شہباز شریف کا دورہ بحرین، تجارت ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم

وزیر اعظم شہباز شریف کی شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے ملاقات ہوئی ہے جس میں شہباز شریف نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں بحرین کی قیادت کو سراہا۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو دو روزہ سرکاری دورے کے دوران بحرین کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے ملاقات میں دو طرفہ تجارت کو تین سالوں میں ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف بدھ کو سرکاری دورے پر بحرین پہنچے جہاں منامہ میں ولی عہد، بحرینی افواج کے نائب سپریم کمانڈر اور وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ نے دیگر شخصیات کے ہمراہ پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔

اس کے بعد وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو منامہ میں قصر القضیبیہ پہنچنے پر گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

پاکستان کے وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے ملاقات ہوئی جس میں شہباز شریف نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں بحرین کی قیادت کو سراہا۔

ملاقات میں وزیر اعظم شہباز شریف نے دوطرفہ تجارت جو اس وقت 550 ملین ڈالر سے زیادہ ہے کو آئندہ تین سالوں میں ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس ہدف کا حصول پاکستان-جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ، جو کہ اپنے حتمی مراحل میں ہے اور حال ہی میں ویزا شرائط میں نرمی جیسے اقدامات کے ذریعے کیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیر اعظم آفس کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے لیے بحرین کی حمایت کو تسلیم کیا اور مزید ہنر مند افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کی تصدیق کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بحرین کے دورے میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور سینیئر سرکاری اہلکار بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے وفد میں شامل ہیں۔

بحرین ان عرب ممالک میں شامل ہے جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد روزگار کے لیے موجود ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بحرین کے مختلف حصوں میں ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ پاکستانی کام کر رہے ہیں۔

مصر، اردن، مراکش اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی طرح بحرین بھی ان مسلمان ملکوں میں شامل ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ سرکاری سفارتی تعلقات ہیں۔

مصر اور اردن پہلے عرب ممالک تھے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے قائم کیے، اس کے بعد متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020 میں ابراہیم معاہدے کے ذریعے تل ابیب سے تعلقات کو استوار کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان