بڑا صحافی چھوٹے صحافی کو کھا رہا ہے

صحافت اگر صحیح معنوں میں کوئی کر رہا ہے تو میرے خیال سے وہ صحافی کر رہا ہے جس کی تنخواہ آج بھی 20 ہزار سے زیادہ نہیں ہو سکی۔

(سوشل میڈیا)

عملی صحافت میں داخل ہونے سے پہلے میں بچوں کا لکھاری تھا۔ اخبارات میں جو بچوں کے صفحات آیا کرتے تھے ان میں لکھنا اور اپنا نام دیکھ کر خوشی منانا عادت بن گئی تھی۔ جب اخبار میں کہانی یا نظم شائع نہیں ہوتی تھی تو ایک عجیب کیفیت سے دوچار ہوتا تھا۔ غصہ آتا تھا۔ کسی سے بات کرنا بھی گوارا نہیں ہوتا تھا۔

پھر یونیورسٹی میں آئے تو ایک دوست فدا عدیل نے اخبارات کے ایڈیٹوریل صفحات میں لکھنے پر اکسایا اور یوں اگر کہا جائے کہ میری صحافت کی ابتدا یہیں سے ہوئی ہے تو یہ غلط نہیں ہو گا۔

یونیورسٹی کے بعد ایک اخبار جوائن کیا جو میرے معیار کا متقاضی نہیں تھا۔ یوں اعلیٰ تعلیم کی راہ لی۔ مگر لکھنا نہیں چھوڑا۔ میں نے اس سارے عرصے میں بڑے بڑے لکھاریوں اور صحافیوں کو پڑھا۔ جاوید چوھدری کے قلم نے مجھے بھی اپنے حصار میں لیا تھا۔ کون کیا لکھتا ہے اور کیسے لکھتا ہے۔ اُن سے سیکھنے کی کوشش کی۔ مگر اُن کا سٹائل نہیں اپنایا۔

میں نے ہارون الرشید، حیدر جاوید سید، ارشاد احمد حقانی، نذیر ناجی، مولانا کوثر نیازی، مریم گیلانی، مشتاق شباب، شکیل احمد خان، ڈاکٹر ظہور احمد اعوان سمیت بہت سے صحافیوں کو پڑھا۔ میرے دوست فلموں اور سپورٹس کے صفحات پڑھا کرتے تھے اور میں ایڈیٹوریل پڑھا کرتا تھا۔ بہت سے صحافیوں کے لکھے ہوئے ارٹیکل سے نوٹس بھی بنائے۔ کبھی کبھی اُن کے کالموں کے ساتھ اپنے لکھے ہوئے ارٹیکل کا موازنہ بھی کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مجھے پھر جلد ہی پتہ چل گیا کہ اکثریت معروف صحافی و کالم نگار کسی نہ کسی مخصوص فارمولے یا سانچے کے تحت لکھتے ہیں۔ سب نے اپنی ایک ٹیم بنائی ہوئی ہے جن کو وہ رقم دیتے ہیں اور وہ اُن موضوعات پر لکھتے ہیں۔ ہر ایک کا اپنا ایک ایجنڈا ہے اور ایک سیاسی پارٹی ہے جس کے ایجنڈے کو وہ پروموٹ کرتے ہیں۔

کوئی پیپلز پارٹی کے پےرول پر ہے تو کوئی ن لیگ سے رقم بٹور رہا ہے تو کوئی پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام سمیت دیگر سے مراعات لے رہا ہے تو کوئی سکیورٹی ایجنسیوں کی مدح سرائی میں لگا ہوا ہے۔ مجھ پر یہ بھی انکشاف ہوا۔ کہ جو صحافی اتنا اچھا لکھ رہے ہیں وہ اندر سے کتنے کھوکھلے ہیں۔ لکھتے کچھ ہیں، کہتے کچھ ہیں اور جو کرتے ہیں وہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ کیمرے کے سامنے آزادیِ نسواں اور خواتین کے حقوق کا درس دینے والے گھر میں بیوی اور بیٹی کو اتنی اونچی آواز میں گندی گندی گالیوں سے بھی نوازتے ہیں کہ ہمسایوں کو بھی علم ہو جاتا ہے۔

ان میں کچھ ارب پتی ہیں تو کچھ کروڑپتی اور کچھ کے بڑے بڑے روابط ہیں تو کچھ کارخانوں کے مالک ہیں۔ کچھ کا سٹائل اشرافیہ کا ہو گیا ہے۔ وہ اب غریبوں کی آواز اُٹھانے والا نہیں رہا۔ اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں بیٹھ کر کافی پینے والے صحافی عام عوام کی کیا آواز اٹھائیں گے؟ نامور سیاست دانوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے کیا غریب کی خدمت کریں گے؟

میں جب اپنے صحافت کے طالب علموں سے پوچھتا ہوں کہ صحافت میں کیوں آئے ہو تو اُن کا جواب ہوتا ہے کہ عوام کی خدمت کرنے آئے ہیں اور کچھ کالم نگاروں سے متاثر ہیں۔ میں انہیں کہتا ہوں لکھاریوں اور صحافیوں سے متاثر ہوا کریں مگر اُن سے ملنے کی کوشش نہ کریں، آپ کا بت پاش پاش ہوجائے گا، کیونکہ یہ صحافی تو بڑے ہوں گے مگر لوگ بڑے نہیں ہیں۔

صحافت اگر صحیح معنوں میں کوئی کر رہا ہے تو میرے خیال سے وہ صحافی کر رہا ہے جس کی تنخواہ آج بھی 20 ہزار سے زیادہ نہیں ہو سکی۔ لیکن وہ پھر بھی خوش نصیب ہے کہ کچھ نہ کچھ مل تو رہا ہے۔ کئی صحافی تو ایسے ہیں جن کو کئی کئی مہینے تنخواہ نہیں ملتی اور اپنے لیے آواز بھی نہیں اٹھا سکتے۔ جو باقی خود کو بڑے صحافی سمجھتے ہیں وہ مختلف ہتھکنڈوں اور حیلوں بہانوں سے ملک کے ساتھ ساتھ چھوٹے صحافیوں کو بھی کھا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ