صرف دو دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹک ٹاک پر 30 لاکھ سے زیادہ فالوورز

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک جوائن کرنے کے صرف دو دن بعد 30 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہو گئے۔

دو جون 2024 کو بنائے گئے تصویروں کے اس کولاج میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹک ٹاک کے لوگو کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک جوائن کرنے کے صرف دو دن بعد 30 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہو گئے۔

یہ وہی ایپ ہے جس کو بطور صدر انہوں نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی۔

شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ کو جوائن کرنے کے فیصلے کو صدارتی انتخابات کی دوڑ میں نوجوان ووٹرز تک رسائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پانچ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی کے جو بائیڈن سے ہے۔

ٹرمپ نے ہفتے کی رات ٹک ٹاک پر اپنے ہینڈل @realdonaldtrump سے ایک لانچ ویڈیو پوسٹ کی۔ اس ویڈیو میں 45 ویں صدر کو نیو جرسی کے نیوارک میں الٹیمیٹ فائٹنگ چیمپئن شپ (یو ایف سی) فائٹ میں شائقین کو مبارک باد دیتے ہوئے دکھایا گیا۔

اس ویڈیو کو اب تک 56 ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

انہوں نے ویڈیو میں کہا: ’یہ ایک اعزاز کی بات ہے۔‘ ویڈیو کا اختتام ٹرمپ کے کیمرہ مین سے یہ کہتے ہوئے ہوتا ہے: ’یہ ایک اچھا واک آن تھا، ٹھیک ہے؟‘

اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ’امریکی عوام سے براہ راست بات کرنے کے لیے دستیاب ہر ٹول کا استعمال کریں گے۔‘

ریپبلکن امیدوار کے ترجمان سٹیون چیونگ نے ٹک ٹاک جوائن کرنے کے فیصلے کے بارے میں ایک بیان میں کہا: ’ہم کوئی محاذ بغیر دفاع کے نہیں چھوڑیں گے اور یہ ٹرمپ کے حامی اور بائیڈن مخالف مواد استعمال کرنے والے نوجوان صارفین تک مسلسل رسائی کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے ٹک ٹاک پر آغاز کے لیے یو ایف سی ایونٹ سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہو سکتی تھی جہاں ان کا ایک ہیرو کی طرح استقبال ہوا اور ہزاروں مداحوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔‘

دوسری جانب جو بائیڈن کی انتخابی مہم نے فروری میں ٹک ٹاک میں شمولیت اختیار کی لیکن ٹرمپ کے برعکس اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ان کے فالوورز کی تعداد  ساڑھے تین لاکھ سے بھی کم ہے۔ صدر بائیڈن نے ایک بل پر دستخط کرنے کے باوجود ان کی انتخابی مہم نے اثر انداز ہونے کے لیے اس ایپ کا استعال کیا ہے۔ اس بل کے تحت چینی کمپنی بائٹ ڈانس کو اپنی فروخت نہ کرنے کی صورت میں پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادھر بائٹ ڈانس نے اس بل کو عدالتوں چیلنج کیا ہے جس کے تحت اسے اگلے سال جنوری تک ٹک ٹاک فروخت کرنے یا پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وائٹ ہاؤس چین کی ملکیتی کمپنی کو قومی سلامتی کو جواز بنا کر ہٹانا چاہتی ہے۔

فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن دونوں نے خبردار کیا ہے کہ بائٹ ڈانس صارف کا ڈیٹا جیسے کہ براؤزنگ ہسٹری، لوکیشن اور بائیو میٹرک شناخت چین کی حکومت کے ساتھ شیئر کر سکتی ہے۔

لیکن ٹک ٹاک نے دلیل دی ہے کہ وہ امریکی صارف کا ڈیٹا چینی حکومت کے ساتھ شیئر نہیں کرے گی اور اس نے اپنے صارفین کی رازداری کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں۔

2020 میں سابق صدر کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی کوشش کو عدالتوں نے روک دیا تھا۔ انہوں نے مارچ میں کہا کہ یہ پلیٹ فارم قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے لیکن یہ بھی تسلیم کیا کہ اس پر پابندی سے کچھ نوجوانوں کو نقصان پہنچے گا اور اس پابندی سے صرف میٹا پلیٹ فارمز کی ایپ فیس بک کو تقویت ملے گی، جس پر انہوں نے سخت تنقید کی ہے۔

ریپبلکن امیدوار نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو بتایا: ’سچ کہوں تو ٹک ٹاک پر بہت سارے لوگ ہیں جو اسے پسند کرتے ہیں۔ ٹک ٹاک پر بہت سارے بچے بھی ہیں جو اس کے بغیر پاگل ہو جائیں گے۔‘

ٹرمپ کی پہلے ہی سوشل میڈیا پر ایک فعال موجودگی ہے جس میں ایکس پر ان کے 87 ملین سے زیادہ فالوورز ہیں اور ان کے ذاتی پلیٹ فارم ’ٹروتھ‘ پر 70 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں جہاں وہ تقریباً روزانہ پوسٹ کرتے ہیں۔

ہفتے کے روز ٹرمپ کا نیوارک کے پرڈینشل سینٹر میں ہونے والے مقابلے کے موقع پر پرجوش استقبال کیا گیا جہاں عوام نے ’ہمیں ٹرمپ سے پیار ہے‘ کے نعرے لگائے اور بائیڈن کے بارے میں توہین جملے کسے۔

نیویارک کی عدالت کی جانب سے جمعرات کو انہیں 34 الزامات پر مجرم قرار دینے کے بعد یہ ٹرمپ کی پہلی عوامی ریلی تھی۔ اس مقدمے میں ان پر 2016 کے انتخابات پر غیر قانونی طور پر اثر انداز ہونے کی سکیم کے تحت ایک پورن سٹار کو دی گئی رقم کی ادائیگی کو چھپانے کا الزام تھا۔ پورن سٹار کا دعویٰ تھا کہ ٹرمپ کے ان کے ساتھ جنسی تعلق تھے۔

تاہم ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور وہ فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کو اس مقدمے میں 11 جولائی کو سزا سنائی جائے گی۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ