پاکستان میں کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کا رجحان بہت زیادہ بڑھ رہا ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مطابق پاکستانی شہری تقریباً 25ارب ڈالرز کی کرپٹو کرنسی کے مالک ہیں جبکہ بائنانس کے مطابق پاکستان کرپٹو کرنسی کی آٹھویں بڑی مارکیٹ ہے۔
ڈیجیٹل/ کرپٹو کرنسی کے حوالے سے وفاقی حکومت، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور منسٹر آف سٹیٹ فار کرپٹو اینڈ بلاک چین بلال بن ثاقب کافی متحرک دکھائی دے رہے ہیں اور تین ماہ میں تین بڑے فیصلے کیے گئے ہیں۔
جون 2025 میں عالمی ماہر اور امریکی ارب پتی مائیکل سیلر کو مشیر بنایا گیا، جولائی 2025 میں صدر پاکستان نے پاکستان ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2025 منظور کیا، اگست 2025 میں جاپان سے سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی کے لیے معاہدہ کیا گیا اور اگست کے آخری ہفتے میں پاکستان ورچوئل ایسٹس اتھارٹی کی پہلی میٹنگ بھی کر لی گئی ہے۔
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے کس کرپٹو کرنسی ماڈل کو اپنا سکتی ہے اور اس کے معاشی اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟
محمد ہارون دبئی میں دنیا کی پہلی پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ انکارپوریشن بلاک چین ٹوکن ایکسچینج کے ایڈوائزر رہے ہیں اورکرپٹو کرنسی کے حوالے سے حکومت پاکستان کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
انہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کرپٹو کرنسی مڈل مین، بینکس اور منی ایکسچینج کی مداخلت کے بغیر براہ راست خریدوفروخت کا نظام ہے، جس میں منی لانڈرنگ کو ٹریس کرنا بہت آسان ہے، کیونکہ ہر ٹرانزیکشن کا ڈیجیٹل ٹریک ریکارڈ اور فٹ پرنٹ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ قانون سازی کے ذریعے اس پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘
تاہم محمد ہارون ’کسی ایک کی بجائے بٹ کوائن اور ایتھریم دونوں ماڈلز کو ساتھ لے کر چلنے‘ کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ پچھلے ماہ اطلاعات تھیں کہ صدر پاکستان نے ورچوئل ایسٹس ایکٹ پر دستخط کر دیے ہیں لیکن اس کی دستخط شدہ کاپی ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکی اور اس سلسلے میں کیا ایس او پیز بنائے گئے یہ بھی نہیں بتایا گیا۔
ہارون نے یہاں ایک مزید پیچیدہ مسئلے کی نشاندہی کی ہے اور بتایا کہ کرپٹو مائننگ کے لیے حکومت کو بجلی سستی کرنی پڑے گی، ورنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق: ’بٹ کوائن ماڈل فائدہ مند ہے۔ لیکن یہ انرجی بیکڈ پروجیکٹ ہے۔ حکومت نےکرپٹو کرنسی مائننگ کے لیے دو ہزار میگا واٹ بجلی مختص کر رکھی ہے۔ اس وقت انڈسٹری کو بجلی 15 سینٹس پر مل رہی ہے لیکن کرپٹو مائننگ اسی وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے، اگر بجلی پانچ سینٹس پر ملے۔ بجلی کا زیادہ سے زیادہ ریٹ آٹھ سینٹس ہو سکتا ہے، لیکن حکومت یہ ریٹ بھی دینے کو تیار نہیں۔ آٹھ سینٹس سے مہنگی بجلی پر کرپٹو مائننگ وارے میں نہیں رہتی۔ اس سے اوپر ریٹ پر مائننگ نہیں ہو سکتی اور سرمایہ سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک منتقل ہو سکتا ہے۔‘
بقول محمد ہارون: ’حکومت بجلی ٹیرف کے عوض مخصوص شرح سے بٹ کوائن حاصل کرے۔ دو ہزار میگا واٹ بجلی ٹیرف کے عوض سالانہ کم از کم تقریبا پانچ سو بٹ کوائنز مل سکتے ہیں۔ اس وقت ایک بٹ کوائن تقریبا ایک لاکھ آٹھ ہزار ڈالر کا ہے جو کہ دس سال بعد کم و بیش 10 لاکھ ڈالرز تک پہنچ سکتا ہے اور پانچ ارب ڈالرز سے زیادہ کے بٹ کوائنز مل سکتے ہیں۔
’پاکستان کے پاس تقریباً 20 ہزار میگا واٹ بجلی سرپلس ہے۔ اگر ساری سرپلس بجلی کرپٹو مائننگ کو دے دی جائے تو تقریبا 50 ارب ڈالرز سے زیادہ کے ڈالر ذخائر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ دو ہزار میگا واٹ بجلی استعمال کرنے کے لیے تقریباً ساڑھے تین لاکھ مائننگ مشینیں درکار ہیں۔ ایک مشین تقریباً 2200 ڈالر کی ہے۔ اس طرح تقریباً ایک ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری پاکستان آ سکتی ہے، لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے اگر سٹیٹ بینک ڈیجیٹل کرنسی پر بروقت قانون سازی مکمل کرے اور اس میں سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو واضح کرے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ایتھریم کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ لچک دار اور جدید ٹیکنالوجی کرنسی ہے۔ اس میں کرنسی ٹریڈ کے ساتھ اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کی جا سکتی ہے اور بجلی کا خرچ بھی بٹ کوائن کی نسبت کم ہے۔ اگر کوئی پاکستانی شخص پکاسو کی پینٹنگ نہیں خرید سکتا تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق پکاسو پینٹنگ ایتھریم ٹوکن خرید کر منافع کما سکتا ہے۔‘
انہوں نے دنیا کی مختلف کمپنیوں اور بینکوں کا حوالہ دیا، جو ایتھریم نیٹ ورک کے تحت کام کر رہے ہیں۔ بقول ہارون: ’سٹیٹ بینک بھی ایتھریم ماڈل کو باآسانی اپنا سکتا ہے۔ یہ ایک اچھوتا تصور ہے جو آج کل کی نوجوان نسل کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ان حالات میں کسی ایک کرپٹو ماڈل کی طرف جانے کی بجائے دونوں ماڈلز کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔‘
دوسری جانب منسٹر آف سٹیٹ فار کرپٹو اینڈ بلاک چین بلال بن ثاقب کہتے ہیں کہ ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی اور ریگولیشن آسان ہو جائے گی اور نئے بین الاقوامی اقتصادی مواقع کھلیں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مشیر برائے معاشی اصلاحات خرم شہزاد کہتے ہیں کہ ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’پاکستان نے پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی قائم کر دی ہے، جس کے تحت لائسنس جاری کیے جا سکتے ہیں۔ قانون سازی کے لیے امریکہ، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے کی گئی قانون سازی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔فیٹف کے قوانین کو بھی دیکھا گیا ہے اور شرعی بورڈ، ایف بی آر، ایف آئی اے سمیت تمام متعقلہ اداروں کو آن بورڈ رکھ کر قانون سازی کی گئی ہے۔یہ بہترین قانون ہے اور امید ہے کہ اس سے ملک میں معاشی استحکام آئے گا اور دیگر ممالک بھی اس سے مستفید ہو سکیں گے۔‘