دھرنے والوں کے لیے پانچ ہزار ٹوائلٹس کی درخواست

جمعیت علمائے اسلام کا آزادی مارچ 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گا، جہاں انتظامیہ نے دھرنے کے لیے سیکٹر ایچ نائن میں اتوار بازار کا پارکنگ گراؤنڈ مختص کیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کا آزادی مارچ 31 اکتوبر کی شام کو اسلام آباد پہنچے گا جس کے لیے شہر میں تیاریاں جاری ہیں۔ انتظامیہ اور جے یو آئی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق دھرنے کے لیے سیکٹر ایچ نائن میں اتوار بازار کے پارکنگ گراؤنڈ مختص کیا گیا ہے جس کی زمین کو بلڈوزر کی مدد سے ہموار کیا جارہا ہے اور سکیورٹی کے لیے پولیس کی بڑی تعداد کو تعینات کیا جائے گا۔

وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق جلسے کے رہنماؤں سے ہونے والی بات چیت میں طے پایا ہے کہ اس مارچ میں خواتین اور بچے نہیں ہوں گے اور صرف مرد ہی شریک ہوں گے۔

اسلام آباد انتظامیہ سے مارچ کے شرکا کے لیے پانچ سے چھ ہزار ٹوائلٹس بنوانے کی بھی استدعا کی گئی تھی، لیکن اس حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اتوار بازار میں 50 باتھ روم موجود ہیں جو مارچ کے شرکا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ میٹرو ڈپو میں بھی دس باتھ روم ہیں تو تقریباً 60 ٹوائلٹس پہلے ہی موجود ہیں۔ مارچ کے پہنچنے کے بعد اس کے شرکا کی تعداد کا حساب لگا کر پھر مزید انتظام کر دیا جائے گا۔‘

مارچ کے شرکا کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں انتظامیہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ جے یو آئی ف سے ہونے والے معاہدے کے تحت شرکا کو ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے گا جبکہ بجلی کا بندوبست بھی اسلام آباد انتظامیہ کرے گی لیکن اس کے لیے الگ میٹرز لگائے جائیں گے تاکہ جو بل بنے وہ آزادی مارچ کی انتظامیہ خود ادا کرے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بلڈوزر کے ذریعے دھرنے کے گراؤنڈ کو ہموار کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں دریاں بچھائی جاسکیں۔ انتظامیہ  کے مطابق کھانے پینے کا بندوبست آزادی مارچ کے شرکا خود کریں گے اور ساؤنڈ سسٹم اور لائٹس کا بندوبست بھی مارچ کی انتظامیہ کرے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضلعی انتظامیہ کے مطابق مارچ اور دھرنے کے سبب اسلام آباد میں اتوار بازار31 اکتوبر سے خریداری کے لیے بند ہوگا۔

انڈپینڈنٹ اردو کے اس سوال پر کہ اگر مارچ کے شرکا نے ڈی چوک کا رخ کرلیا تو انتظام کیا ہوگا؟ انتظامیہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وزارتِ داخلہ سے درخواست کر دی گئی ہے کہ آرٹیکل 245 لگا دیں لیکن فوج کی مدد آخری آپشن ہوگا۔‘

انہوں نے کہا: ’اگر ڈی چوک کی طرف پیش قدمی کی گئی تو انتظامات اور نفری مکمل تیار ہے کیونکہ معاہدے میں پہلے ہی لکھوایا گیا ہے کہ اگر پیش قدمی کی گئی تو انتظامیہ طاقت کا استعمال کرے گی اور ویسے بھی خواتین اور بچے اس آزادی مارچ میں شریک نہیں جن کو وہ ڈھال بنا سکیں جیسے کہ ماضی کے جلسوں اور دھرنوں میں ہوا۔‘

پولیس کے اعلیٰ ذرائع نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آزادی مارچ میں خواتین پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی۔ چونکہ مارچ صرف مردوں پر مشتمل ہے اس لیے اسلام آباد پولیس، انسداد دہشت گردی سکواڈ کے دستے، ایف سی، پنجاب پولیس اور کشمیر پولیس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت اسلام آباد میں آزادی مارچ کے پیش نظر 23 ہزار پولیس اہلکار سپیشل ڈیوٹی پر موجود ہیں جس میں سے 16 ہزار اہلکاروں کی بیرونی نفری بھی شامل ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد کے راستے فی الحال کھلے ہیں لیکن تمام مرکزی شاہراہوں پر کنٹینرز رکھے جا چکے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر فوراً کنٹینرز سے شاہراہیں بلاک بھی کی جا سکتی ہیں تاہم یہ حالات پہ منحصر ہے۔

آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد سب سے پہلے کشمیر ہائی وے پر ٹریفک متاثر ہوگی۔ کشمیر ہائی وے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ ہے جو راولپنڈی اور اسلام آباد سے موٹر وے اور ایئرپورٹ جانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست