کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے شہر میں حالیہ بارشوں کے باعث شہری سیلاب یا اربن فلڈنگ کا ذمہ دار شہر کے پرانے انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی کو قرار دیا ہے۔
پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر کراچی میں گذشتہ کئی سالوں سے بارشوں کے بعد اربن فلڈنگ کی صورت حال عام ہو گئی ہے۔ بارش کے بعد شہری گھروں میں پانی بھر جانے، سڑکوں پر پڑنے والے گڑھوں اور پانی میں پھنسے لوگوں اور گاڑیوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے نظر آتے ہیں۔
سیاسی جماعتیں اپنی مخالف پارٹیوں اور خصوصاً برسر اقتدار جماعت کو شہرِ قائد میں اربن فلڈنگ کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔
اسی تناظر میں کراچی میں اربن فلڈنگ کی بڑی وجوہات اور ممکنہ حل جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے تفصیلی گفتگو کی۔
بقول مرتضیٰ وہاب: ’موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان بھر کی طرح کراچی میں بھی معمول سے زیادہ بارش ہونے لگی ہے۔ کراچی ایک پرانا شہر ہے اور اس میں نکاسی آب کا نظام بھی پرانا ہے اور نکاسی آب کے نظام کی گنجائش سے زیادہ بارش کے بعد اربن فلڈنگ ایک عام بات ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ ’کراچی میں نکاسی آب کے نظام میں 40 ملی میٹر بارش کے پانی کو نکالنے کی گنجائش موجود ہے۔ اگر بارش اس گنجائش سے چھ گنا زیادہ ہو جائے تو اربن فلڈنگ نا گزیر ہو جاتی ہے۔‘
کراچی کے میئر کے مطابق: ’بارش کے پانی کی نکاسی کو سہل کرنے کی غرض سے نالوں کے کناروں سے تجاوزات ختم کر کے انہیں چوڑا کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اس کے لیے بڑے اخراجات درکار ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ 2020 کی بارشوں کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اورنگی نالہ، محمود آباد نالہ اور گجر نالہ کو بحال کیا جائے اور اس سلسلے میں 6800 خاندانوں کو تجاوزات سے بے دخل بھی کیا گیا۔
بقول میئر: ’دو سال کے عرصے میں تینوں نالوں کی بحالی پر 25 ارب روپے کی لاگت آئی، جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر متاثرین کو حکومت نے زمین کے علاوہ گھر تعمیر کرنے کے لیے بھی 14 ارب روپے ادا کیے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ زمین اور تعمیر کے اخراجات کی وجہ سے منصوبے کی مجموعی لاگت 50 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
مرتضیٰ وہاب نے گفتگو میں شہر کی مختلف حدود، مختلف اداروں کے زیر انتظام ہونے اور فنڈنگ کی کمی کا معاملہ بھی دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام 46 بڑے نالے ہیں، جب کہ 514 چھوٹے نالے ٹاؤنز کی ذمہ داری ہیں، یعنی کُل 560 نالے۔
بقول میئر: ’اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 560 نالوں کی بحالی کے لیے کتنی رقم درکار ہو گی؟ کیا بلدیہ عظمیٰ کراچی، سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے پاس اتنی رقم ہے کہ تمام نالوں کو بحال کیا جا سکے؟‘