’معاملہ چونکہ فوج کا ہے لہٰذا اپوزیشن اکڑ نہیں دکھائے گی‘

جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں مشروط توسیع کے فیصلے نے ملک میں ایک سے زیادہ بحثوں کو جنم دیا ہے۔

بعض حلقے سپریم کورٹ کی آئین اور قوانین میں ترامیم سے متعلق ہدایات کو حزب اختلاف کے لیے ایک سنہرا موقع قرار دے رہے ہیں(اے ایف پی)

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں مشروط توسیع کے فیصلے نے ملک میں ایک سے زیادہ بحثوں کو جنم دیا ہے۔

ان میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی یا مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آئین پاکستان کی شقوں اور متعلقہ قوانین میں ترامیم کرنا اور ان کے طریقہ کار پر بحث سرفہرست ہے۔

وکلا حضرات اپنی علم و فراست کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے جمعرات کی شام جاری ہونے والے مختصر حکم کی روشنی میں بحث کر رہے ہیں کہ حکومت کو آئین کی کن کن شقوں اور قوانین میں ترامیم کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

دوسری طرف سیاسی منظر نامے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار خصوصاً آئینی ترامیم کی صورت میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے تحریک انصاف حکومت سے ممکنہ تعاون یا اختلاف پر قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔

بعض حلقے سپریم کورٹ کی آئین اور قوانین میں ترامیم سے متعلق ہدایات کو حزب اختلاف کے لیے ایک سنہرا موقع قرار دے رہے ہیں، جسے استعمال کر کے اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت یا مقتدر قوتوں سے اپنے مفاد میں کچھ نہ کچھ منوا سکتی ہیں۔

آئینی اور قانونی ترامیم

سپریم کورٹ نے اپنے مختصر حکم میں حکومت اور پارلیمان کو ہدایت کی ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی، مدت ملازمت میں توسیع، تنخواہ اور دوسری مراعات سے متعلق ابہام دور کرنے کے لیے آئین پاکستان کی شق نمبر 243 اور آرمی ایکٹ میں ضروری ترامیم کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے عدالت عظمیٰ نے چھ ماہ کا وقت مقرر کیا ہے جس دوران جنرل قمر جاوید باجوہ فوج کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔

معروف ماہر قانون بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے: ’اگر حکومت متعلقہ ترامیم نہ کر پائی تو آرمی چیف چھ ماہ کا عرصہ پورا ہونے پر ریٹائر ہو جائیں گے، لہٰذا حکومت کے لیے ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق متعلقہ آئینی شقوں اور قوانین میں ترامیم کریں اور اس میں وقت نہ ضائع کرے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ قانون بننے کے بعد جنرل باجوہ کتنے عرصے آرمی چیف رہے گے؟ ان کا کہنا تھا ’یہ ساری تفصیلات ترامیم کے ذریعے آئین اور قوانین میں واضح کر دی جائیں گی۔‘

ان کا خیال ہے کہ آرمی ایکٹ میں مناسب تبدیلیاں کر کے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی، ایکسٹینشن اور تنخواہ و مراعات سے متعلق ابہام دور کیے جا سکتے ہیں۔

علی ظفر نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا ’قومی اسمبلی میں کسی مروجہ قانون میں ترمیم سادہ اکثریت سے ممکن ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ ایسی ترمیم دو مرتبہ مسترد کر سکتی ہے لیکن تیسری مرتبہ جب قومی اسمبلی اس ترمیمی بل کو سینیٹ بھیجے تو ایوان بالا کے پاس اسے منظور کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی، جو تحریک انصاف حکومت کے لیے حاصل کرنا ممکن نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ معاملات مکمل طور پر واضح بنانے اور تمام ابہام دور کرنے کے لیے ضروری ہو گا کہ آرمی ایکٹ کے علاوہ آئین کی شق نمبر 243 میں بھی ترامیم کی جائیں۔

انہوں نے کہا آرمی چیف کی تعیناتی آئین کی شق نمبر 243 کے تحت ہوتی ہے، لہٰذا ترامیم ضروری ہوں گی، ایسا کیے بغیر ایک جنرل کی آرمی چیف کی حیثیت سے تقرری ہونے کے بعد ان کی مدت ملازمت میں توسیع ممکن نہیں ہو سکے گی۔

ماہر قانون سروپ اعجاز نے بھی آرٹیکل 243 میں ترمیم کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہر قسم کے ابہام کو مکمل طور پر دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آئین کی متعقلہ شقوں میں تبدیلی کی جائے۔

اپوزیشن کیا کرے گی؟

پاکستان کی سیاسی صورت حال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں آرمی چیف کی تعیناتی یا ایکسٹینشن سے متعلق قانون سازی میں رکاوٹیں نہیں لائے گی۔

سینیئر صحافی ایم ضیاالدین کے خیال میں اپوزیشن جماعتوں کو ایک اہم لیوریج تو حاصل ہو گیا ہے، اگر حکومت قانون سازی کے لیے پارلیمان جانے کا فیصلہ کرتی ہے تو وہاں اس کا سامنا اپوزیشن پارٹیوں سے ہو گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا اس سب کے باوجود ’چونکہ معاملہ فوج کا ہے تو میرے خیال میں اپوزیشن اتنی زیادہ اکڑ نہیں دکھائے گی۔‘

صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں میں سے کوئی پارٹی ایسی قانون سازی کی مخالفت نہیں کرے گی اور مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور حتی کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیت علمائے اسلام بھی پارلیمان میں آرمی چیف سے متعلق ترامیم کی حمایت کریں گے۔

تاہم حامد میر نے تحریک انصاف حکومت اور اس کے اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے فوراً بعد حزب اختلاف کی جماعتوں پر دشنام شروع کر دیا گیا۔

اس سلسلے میں انہوں نے ایک ٹوئٹر پیغام کا خصوصاً ذکر کیا جس میں وزیراعظم عمران خان نے بغیر کسی کا نام لیے کرپشن کے ذریعے کمائی گئی بیرون ملک چھپائی ہوئی دولت کا ذکر کیا۔

حامد میر کے خیال میں یہ رویہ ایسا نہیں کہ جس کے بعد حزب اختلاف سے تعاون کی امید رکھی جا سکے۔

اس سوال پر کہ کیا اپوزیشن رہنما اپنے خلاف کرپشن کیسز ختم کرانے کی کوشش کر سکتے ہیں؟ ایم ضیاالدین کا کہنا تھا ’میرا نہیں خیال کہ وہ ایسا کریں گے۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کیسز میں کوئی جان نہیں۔‘

تاہم ان کے خیال میں حزب اختلاف کی جماعتیں یہ کوشش کر سکتی ہیں کہ حکومت کو انہیں حقیقی اپوزیشن منوانے پر مجبور کیا جائے۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’حکومت اپوزیشن رہنماؤں کو کرپٹ مافیا کی حیثیت دیتی ہے اور انہیں چور کے علاوہ کسی دوسرے نام سے نہیں پکارتی۔‘

’حزب اختلاف کے لیے یہ اچھا موقع ہے حکومت کو مجبور کرنے کا کہ مستقبل میں وزرا اور خصوصاً وزیر اعظم اپوزیشن رہنماؤں کا ذکر زیادہ احترام اور اخلاقیات کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے کریں۔‘

ضیا الدین نے مزید کہا اپوزیشن حکومت کو اس بات پر مجبور کر سکتی ہے کہ آئندہ پارلیمان میں قانون سازی اس طریقے سے نہ ہو جس طرح گذشتہ دنوں کئی آرڈیننس بغیر کسی بحث کے منظور کروا لیے گئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست