق فیصلہ سازی کیسے کر سکتا ہے؟

ایک جانب کونسل کا وژن ’پاکستان کی معاشی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے‘ تو دوسری جانب کیا سکول نہ جانے والے بچوں سے متعلق معاملات طے کر سکتا ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کے لیے مختلف ماہرین سے بات کی اور ان سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی آئین کی اٹھارہویں ترمیم پر کام کر چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ایس آئی ایف سی کے تعلیم کے شعبے اور سکول سے باہر بچوں سے متعلق اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’ایس آئی ایف سی کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے تشکیل دیا گیا جو اسے تعلیم یا اس سے متعلقہ معاملات دیکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ صوبائی خود مختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر سکول سے باہر بچوں کے سوال پر کسی بھی طرح کی ہم آہنگی کی ضرورت ہے تو آئینی فورم مشترکہ مفادات کی کونسل ہے، وفاقی حکومت صرف وفاقی علاقے کی حد تک تعلیمی پالیسی لے سکتی ہے صوبے کی نہیں۔

جماعت اسلامی سے منسلک سینیٹر مشتاق احمد نے کہا: ’مجھے حیرانی ہوئی کہ ایس آئی ایف سی کا تعلیم سے کیا تعلق ہے؟ اگر سرمایہ کاری کی بات ہو رہی ہے تو کیا یہ تعلیم کو فروخت کرنا ہے؟

’یہ اسلام آباد سے ملک بھر کو چلانے کا پلان ہے، اور صوبوں کے جو تھوڑے بہت اختیارات ہیں وہ بھی ختم ہو رہے ہیں۔‘

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین رہنے والے سینیٹر عرفان صدیقی نے، جو مسلم لیگ ن کے رہنما بھی ہیں، کہا ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری اور افرادی قوت کی ترقی کے لیے سازگار ماحول دیکھ رہا ہے۔ 

’اس ضمن میں تعلیم اور سکلز پر کام کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ بیرون ممالک کام کرنے جانے والوں کے لیے انہیں قومی سطح پر لانا ہے۔

’اس اقدام کا یہ مطلب نہیں کہ وفاقی حکومت یا ایس آئی ایف سی اس پر قبضہ کر لے گی۔ یہ صوبوں سے اختیارات لینے سے متعلق اقدام نہیں۔‘

انہوں نے واحد قومی نصاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اس پر بھی وفاقی حکومت نے صوبائی وزرا کے ساتھ مل کر ہی کام کیا۔

ایس آئی ایف سی ہے کیا اور اس کے مینڈیٹ میں تعلیم ہے؟

جہاں ایس آئی ایف سی کی ویب سائٹ پر تعلیم کے شعبے میں اقدامات سے متعلق کوئی ذکر نہیں، وہیں دوسری جانب گذشتہ برس پارلیمان کے ایوان بالا میں سرمایہ کاری بورڈ ترمیمی بل لایا گیا جس میں ایس آئی ایف سی کو شامل کیا گیا۔ اس بل کو گذشتہ برس جولائی میں منظور کیا گیا تھا۔ 

انڈپینڈنٹ اردو کو حاصل سرمایہ کاری بورڈ ترمیمی بل کی کاپی کے مطابق سرمایہ کاری اور نجکاری، دفاع، زراعت، انفراسٹرکچر، سٹریٹیجک اقدامات، لاجسٹکس، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام اور انرجی کے معاملات تک محدود نہیں ہوں گے۔ 

بل میں کہا گیا کہ ایس آئی ایف سی ملک میں سرمایہ کاری کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت کو ان منصوبوں میں شامل کرے گا، کمرشل، مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ داروں کے ساتھ لین دین انتظامات اور معاہدے کرے گا۔ 

منظور کیے گئے بل کے مطابق ایس آئی ایف سی ریگولیٹری اداروں، پبلک سیکٹر اداروں، محکموں کو تجاویز اور ہدایت دے گا۔ جبکہ ریگولئٹری لائسنس، سرٹیفیکیٹ، قانون اجازت نامہ کے لیے ریگولیٹری اداروں، اتھارٹیز،  پبلک سیکٹر اداروں اور محکموں کو طلب کر سکے گا۔ 

بل کے متن کے مطابق ایس آئی ایف سی کے خلاف کوئی مقدمہ یا قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔

’تحقیقاتی ایجنسی، قانون نافذ کرنے والے ادارے، عدالت ایس آئی ایف سی کے تحت کمرشل سرگرمی، معاہدے، انتظامات کی تحقیقات اور تفتیش نہیں کر سکیں گے ماسوائے اس کے کہ کسی شخص کے بدنیتی میں ملوث ہونے کے ثبوت ہوں۔‘ 

قانونی ماہر عمران شفیق نے بل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ منظور کیے گئے بل کے مطابق اس کا مقصد بیرونی سرمایہ کاری لانا ہے، اسے راہ میں حائل مشکلات اور قانونی پیچیدگیوں کو عبور کرنے اور موقعوں کو مضبوط کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، تعلیم کا شعبہ سرمایہ کاری کے دائرے میں نہیں آتا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تعلیمی نظام، پالیسی یا اداروں کے حوالے سے اصلاحات یا دخل اندازی کا کوئی مینڈیٹ ایس آئی ایف سی کے قانون میں نہیں دیا گیا۔ 

’ایس آئی ایف سی کے منتخب شعبوں تک محدود نہ ہونے‘ سے متعلق سوال پر عمران شفیق نے جواب دیا کہ ’تعلیم سرمایہ کاری نہیں ہے۔

’اگر تعلیمی اداروں کو پرائیویٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے تو پھر یہ سرمایہ کاری کے اندر آ سکتا ہے ورنہ نہیں۔‘

انہوں نے کہا یہ قانون ہی سرمایہ کاری سے متعلق ہے جو معیشت کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر لایا گیا۔ جبکہ تعلیمی پالیسی سے متعلق ایس آئی ایف سی کے اقدامات اختیارات سے تجاوز ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان