عوام کو ریلیف دینے کے لیے دس لنگر خانے کھولنے کا اعلان

وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ اس سال فروری سے مارچ کے دوران دس لنگر خانوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جو پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت کھولے جائیں گے: فردوس عاشق اعوان

 میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کابینہ اجلاس کے دوران کیے گئے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ (سکرین گریب)

وفاقی کابینہ نے مہنگائی کے ستائے عوام کو ریلیف دینے کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں احساس پروگرام کے تحت دس لنگر خانے کھولنے کی منظوری دے دی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت آج وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں ملک میں جاری کمر توڑ مہنگائی کے تناظر میں عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

بعدازاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کابینہ اجلاس کے دوران کیے گئے فیصلوں سے آگاہ کیا۔

فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سال فروری سے مارچ کے دوران احساس پروگرام کے تحت دس لنگر خانوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کھولے جائیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر ساتھ ملایا جائے گا تاکہ اس کی استعداد کو بڑھایا جاسکے۔

فردوس عاشق اعوان نے مزید بتایا کہ اجلاس کے دوران اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ مارچ سے نیوٹریشن پروگرام کا آغاز کر دیا جائے گا جس سے 20 ہزار خواتین مستفید ہوں گی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت 43 لاکھ خواتین کو ماہانہ دو ہزار روپے دیے جارہے ہیں جبکہ اس سال کے آخر تک یہ تعداد سات کروڑ تک پہنچ جائے گی جس سے 46.9 فیصد افراد مستفید ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ احساس فیس سپورٹ پروگرام کے تحت حکومت طلبہ کے لیے 750 روپے اور طالبات کو 1000 روپیہ فی کس ماہانہ بھی فراہم کرے گی۔

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے لیے دو ارب روپے سبسڈی

وفاقی کابینہ نے عوام کو سستے نرخوں پر عام استعمال کی خوردنی اشیا کی فراہمی کے لیے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو پانچ ماہ کی مدت کے لیے ہر ماہ دو ارب روپے کی سبسڈی دینے کی منظوری بھی دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بریفنگ کے دوران ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ اس پیکیج سے یوٹیلٹی سٹورز سے مناسب قیمتوں پر آٹا، چینی، چاول، دالوں اور دیگر خوردنی اشیا کی دستیابی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو مزید ہدایت دی گئی ہے کہ 20 کلو آٹے کا بیگ 800 روپے میں فروخت کیا جائے جبکہ دالیں مارکیٹ سے 15 سے 20 فیصد کم قیمت پر فروخت کی جائیں۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات نے بتایا کہ ’یوٹیلیٹی سٹور کے پیکج سے پہلے 50 لاکھ خاندان فائدہ اٹھا رہے تھے، لیکن اب وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس تعداد کو ایک کروڑ تک بڑھایا جائے جبکہ یوٹیلیٹی سٹورز کی تعداد بھی دو ہزار سے بڑھا کر چار  ہزار تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو وزیر اعظم کو رپورٹ دے گی۔‘

گندم، چینی ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس کے دوران ملک بھر میں گندم اور چینی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چینی اور گندم کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کو وزیراعظم نے ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید سوالات کے ساتھ اسے دوبارہ جمع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں کرونا وائرس کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ آج وزیر صحت نے کابینہ اجلاس کے دوران کو ان اقدامات سے آگاہ کیا جو کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے حکومت اٹھا رہی ہے۔

معاون خصوصی نے مزید بتایا کہ کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے گیس اور بجلی کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے اور سابقہ ادوار میں کیے گئے ایسے معاہدے، جن کی قیمت آج قوم کو ادا کرنی پڑ رہی ہے، ان عوامل کو بھی عوام کے سامنے لانے کی ہدایت دی ہے۔

فردوس عاشق اعوان کے مطابق: ’وزیراعظم نے ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ فی الفور ایک مکینزم بنایا جائے تا کہ مرحلہ وار قمیتوں کو کم کیا جائے اور اس کے لیے جامع رپورٹ ترتیب دینے کی ٹائم لائن بھی دی گئی ہے۔ اس حوالے سے بہت جلد آپ ایک اچھی خبر سنیں گے۔‘

آج کے اجلاس میں کابینہ کی جانب سے حج پالیسی کی بھی منظوری دی گئی۔

اپوزیشن کیا کہتی ہے؟

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر رانا ثنا اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کی نمائندہ مونا خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اچھی بھلی تنخواہ لینے والے کو بھی محسوس ہو رہا ہے کہ قوت خرید کم ہو رہی ہے۔ اگر عام آدمی حالات سے تنگ آ کر گھروں سے باہر نکل آئے تو ملک میں انتشار پھیلے گا۔‘

حکومتی اعلانات کو ایک ’مذاق‘ قرار دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’دس پندرہ ارب کے ریلیف سے مہنگائی کم نہیں ہوتی، یہ تو مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ سبسڈی کا ایک ڈھانچہ بنایا جاتا ہے جس سے مہنگائی کنٹرول ہوتی ہے لیکن اب ویسی سبسڈی نہیں جو پہلی حکومت میں تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’مافیا کے سرغنہ حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں تو حالات ٹھیک کیسے ہوں گے۔ اس صورت حال کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے مڈ ٹرم الیکشن۔‘

مسلم لیگ ن کی رمینا خورشید نے کہا کہ ’حکومت کے اعلانات سے لگتا نہیں کہ عوام کو سکون ملے گا یا غریب کی غربت دور ہوگی کیونکہ غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’بجلی، گیس اور پیٹرول اگر مہنگی ہی رہی گی تو یوٹیلٹی کی سبسڈی سے کیا فائدہ ہو گا؟‘

مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی کی تحقیقات کروائی ہے، تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو موصول ہو گئی ہے لیکن اس رپورٹ کو پبلک کیا جائے اور پارلیمنٹ میں اس پر بحث کرائی جائے کیونکہ اُس میں بڑے بڑے نام ہیں جن کی وجہ سے آٹے اور چینی کا بحران پیدا ہوا۔‘

منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل مسلم لیگ ن کے اراکین نے پارلیمنٹ کے باہر مہنگائی کے خلاف پلے کارڈرز اُٹھا کر احتجاج ریکارڈ کرایا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

عالمی جریدے ’اکانومسٹ‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں دسمبر 2010 کے بعد جنوری 2020 میں مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر رہی اور عوام کی قوت خرید میں واضح کمی دیکھی گئی۔

اس رپورٹ کے بعد وزیر اعظم نے کہا تھا کہ تمام متعلقہ حکومتی ادارے آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے اسباب کی جامع تحقیقات کا آغاز کر چکے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا: ’قوم اطمینان رکھے، مہنگائی کے ذمہ داروں کا بھرپور محاسبہ کیا جائے گا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔‘

اس سے قبل بھی وزیر اعظم مہنگائی کا الزام مافیہ پر ڈال چکے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز بھی ایک اہم اجلاس کی صدارت کی تھی، جس میں معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ  ڈاکٹر ثانیہ نشتر، چیئرمین یوٹیلیٹی سٹورز ذوالفقار علی خان، وزارتِ خزانہ، صنعت و پیداوار اور سماجی تحفظ ڈویژن کے وفاقی سیکرٹری صاحبان، ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز اور دیگر سینیئر افسران نے شرکت کی تھی۔

اجلاس میں عوام الناس اور خصوصاً غریب اور تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اقدامات پرغور کیا گیا تھا۔

اس موقعے پر وزیراعظم کا کہنا تھا: ’ہماری اولین ترجیح پاکستان کے عوام اور خصوصاً غریب اور تنخواہ دار طبقہ ہے جس کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت ہر حد تک جائے گی۔ غریب عوام کی تکالیف پر حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت