گامے ٹھیکیداروں اور بخشُو چوکیداروں کی جھوٹی گواہیاں

’مدعی جھوٹ بولتا ہے، مدعا علیہ یا ملزم اپنا جوابی جھوٹ گھڑ کر لاتا ہے، گواہان اپنے حصے کی غلط بیانی کرتے ہیں، پولیس سب سے بڑھ کر جھوٹ بولتی ہے۔ یہ سب اپنے اپنے جھوٹ جج کے سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ لو اب تم ہمارے ساتھ انصاف کرو!‘

 ہمارا نظامِ انصاف اتنا  پیچیدہے کہ اکثر اوقات جھوٹے گواہ پیش کیے بغیر اپنا حق لینا ممکن نہیں ہوتا (پکسا بے)

کوئی بیٹھا لکھ رہا تھا۔ پاس سے ایک پیشہ ور گواہ گزرا تو بولا، ’میری گواہی لکھ دینا۔‘ اس نے کہا، ’مگر میں تو خط لکھ رہا ہوں۔‘ گواہ نے کہا، ’پھر میرا سلام لکھ دینا!‘

خدا مغفرت کرے، ماضی میں چاچا مِہرے کے خلاف جائیداد کا دیوانی مقدمہ دائر ہوا تھا۔ کچہری میں اس سے پوچھا گیا کہ کیا تمہارا کوئی گواہ ہے؟ سادہ لوح نے کھرا جواب دیا۔ ’ہمارے گاؤں میں دو ہی جھوٹے گواہ ہیں، گاما ٹھیکیدار اور بخشُو چوکیدار، وہ دونوں مخالف فریق نے کرلیے ہیں۔ تیسراگواہ گاؤں میں ہے ہی نہیں، کہاں سے لاؤں؟‘

یہ پرانی باتیں ہمیں چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کا سنٹرل پولیس آفس لاہورمیں خطاب سن کر یاد آئی ہیں۔ آپ نے مقدمات میں جھوٹی شہادتوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹی گواہی دینے والوں کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے جھوٹی گواہی میں پولیس کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا تفتیشی افسر مدعی کو تجویز کرتا ہے کہ وقوعہ کے دو چشم دید گواہ بنانے ہیں، دو گواہ آخری سین کے اور دو گواہ ریکوری کے بنانے ہیں۔ پھر پانچ چھ رشتہ دار عدالت پہنچ جاتے ہیں کہ سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا، مگر سچ کے سوا سب کچھ کہا جاتا ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے یہ بھی فرمایا کہ ملزم ایک ہوتا ہے مگر اس کے دادا، باپ، چچا، والدہ، نانی کو بھی ملزم نامزد کر دیا جاتا ہے۔

نجی محفل میں ایک سابق جج صاحب نے کہا تھا، ’مدعی جھوٹ بولتا ہے، مدعا علیہ یا ملزم اپنا جوابی جھوٹ گھڑ کر لاتا ہے، گواہان اپنے حصے کی غلط بیانی کرتے ہیں، پولیس سب سے بڑھ کر جھوٹ بولتی ہے۔ یہ سب اپنے اپنے جھوٹ جج کے سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ لو اب تم ہمارے ساتھ انصاف کرو!‘

ہم لوگ اغوا اور قتل کے مقدمات میں کتنا سچ بولتے ہیں؟ لڑکی اپنی مرضی سے لڑکے کے ساتھ جاتی ہے۔ ہم اپنی لڑکی کو اغوا کرنے کا مقدمہ درج کراتے ہیں، چاہے گھرسے بھاگنے کے منصوبے کی ماسٹر مائنڈ وہ خود ہی کیوں نہ ہو۔

ہم ایف آئی آر میں لڑکے کے والدین اور بہن بھائیوں کو بھی نامزد کرنا نہیں بھولتے، جنہیں خود واردات کا پتہ اپنے لڑکے کے غائب ہونے کے بعد چلتا ہے۔ چونکہ لڑکی کی بازیابی کے بعد مقدمے کے فیصلے کا دارومدار اُسی کے بیان پر ہوتا ہے، لہٰذا فریقین لڑکی پر ہر ممکن دباؤ ڈالتے ہیں کہ قطع نظر سچ کے، وہ عدالت میں ان کے موقف کے حق میں بیان دے۔

لڑکے والے اسے اپنی مرضی سے گھر چھوڑنے کا بیان دینے پرمجبورکرتے ہیں تاکہ لڑکے کو سزا نہ ہو، جبکہ لواحقین اسے خاندان کی عزت کے واسطوں سے لے کراجتماعی خودکشیوں تک کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرتے ہیں کہ وہ عدالت میں ہر صورت اپنے جبری اغوا ہونے کا جھوٹ بولے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر لڑکی مجبوراً مان جائے تو پھر پولیس اور ہم وکلا اس کے منہ میں ازل سے گھڑا گھڑایا بیان دے دیتے ہیں کہ میں گھرمیں اکیلی تھی۔ نہا کر صحن میں بال سُکھا رہی تھی کہ اچانک عقبی دیوار پھلانگ کر فلاں فلاں گھرمیں داخل ہوئے اور مجھے اسلحے کے زور پر اغوا کر کے سفید رنگ کی کار میں ڈال کر لے گئے۔

پھرہم مدعی عدالت میں اس فرضی کہانی کے حق میں چن چن کر جھوٹے گواہ پیش کرتے ہیں۔

اسی طرح قاتل ایک ہوتا ہے، مگر مقتول کے لواحقین ایک جعلی وقوعہ گھڑ کر قاتل کے ان تمام رشتہ داروں کو ایف آئی آر میں نامزد کر دیتے ہیں، جنہیں وہ مقدمے کی پیروی کرنے کے قابل سمجھتے ہیں۔

کسی کے ہاتھ میں کلہاڑا، کسی کو بھری بندوق اور کسی کے ہاتھ میں پستول تھما دیا جاتا ہے، چاہے ’مسلح پستول وغیرہ‘ جائے وقوعہ سے ہزار کلومیٹر دور بیٹھے ہوں جبکہ قاتل کے والد بزرگوار کو للکارنے والا شمار کیا جاتا ہے، جس کے ذمے یہ ڈایئلاگ لگایا جاتا ہے کہ بچ کر جانے نہ پائے۔

منشیات کی برآمدگی کے لیے پولیس چاہے غیر قانونی طریقے سے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کر کے گھر میں داخل ہوئی ہو یا ملزم پر فرضی منشیات ڈالی گئی ہو مگر پولیس افسر استغاثہ میں لکھے گا کہ میں معمول کی گشت پر تھا کہ لاری اڈے کے قریب ایک شخص کو، جس کا نام بعد میں یہ معلوم ہوا، مشکوک سمجھ کر آواز دی تو وہ بھاگ نکلا۔ چند قدم دوڑ کر اسے پکڑ لیا اورجامع تلاشی پر اس کی شلوارکے نیفے سے تین سو گرام چرس برآمد ہوئی۔

دیوانی مقدمات کی بھی یہی صورتحال ہے۔ ہم دیہاتی تو مقدمے بازی کے اتنے شوقین واقع ہوئے ہیں کہ اگر ہمارے بچوں کے پاؤں میں جُوتا نہ بھی ہو خیر ہے مگر اپنے مقدمے کے اخراجات پورے نہ کر سکنے پر شریکوں میں ہماری ناک کٹ جاتی ہے۔

ہم مضافاتی زمینوں کے لیے آپس میں لڑتے ہیں اور دس، پندرہ یا بیس سال تک عدالتوں میں جھوٹی شہادتیں دے دے کر اور اپنا معاشی کباڑا کر کے جب انصاف سے جھولیاں بھر لیتے ہیں تو آپس میں صلح کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دشمنوں نے ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر دی تھیں، ورنہ ہم تو بھائی بھائی ہیں۔

دوسری طرف ہمارا نظامِ انصاف اتنا بوسیدہ، پیچیدہ اور طویل ہے کہ اکثرمقدمات میں سچ بول کر یا جھوٹے گواہ پیش کیے بغیر اپنا حق لینا ممکن نہیں ہوتا۔ نیز مقدمات ’دادا لاوے، تے پوتا ہنڈاوے‘ کے مصداق نسل در نسل چلتے ہیں۔ دائروی دعویٰ، سمن، تعمیل سمن، جواب دعویٰ، اعتراف وانکشافات، وضع تنقیہات، شہادت، جرح، بحث، فیصلہ، ڈگری، تعمیل ڈگری، درمیانی درخواست ہائے، ان پر احکام اور پھر اپیل در اپیل — کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک!

اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے جلد فیصلوں کے احکامات اور ماڈل کورٹس جیسے اقدامات کے باوجود ہمارا نظام انصاف ہراس فریق کی مدد کرتا ہے، جو مقدمے کو طول دینا چاہے۔ گذشتہ برس میڈیا میں رپورٹ ہوا کہ جائیداد کے ایک مقدمے میں مدعی فریق نے سپریم کورٹ کے باہر اپنے مقدمے کی سوویں سالگرہ کا کیک کاٹا۔

اگر جھوٹی شہادتوں اور نظامِ انصاف کی کمزوریوں کے بعدعدلیہ کے کردارپر بات نہ کی گئی تو موضوع سے انصاف ممکن نہ ہو سکے گا۔ بلاشبہ ہماری عدلیہ میں ہردورمیں اچھی شہرت کے حامل جج صاحبان نے انصاف کا پرچم بلند رکھا ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حالیہ کیس میں بھی عدالت عظمیٰ کا کردار جراٗت مندانہ ہے۔

تاہم بدقسمتی سے بحیثیت مجموعی جسٹس منیر کے نظریہِ ضرورت سے شروع ہو کر نصرت بھٹو، عاصمہ جیلانی اور ظفرعلی شاہ کیس تک کے نامعتبر سفر نے دنیا میں ہمیں رسوا کیے رکھا ہے۔ ہماری تاریخ میں مولوی تمیزالدین سے لے کر چاچے مہرے تک، سائلان کا عدالتی تجربہ کچھ زیادہ خوشگوار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ہم تو تاریخ کی عدالت میں بھی یہ حلف اٹھا کرجھوٹ بولتے ہیں کہ سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا۔ بے رحم تاریخ کہتی ہے کہ ہمارے گامے ٹھیکیداروں اور بخشو چوکیداروں نے پاکستان کے ’ناپاکستان‘ ہونے کی جھوٹی گواہی دی۔

انہوں نے قائداعظم کے کافراعظم ہونے کی جھوٹی گواہی دی۔ شریف النفس محمد علی جناح کے بنیاد پرست مُلا ہونے کی جھوٹی گواہی دی۔ غلام محمد کی طرف سے اسمبلی توڑنے کے غیرآئینی عمل کے جائز ہونے کی جھوٹی گواہی دی۔

ایوب خان، یحییٰ خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف کے آئین کو پامال کرنے کے شرم ناک اعمال کے جائز ہونے کی جھوٹی گواہی دی۔ مادر ملت، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے خون ںاحق کے جائز ہونے کی جھوٹی گواہی دی، مگر ان میں سے کوئی بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں گیا۔ سارے گامے ٹھیکیدار اور بخشو چوکیدار تو ہماری تاریخ کے معتبر کردار ٹھہرے ہیں۔

سات عشروں سے اس ملک کے شہریوں نے اپنا دعویٰ دخل یابی دائر کر رکھا ہے کہ محمد علی جناح کے اصولوں کی حامل روادار، روشن خیال اور لبرل ہماری مملکت کا قبضہ ناجائز قابضین سے واگزار کرا کے ہمارے حوالے کیا جائے۔

ان کے چشم دید سچے گواہ تیزی سے دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں مگر ابھی تک ان کے مقدمے کی سماعت ہی شروع نہیں ہوئی۔ مستقبل میں اگر کسی عدالت میں ان کے مقدمے کی سماعت ہوئی تو وہ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے مجبوراً جھوٹے گواہ ہی پیش کریں گے۔

ہماری ذاتی خواہش ہے کہ ہم اپنے انصاف کے نظام کو خراج تحسین پیش کرنے والے مستقبل کے مورخ سے کہیں کہ اس کے معتبر ہونے میں ہماری گواہی بھی لکھ دینا اور اگر یہ ممکن نہیں تو اس نظام کو ہمارا سلام ضرور لکھنا۔ جب گاما ٹھیکیدار اور بخشو چوکیدار جیسے مستند جھوٹے گواہ آج تک جیل نہیں گئے تو ہم نے کون سا سلاخوں کے پیچھے جانا ہے بھلا؟

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ