معمولی گیراج سے اربوں ڈالر تک: گوگل کی دلچسپ کہانی

کئی لوگوں کے نذدیک گوگل کامیابی کی بہترین کہانیوں میں سے ایک ہے، جبکہ کئی لوگ اسے ایک دیو سمجھتے ہیں جو قابو سے باہر ہو چکا ہے۔

گوگل کی بے پناہ طاقت اور پہنچ کے باعث اسے ختم کرنے کے مطالبے سامنے آرہے ہیں(اے ایف پی)

یہ 1999 کی بات ہے جب لیری پیچ اور سرگئی برین نے گوگل کوساڑھے سات لاکھڈالرز میں ایک حریف سرچ انجن کو فروخت کرنے کی پیش کش کی تھی۔

یہ دونوں اس وقت کیلی فورنیا کے نواحی علاقے میں دو کاروں کے لیے بنے گیراج سےکمپنی چلا رہے تھے۔

لیری اور سرگے اس وقت لیگو سے بنا ایک کمپیوٹر سرور استعمال کر رہے تھے۔ اتنے کم سرمائے سے آغاز کے باوجود انھوں نے ’دنیا بھر میں قابل رسائی اور قابل استعمال‘ سرچ انجن بنانے کا دعوی ٰکیا تھا اور وہ اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔

گوگل کا یہ ممکنہ گاہک دنیا کا دوسرا بڑا سرچ انجن ایکسائٹ تھا۔اس وقت پہلے نمبر پر یاہو تھا لیکن اس کے سی ای او جارج بیل نے فیصلہ کیا کہ گوگل کو خریدنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

 جارج بیل نے 2015 میں ایک انٹرویو کے دوران کہا: ’میرے خیال میں ہم نے اس وقت جو فیصلہ کیا تھا وہ درست تھا لیکن اب ایسا کہنا بہت مضحکہ خیز ہو گا۔‘

ساڑھے سات لاکھ ڈالر کی اس ناکام ڈیل کے پانچ سال کے اندر ہی گوگل کی قدر 23 ارب ڈالر تک جا پہنچ چکی تھی اور اب 20 سال بعد یہ ایک ٹریلین ڈالر مالیت کی حامل کمپنی ہے۔

کئی لوگوں کے نذدیک یہ 21ویں صدی میں فری مارکیٹ سرمایہ دارانہ نظام کی کامیابی کی چند بہترین کہانیوں میں سے ایک ہے، جبکہ کئی لوگوں کے لیے یہ ناکامی کی ایک داستان ہے،ایک ایسا عفریت جو قابو سے باہر ہو چکا ہے۔

ان کے بقول گوگل کا مقصد لوگوں کو معلومات تک رسائی دینا تھا لیکن اب اس کا نیا مقصد لوگوں کی معلومات اکٹھی کرنا اور منافع کمانا بن چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 لگ بھگ 20 سال تک گوگل میں سب سے مشہور کاروباری جملہ تھا ’ ڈونٹ بی ایول‘ یعنی برے مت بنو ، لیکن 2018 میں پرائیویسی سکینڈل اور صارفین کا اعتماد توڑنے کے الزامات کے بعد کمپنی نے خاموشی سے یہ جملہ اپنے کاروباری ضابطہ اخلاق سے حذف کر دیا۔

اب یہ کمپنی صرف سرچ انجن تک محدود نہیں بلکہ یہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک دیو بن چکی ہے، جو مصنوعی انٹیلی جنس کے استعمال سے لے کرڈرون ڈیلیوری تک تمام خدمات فراہم کر رہی ہے۔

اب یہ صرف گوگل نہیں کہلاتی بلکہ 2015 کی ری سٹرکچرنگ کے بعد الفابیٹ کے ماتحت آچکی ہے۔

اسی چھتری تلے اب یہ کمپنی آن لائن دنیا کے ہر شعبے پر مکمل اجارہ داری قائم کر چکی ہے۔ اس کے کروم براؤزر کے پاس مارکیٹ کا 63 فی صد حصہ ہے جبکہ اس کا اینڈروئیڈ موبائل آپریٹنگ سسٹم 90 فیصد سمارٹ فونز میں استعمال ہو رہا ہے۔

گوگل میپ لوگوں کو بتاتا ہے کو وہ مطلوبہ مقام پر کیسے پہنچ سکتے ہیں۔ اس کی ای میل سروس لوگوں کے درمیان رابطے کے کام آتی ہے جبکہ اس کی میوزک اور وڈیو ایپ دنیا کا سب سے بڑا انٹرٹینمنٹ پلیٹ فارم ہے۔

گوگل ان دو کمپنیوں میں شامل ہے جو ڈیجیٹل دنیا میں اشتہارات کی مد میں آدھی سے زیادہ رقم کما رہی ہیں اور اس کا زیادہ تر حصہ اپنے صارفین کی اکٹھی کی جانے والی معلومات کے استعمال سے کمایا جاتا ہے۔ ان دو میں دوسری کمپنی فیس بک ہے۔

گوگل کی اس درجہ ترقی نے پرائیویسی کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا ہے اور حالیہ برسوں میں ڈیٹا چوری ہونے اور سکینڈلز نے ان خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

پہلے گوگل کو ای یو جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جی ڈی پر آر) کے تحت 2019 میں چار کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کا جرمانہ کیا گیا۔ اس سے ایک سال قبل اسے یورپی یونین کی تاریخ کا سب سے بڑاپانچارب ڈالر زکا جرمانہ کیا گیا جس کی وجہ صارفین کے اعتماد کو توڑنا تھا۔

پرائیویسی انٹرنیشنل نے گذشتہ سال تنبیہ کی تھی کہ گوگل ’ہمہ وقت نگرانی کا ماحول‘ پیدا کر رہی ہے جو ’انسانوں کی عزت اور شناخت کے لیے خطرہ ہے اور ان کے خلاف تعصب اور بیگانگی کی وجہ بن رہا ہے۔‘

گوگل کی بے پناہ طاقت اور پہنچ کے باعث اسے ختم کرنے کے مطالبے سامنے آرہے ہیں۔ ڈیموکریٹ پارٹی کیصدارتی ٹکٹ کی امیدوار الزبتھ وارن بھی ان آوازوں میں شامل ہیں اور ان کا دعوی ٰہے کہ یہ کمپنی بہت زیادہ بڑی ہو چکی ہے۔

انھوں نے گذشتہ سال ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا تھا : ’آج ہماری بڑی ٹیک کمپنیز کے پاس ہماری معیشت، ہمارے معاشرے اور ہماری جمہوریت کو قابو کرنے کی بہت زیادہ طاقت ہے۔ انھوں نے مقابلے کے رجحان کو ختم کر دیا ہے، ہماری ذاتی معلومات کو منافع کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور متوازن میدان کو سب کے خلاف اپنے حق میں کر لیا ہے۔‘

گذشتہ ماہ لیری پیج اور سرگئی برین نے کمپنی کے سربراہوں کی حیثیت سے سبکدوشی اختیار کر لی۔ انھوں نے الفابیٹ کے شیئر ہولڈرز کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ وہ اپنے ایک ’چھوٹے پیمانے کے ری سرچ منصوبے‘ کی ترقی سے ’بہت خوش‘ ہیں۔

تاہم ان کے جانے اور پے در پے سکینڈلز اور ریگولیشن کی دھمکیوں کے باوجود ان کی تخلیق کی رفتار کم ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی