مولانا والی محمد شہریار محسود کی جگہ نئے سربراہ مقرر

کنڑ میں بدھ کو بارودی سرنگ سے ہلاک ہونے والے شہریار محسود کی جگہ مولانا والی محمد عرف عمری کو نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔

شہریار محسود ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ حکیم اللہ کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے(تصویر:ٹوئٹر)

افغانستان میں بدھ کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان حکیم اللہ گروپ کے اہم کمانڈر شہریار محسود کی ہلاکت کے بعد مولانا والی محمد عرف عمری کو نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔

مقامی افغان طالبان نے تصدیق کی ہے کہ شہریار محسود کی گاڑی بدھ کی سہ پہر کنڑ کے علاقے دڑارنگ میں بارودی سرنگ کا نشانہ بنی، وہ گاڑی میں اکیلے تھے۔

طالبان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ شہریار محسود کا جنازہ جمعرات کو ہوگا۔

ٹی ٹی پی حکیم اللہ محسود گروپ کے ترجمان نصرت اللہ نصرت کے مطابق کنڑ میں شہریار محسود کی ہلاکت کے بعد مولانا والی محمد عرف عمری کو نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

افغانستان میں مقامی افراد نے انڈپینڈنٹ اردو کو فون پر بتایا کہ شہریار محسود گذشتہ تین برس سے اس علاقے میں مقیم تھے جبکہ پاکستان میں فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘ کے بعد وہ ابتدا میں مشرقی صوبہ پکتیا میں مقیم رہے۔

شہریار محسود کو پاکستان مخالف سوچ رکھنے والے اہم کمانڈر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ حکیم اللہ کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، لیکن حکیم اللہ کی ہلاکت کے بعد شہریار محسود اور خان سعید سجنا کے درمیان تحریک کا سربراہ بننے کے لیے کھینچا تانی شروع ہوگئی۔ اس دوران ایک دوسرے کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں، جن میں طالبان کے درجنوں ارکان ہلاک ہوئے۔

صحافی گوہر محسود کے مطابق شہریار محسود کے ایک قریبی ساتھی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی موت اس لیے بھی زیادہ تشویش ناک ہے کہ وہ سفر کرتے وقت انتہائی محتاط رہتے تھے۔ ’سڑک کنارے ریموٹ کنٹرول حملے میں مار دینا کسی بڑے منصوبے کی تیاری کے بغیر ممکن نہیں۔‘

چند روز میں تحریک طالبان پاکستان کو یہ دوسرا شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس سے قبل اسی ماہ ’فکری استاد‘ کے طورپر شہرت رکھنے والے ٹی ٹی پی رہبر شوریٰ کے اہم رکن اور سابق نائب امیر شیخ خالد حقانی کو بھی افغانستان میں ایک حملے میں ہلاک کیا گیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے پاکستانی طالبان کے خلاف کارروائی میں تیزی افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ امن معاہدے سے قبل پاکستان کو مطمئن کرنے کے لیے کی جا رہی ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا