لاہور کے لوگ سموگ کیسے چھانتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ فروری 2020 تک لاہور میں کوئی بھی دن سموگ فری نہیں ہوگا۔

ملک بھر میں پھیلی ہوئی فضائی آلودگی جسے ہم آج کل سموگ کا نام دیتے ہیں دن بدن بڑھتی جارہی ہے، خصوصاً لاہور تو اس کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہوا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں فروری تک کوئی بھی دن سموگ فری نہیں ہوگا۔

سموگ دو طرح کے افراد کے لیے انتہائی خطرناک ہے، چھوٹے بچے اور بزرگ۔

لاہور میں فیس بک پر ماؤں کا ایک گروپ چلانے والی ڈاکٹر عائشہ ناصر اپنی ٹیم کے ہمراہ ’امیز اگینسٹ سموگ‘ (سموگ کے خلاف امیاں) کے نام سے ایک مہم چلا رہی ہیں۔ عائشہ ناصر کے اپنے بھی چار بچے ہیں اور وہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ لاہور کے سکولوں میں بچوں اور ان کے والدین کو سموگ کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے۔ اب تک وہ 30 سے زائد سکولوں میں ماہرین کی ٹیموں کے ہمراہ سموگ کے خلاف اور اس سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی سیمینارز کر چکی ہیں اور کچھ سکولوں میں ہزاروں کی تعداد میں مفت ماسک بھی تقسیم کر چکی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عائشہ کے خیال میں اس سموگ میں بچوں کا سکول جانا مناسب نہیں ہے، مگر شاید ایسا ممکن نہیں اسی لیے وہ والدین پر زور ڈال رہی ہیں کہ ان کے بچے ماسک پہن کر سکول جائیں اور والدین اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ گھر کے اندر رکھیں۔ عائشہ کے مطابق سموگ میں بچوں کو باہر نکالنا انہیں دن میں 30 سگریٹ پلانے کے مترادف ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سموگ کے دنوں میں بچے اور بڑے سبھی ماسک پہنیں جن میں این 95، این 99 اور این 900 تجویز کردہ ہیں اور اس ماسک کو کم از کم 12 دن بعد تبدیل کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو سموگ میں بہت سے لوگ ماسک پہنتے ہیں جو صرف ناک کو ہی ڈھانپتا ہے، آنکھیں نہیں۔  آنکھوں کی ڈاکٹر سدرہ لطیف کہتی ہیں کہ آنکھیں بھی اس سموگ میں خراب ہو سکتی ہیں اور انہیں بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے سموگ سے بچاؤکے لیے سن گلاسز کا استعمال کریں۔

ان  کی تجویز تھی کہ ادویات کی دکان سے مصنوعی آنسو ملتے ہیں، ان سے آنکھوں کو دھوئیں اور اگر آنکھوں میں چبھن ہو تو انہیں بالکل بھی نہ رگڑا جائے بلکہ ایسی حالت میں فوراً آنکھوں کے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

’لاہور کا نیلا آسمان کھو چکا ہے‘

ڈاکٹر ذوالفقار میر ڈپلومیٹ امریکن بورڈ آف انٹرنل میڈیسن کے ساتھ ساتھ ضعیف العمر افراد کے ڈاکٹر ہیں۔  ڈاکٹر ذوالفقار کہتے ہیں کہ وہ پانچ برس پہلے پاکستان آئے تو انہوں نے دیکھا کہ لاہور کا نیلا آسمان کھو چکا ہے اور ہوا میں ڈیزل کی بدبو زیادہ ہے۔ تب سے انہوں نے سموگ پر کام کرنا شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سو فیصد مریض سموگ سے متاثر ہو کر آرہے ہیں۔ ان میں دمہ، بغیر کسی وجہ کے کھانسی، سانس کی مختلف تکالیف اور یہاں تک کہ سموگ سے دل کا دورہ پڑنے والے مریض بھی شامل ہیں۔

  ڈاکٹر ذوالفقار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہوا میں گرد و غبار اور دیگر مضر صحت کیمیائی ذرات شامل ہیں یعنی ہوا میں پارٹیکیولیٹ میٹر یا پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو کی موجودگی بہت زیادہ ہے ۔ یہ ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ جب یہ جسم کے اندر چلے جاتے ہیں تو ان کو کسی بھی طرح نکالا نہیں جاسکتا۔

 پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو کو ڈاکٹر ذوالفقار نے کچھ اس طرح سے سمجھایا: ’ایک گز تقریباً ایک میٹر کے برابر ہوتا ہے، اس میٹر کو اگر آپ دس لاکھ حصوں میں تقسیم کر لیں تو اس میں سے جو ایک حصہ نکلے گا وہ ایک مائیکرون کہلائے گا۔ ہوا میں گرد کے ذرات کو پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ان ذرات کا سائز ٹو پوائنٹ فائیو مائیکرون سے کم ہوتا ہے یا پھر یوں کہیے کہ ایک انچ کے اندر ڈھائی ہزار مائیکرونز ہوتے ہیں یا آپ کے جسم کا جو سرخ خلیہ ہے، جو خون میں گردش کرتا ہے اور آکسیجن پہنچاتا ہے اس کا سائز پانچ مائیکرون ہوتا ہے تو پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو آپ کے خلیات سے بھی چھوٹا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اسی لیے جب ہم سانس لیتے ہیں تو اسے ہمارے جسم کے اندر جانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اور جب ایک بار یہ جسم میں چلا جائےتو پھر یہ باہر نہیں نکلتا۔‘

ہوا کے معیار کو جانچنے والی بین الاقوامی ایجنسی ایئر ویژول کے مطابق نو دسمبر کو لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 207، اسلام آباد کا 222، کراچی کا 156 اور فیصل آباد کا 402 رہا، جبکہ پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو 137.3μg/m³، یعنی ہوا کے ہر کیوبک میٹر میں 13.7.3 مائیکرگرام رہا۔ پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو (PM2.5) ایک آلودہ ذرہ ہے جس سے صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی گائیڈلائنز کے مطابق 24 گھنٹے کے دوران ہوا میں اس ذرے کی مقدار 25μg/m³ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

ایئر کوالٹی انڈیکس کی بات کریں تو نومبر کے مہینے میں لاہور کی ہوا کا معیار 300 سے 900 تک بھی گیا جبکہ یونائیٹڈ سٹیٹس انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق اے کیو آئی صفر سے 50 تک اچھا ہے، 51 سے 100 تک درمیانہ اور یہی معیار اگر 300 یا اس سے بڑھ جائے تو وہ مضر صحت یا زہریلی ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق فروری تک لاہور میں کوئی دن ایسا نہیں ہوگا، جب شہر میں سموگ نہ ہو۔

’حاملہ خواتین کے لیے سموگ خطرناک‘

 ڈاکٹر ذوالفقار کا کہنا ہے کہ سموگ سے حاملہ خواتین کو بھی خطرہ ہے خاص طور پر نومبر سے فروری کے مہینے تک۔ اگر خاتون حاملہ ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ کم سے کم باہر نکلیں اور اگر کوئی خاتون حمل کا ارادہ کر رہی ہیں تو وہ نومبر سے فروری کے مہینے تک ایسا نہ کریں۔  ڈاکٹر ذوالفقار کے مطابق یہ سموگ اور آلودہ ہوا ماں کے پیٹ میں بچے کو متاثر کرتی ہے اور اس کی نشوونما کو روک سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لاہور میں آلودگی تو پورے سال رہتی ہے مگر سردیوں میں اس لیے زیادہ ہوجاتی ہے کیونکہ درجہ حرارت گرنے سے یہ آلودگی ٹھہر جاتی ہے۔ ’15 فروری کے بعد جب درجہ حرارت اوپر جانے لگے گا تو آلودگی فضا میں ہی رہے گی، بس ہمیں نظر آنا بند ہو جائے گی۔‘

  ڈاکٹر ذوالفقار نے بتایا کہ یونیورسٹی آف شکاگو کی ایئر کوالٹی لائف انڈیکس کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہوا کی آلودگی سالانہ ایک لاکھ 35 افراد کی جان لینے کا سبب رہی ہے۔ ان اموات میں زیاد تر اموات مشرقی بارڈر پر ہو رہی ہیں جس میں پنجاب شامل ہے اور پنجاب میں سب سے زیادہ اموات لاہور ڈویژن میں ہو رہی ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اس آلودگی کا سبب ٹرانسپورٹ سیکٹر بھی بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سموگ کا 40 فیصد سبب ڈیزل والی گاڑیاں ہیں اور ان کا سد باب ہونا چاہیے۔ ’ہوا کو خالص بنانے والی مشینیں یا ماسک وغیرہ صرف وہ لوگ لے سکتے ہیں جن کے پاس وسائل ہیں مگر سموگ سبھی پر اثر انداز ہو رہی ہے اس لیے ہمیں ہر لیول پر اس کی روک تھام کرنی ہوگی، جس کے لیے خاص طور پر اپنے ماحول کو آلودگی سے پاک کرنے کے تمام تر طریقے اپنانے ہوں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات