جنگِ ستمبر کے 60 سال، اس وقت کیا ہوا تھا؟

پاکستان اور انڈیا جنگ کی نوبت تک کیوں پہنچے تھے اور اس وقت کیا حالات چل رہے تھے، اس بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔

12 اگست 1965 کی اس تصویر میں اڑی پونچھ سیکٹر میں تعینات انڈین فوجی ایک ہیوی مشین گن کے ساتھ علاقے کی نگرانی کرتے ہوئے(اے ایف پی)

جنگ ستمبر 1965 کو 60 سال ہو چکے ہیں۔ یہ پاکستان اور انڈیا کی دوسری جنگ تھی اور اس کے بعد سے مزید تین جنگیں ہو چکی ہیں۔

اس جنگ کو جسے دونوں ممالک اپنی اپنی فتح گردانتے ہیں، کے بارے میں زیادہ تر لوگ صرف اتنا جانتے ہیں کہ انڈیا نے 6 ستمبر کی رات منہ اندھیرے لاہور پر حملہ کر دیا جسے پاکستانی فوج نے پسپا کر دیا۔ دونوں ممالک جنگ کی نوبت تک کیوں پہنچے تھے اور اس وقت کیا حالات چل رہے تھے اس بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔

 یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ اس جنگ سے صرف ایک سال پہلے کے بیانات پڑھیں تو ایسے لگتا ہے کہ صدر ایوب انڈیا کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے میں پیش پیش تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم اور سرحدوں کے تعین سمیت تجارت کے معاہدے ہو رہے تھے، جس سے یہ قیاس کیا جاتا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا مگر پھر اچانک کیا ہوا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان 17 روز کی دھواں دھار جنگ ہو گئی۔

یہ جنگیں ابھی تک جاری ہیں۔ زمانہ امن ایک جنگ سے دوسری جنگ کے درمیان وقفے سے زیادہ نہیں۔ 60 سال پہلے اگر ہم صدر ایوب کی پالیسیوں کو جانچنے کی کوشش کریں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتے تھے لیکن انہیں اس جانب دھکیل دیا گیا تھا۔

صدر ایوب کی مشترکہ دفاع کی تجویز؟

ڈاکٹر سرفراز مرزا اپنی کتاب Pakistan India Relations A Chronology میں لکھتے ہیں کہ ’پاکستان کے وزیر خارجہ منظور قادر نے 19 اکتوبر 1959 کو انکشاف کیا کہ انہوں نے امریکی صدر آئزن ہاور سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مشترکہ دفاع کے تصور پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔‘

کیا یہ منظور قادر کا اپنا پلان تھا یا اس کے پیچھے اس وقت کے صدر ایوب بھی تھے، جنہوں نے مارچ 1959 میں امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا تھا جس میں امریکہ کو پاکستان میں اپنے فوجی اڈے بنانے کی اجازت دے دی گئی تھی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس معاہدے پر چین نے پاکستان سے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے متنبہ کیا تھا کہ یہ اڈے دراصل  کمیونسٹ چین کے خلاف اور جمہوریہ چین کی حمایت میں استعمال کیے جائیں گے۔

فرحت محمود اپنی کتاب A History of US-Pakistan Relations میں لکھتے ہیں کہ چین نے واضح طور پر پاکستان کو کہا تھا کہ ’پاکستان امریکہ کی اس سازش کی پیروی کر رہا تھا، جس کا مقصد دو چین بنانا تھا۔ صدر ایوب نے اسی تناظر میں امریکہ کو پاکستان و انڈیا کے مشترکہ دفاع کی تجویز دی تھی، جس کا مقصد بیرونی خطرے سے نمٹنا تھا، لیکن پانچ نومبر کو ہی انڈین وزیراعظم جواہر لال نہرو نے پاکستان کی یہ تجویز رد کر دی تھی۔

’صدر ایوب نے برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر پاک انڈیا مشترکہ دفاع کا سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ گویا امریکی اتحاد کا حصہ بن کر ایک طرف پاکستان نے چین کو ناراض کر دیا تھا اور دوسری جانب انڈیا سے تحفظ کی ضمانت بھی کہیں سے نہیں مل رہی تھی۔ تین مارچ 1964 کو صدر ایوب نے بیان دیا کہ سیٹو اور سینٹو میں پاکستان کی شمولیت کا مقصد کمیونزم کے خطرے کا مقابلہ کرنا ہے لیکن پاکستان کو اس سے بھی بڑے خطرے کا سامنا انڈیا کی جانب سے ہے۔‘

کیا جنگ ستمبر کی ایک وجہ امریکہ بھی تھا؟

انڈیا نے 1950 سے ہی روسی اسلحہ خریدنا شروع کر دیا تھا۔ پاکستان نے1954 میں روس کے خلاف بننے والے اتحاد سیٹو کے ساتھ 1955 میں سینٹو میں بھی شمولیت اختیار کر لی، جس کا ایک مقصد مسئلہ کشمیر پر انڈیا کے خلاف مغربی ممالک کی مدد کا حصول بھی تھا۔

لیکن 1962 کی انڈیا چین جنگ کے بعد امریکہ نے پاکستان سے بالا بالا انڈیا کے ساتھ بھی دفاعی تعلقات استوار کر لیے اور اسے بھی اسلحے کی فراہمی شروع کر دی، جس کی وجہ سے صدر ایوب اور امریکہ میں فاصلے پیدا ہو گئے۔

امریکہ نے نہ صرف مسئلہ کشمیر پر  کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ چین مخالفت میں انڈیا کے ساتھ پینگیں بڑھا لیں۔ پاکستان جس نے چین کی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے امریکہ کو فوجی اڈے دیے تھے، وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کشمیر کی آزادی کے لیے اسے خود ہی کچھ کرنا ہو گا۔

انڈین حکومت چین کے خطرے کے خلاف روس کے ساتھ ساتھ امریکی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ صدر ایوب نے ترپ کا پتہ کھیلتے ہوئے 2 مارچ 1963 کو چین کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کا معاہدہ کر لیا جس پر انڈیا نے شدید احتجاج کیا۔ یہیں سے پاکستان کی چین کے ساتھ قربت اور امریکہ سے دوری شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے۔

 انڈیا کے ساتھ دوستی کا وہ خواب جو بکھر گیا

1960  اور 1961 کے سال اس حوالے سے بہت اہم ہیں کہ ان میں ہی دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی سندھ طاس معاہدہ ہوا۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مغربی سرحدوں کی حد بندی کا معاہدہ بھی طے پا گیا جس کی رو سے 340 میل کی سرحد پر کچھ علاقے پاکستان نے انڈیا کو دے دیے اور کچھ انڈیا نے پاکستان کے حوالے کر دیے۔

منقسم جائیدادوں کے بارے میں بھی معاملات طے پا گئے۔ صدر ایوب انڈیا کے ساتھ دوستی کے بیانات دینے لگے لیکن جب مغربی بنگال، اتردیش، آسام اور تریپورہ میں ہندو مسلم فسادات کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد لٹے پٹے مسلمان خاندان مشرقی پاکستان ہجرت پر مجبور ہو گئے تو پاکستان نے اس پر شدید احتجاج کیا۔

صدر ایوب 3 جنوری1962 کو یہ کہنے پر  مجبور ہو گئے کہ ’پاکستان اور اس کے عوام کو ایسے عناصر سے سخت خطرہ ہے جنہوں نے اسے دل سے قبول نہیں کیا، اس لیے قوم کو کسی دوسرے ملک پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنی تیاری خود کرنی ہو گی۔‘ صدر ایوب کا اشارہ واضح طور پر امریکہ کی جانب تھا جو چین دشمنی میں انڈیا کو دھڑا دھڑ اسلحہ فراہم کر رہا تھا۔

 نہرو کی اچانک موت سے امن کی امیدیں دم توڑ گئیں

ممتاز کشمیری رہنما اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے بانی شیخ عبداللہ انڈین وزیراعظم نہرو کا خصوصی پیغام لے کر 25 مئی 1964  کو صدر ایوب سے ملے۔ اپنی کتاب ’آتش چنار‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ انہیں نہرو نے دہلی بلایا اور کہا کہ ’وقت آگیا ہے کہ ہندوستان کو ایک فراخ دل بڑے بھائی کی طرح پہلا قدم اٹھانا چاہیے اور کشمیر کی گتھی کو سلجھانے میں پہل کرنی چاہیے کیونکہ اسی نے ان دو کے درمیان  کدورت کی دیوار حائل کر دی ہے۔ میں اپنی زندگی کی شام میں یہ کام سرانجام دینا چاہتا ہوں۔ اس مقصد کے لیے آپ پُل کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان جا کر صدر ایوب کو دہلی آنے کے لیے آمادہ  کریں۔‘

شیخ عبداللہ سے ملاقات میں صدر ایوب نے جون کے وسط میں دہلی آنے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی مگر دو دن بعد خبر ملی کہ نہرو کا انتقال ہو گیا ہے۔ شیخ عبد اللہ نے صدر ایوب کو نہرو کا کون سا خاص پیغام پہنچایا تھا کہ جس کے ایک ہفتے بعد ہی صدر ایوب نے بیان دیا کہ پاکستان کو انڈیا کے ساتھ کنفیڈریشن یا فیڈریشن قابل قبول نہیں ہے۔

دوسری جانب  شیخ عبد اللہ نے لکھا کہ انہوں نے اس ملاقات میں ایسی کوئی بھی تجویز نہیں دی تھی۔ پھر آنے والے مہینوں میں انڈیا کی نئی سیاسی قیادت کے ساتھ نہ صرف مسئلہ کشمیر پر ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا بلکہ انڈیا نے مشرقی اور مغربی پاکستان کی سرحدوں پر چھیڑ خانی شروع کر دی۔

 

 شاستری حکومت کے آتے ہی سرحدیں گرم ہو گئیں

 14مارچ 1965 کو مشرقی پاکستان کے علاقے ڈھاگرام پر انڈین افواج نے قبضہ کر کے وہاں سے پاکستانی باشندوں کو نکال دیا۔ پاکستان نے انڈین فوجوں کے انخلا کا مطالبہ کیا جس پر دو طرفہ فائرنگ شروع ہو گئی۔

20 مارچ کو انڈین حکومت فائربندی پر رضامند ہو گئی لیکن پھر سات اپریل کو پاکستان کے علاقے رن آف کچھ میں انڈین افواج داخل ہوئیں تو دو طرفہ گولہ باری شروع ہو گئی، جس پر 14 اپریل کو انڈین حکومت نے غیر مشروط طور پر سیز فائر کی پیشکش کر دی، لیکن 21 اپریل کو دوبارہ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی۔

پاکستانی فوج نے آگے بڑھ کر انڈین افواج کی جانب سے متنازع علاقے میں چیک پوسٹیں قائم کرنے کی انڈین کوشش ناکام بناتے ہوئے علاقے پر قبضہ کر لیا، جس کے جواب میں  انڈین افواج  یکم مئی کو مشرقی پاکستان کے علاقے راجشاہی میں اکٹھی ہونا شروع ہو گئیں۔

 4 مئی کو انڈیا نے پاکستان ایئرفورس کے ایک ٹرانسپورٹ جہاز کو ڈھاکہ جاتے ہوئے نئی دہلی ایئرپورٹ پر اتار کر دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کر دی، جس کے جواب میں ذوالفقارعلی بھٹو جو اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے، نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انڈیا کی کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

 10 جون کو پاکستان نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں رن آف کچھ تنازعے پر اقوام متحدہ سے مداخلت کی درخواست دے دی۔ 18 جون کو صدر ایوب نے دولتِ مشترکہ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں پر افواج کی کمی پر زور دیتے ہوئے تنازعات کے حل پر زور دیا۔

30 جون کو دونوں ملکوں نے رن آف کچھ پر فوری طور پر جنگ بندی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط  کر دیے، جس پر صدر ایوب نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت نہ صرف دونوں ملک ثالثی پر رضا مند ہوئے ہیں بلکہ اس سے دیگر تنازعات پر بھی ثالثی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

یکم جولائی کو صدر ایوب نے ریڈیو پر اپنی ماہانہ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انڈیا سرحدوں سے اپنی افواج واپس  بلانے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ 18 جولائی کو پاکستان نے سلامی کونسل کو بتایا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان رن آف کچھ پر معاہدہ ہو گیا ہے۔

 15 جولائی کو انڈین حکومت پاکستان کی اس تجویز پر رضا مند ہو گئی کہ رن آف کچھ کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے وزارتی سطح پر میٹنگ کی جائے۔ اس سلسلے میں طے پایا کہ 20 اگست کو دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ ملاقات کریں گے۔ 4 اگست کو بتایا گیا کہ 29 جولائی کو دونوں ملکوں کے بارڈر سکیورٹی کے حکام کے درمیان اس معاملے پر ملاقات ہوئی ہے۔

7 اگست کو مشرقی پاکستان کے سرکاری ترجمان نے بتایا کہ انڈیا نے تیستا دریا کا پانی روک کر مشرقی پاکستان کی فصلوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ 18 اگست کو انڈیا نے 20 اگست کو ہونے والی  دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس منسوخ کر دی اور کہا کہ پاکستان یہ مسئلہ ٹربیونل میں لے جائے۔

23 اگست کو انڈین افواج نے پاکستانی گجرات کے گاؤں اعوان پر بمباری کی۔ 25 اگست کو حکومتِ پاکستان نے کراچی میں انڈین ہائی کمشنر کو بلا کر کہا کہ انڈین افواج کی گولہ باری سے متاثرہ پاکستانی  شہریوں کو انڈیا معاوضہ ادا کرے۔

  4 ستمبر کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی فورسز نے پاکستانی فوج  کی مدد سے دریائے توی کو عبور کر لیا۔ 4 ستمبر کو اقوامِ متحدہ میں انڈین مندوب نے کہا کہ فائر بندی صرف اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان  کی جارحیت کی مذمت کی جائے گی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک خط میں انڈین وزیراعظم لال بہادر شاستری لکھا کہ پاکستانی افواج کی واپسی تک فائر بندی نہیں ہو سکتی اور پاکستان کو کشمیر سے در اندازی بھی بند کرنی ہو گی۔

اور اس کے بعد 6 ستمبر کو انڈین افواج نے لاہور پر حملہ کر دیا۔ یوں دونوں ممالک کے درمیان 17 روز کا خون ریز معرکہ ہوا۔ صدر ایوب جو امن کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتے تھے وہ جنگ کے ذریعے بھی یہ مسئلہ حل نہ کروا سکے۔

اس جنگ کو 60 سال ہو چکے ہیں۔ اگر نہرو اچانک نہ مرتے تو کیا مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی نوبت ہی نہ آتی؟ صدر ایوب کی چین سے قربت امریکہ سے مایوسی کا نتیجہ تھی۔ امریکہ پاکستان کا اتحادی ہوتے ہوئے بھی کشمیر پر کوئی کردار ادا نہیں کر سکا؟ 60 سال گزرنے کے باوجود بھی یہ سوال اسی جگہ موجود ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ