’چار درجن سے زائد پھول ایجاد کرنے والی‘ سائنس دان فرزانہ پہنور نہ رہیں

کئی غیر ملکی ایوارڈ جیتنے والی فرزانہ پنہور نے زراعت، غذا، ماحول سمیت کئی موضوعات پر عالمی جرائد میں 100 سے زائد سائنسی مقالے۔

فرزانہ نے کراچی یونیورسٹی سے 1981 میں بائیوکیمسٹری میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی (سوشل میڈیا)

پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ کی سائنس دان، محقق اور زراعت، غذا، ماحول سمیت کئی موضوعات پر عالمی جرائد میں 100 سے زائد سائنسی مقالے لکھنے والی 63 سالہ فرزانہ پہنور بدھ کی شام کراچی کے ضیاالدین ہسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے چل بسیں۔ 

فرزانہ سندھ میں آم کی متعدد اجناس، سوکھے ہوئے آم کے درختوں کو سائنسی طریقے سے دوبارہ پھل دار بنانے، نامیاتی کھاد سمیت کئی اقسام کی سائنسی ایجادات کرنے والےآنجہانی سائنس دان ایم ایچ پہنور کی اہلیہ تھیں۔ ان کی تدفین جمعرات کی دوپہر حیدرآباد کے نزدیک کھیسانہ موری سے متصل فروٹ فارم میں کردی گئی۔ 

فرزانہ 15 ستمبر، 1957 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 1981 میں کراچی یونیورسٹی سے بائیوکیمسٹری میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے والی فرزانہ پودوں اور جانوروں کی غذا یعنی نیوٹریشن اینزائمولاجی میں مہارت رکھتی تھی۔ انہوں نے اپنی سائنسی تحقیق سے چار درجن سے زائد ایسے منفرد پھول ایجاد کیے جو کہیں بھی نہیں پائے جاتے تھے۔

اس سائنس دان جوڑے کی ایجادات پر کئی عرصے تک کوریج کرنے والے حیدرآباد کے صحافی اسحاق منگریو کے مطابق فرزانہ نے دیگر کئی ایجادات کے ساتھ سرد علاقوں کے پھل بشمول اخروٹ، انار، بادام اور انجیر میں جینیاتی تبدیلیاں کرکے انہیں سندھ جیسے گرم خطے میں کاشت کرنے کے قابل بنایا تھا۔

اسحاق منگریو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ایم ایچ پہنور اور فرزانہ پہنور کی عمر میں کئی سالوں کا فرق تھا مگر اس کے باجود وہ ایک مثالی جوڑا تھا۔‘

فرزانہ نے 1983 میں اپنی عمر سے کئی سال بڑے ایم ایچ پہنور سے شادی کی۔ 2007 میں ایم ایچ پہنور کی وفات کے بعد وہ ذہنی بیماریوں میں گھر گئیں جس کے بعد انہیں کراچی کے ایک ری ہبیلیٹیشن سینٹر کاروان حیات ہسپتال و شیلٹر ہوم میں داخل کیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے قریبی رشتہ دار اور ماحولیاتی ماہر ناصر پہنور کے مطابق فرزانہ نے کینسر کا سبب بننے والے کیمیکل اور جینیاتی انجینیئرنگ اور پاکستان کی زراعت کے مستقبل پر دو کتابیں لکھیں اور اپنے شوہر ایم ایچ پہنور کو دو درجن سے زائد کتابیں لکھنے میں مدد کی۔

ان کے تحقیقی مقالے اور مضامین امریکہ، جنوبی افریقہ، اٹلی، ناروے، جرمنی، نیدرلینڈز، بھارت، برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی ممالک کے سائنسی جرائد میں چھپ چُکے ہیں۔

سائنسی تحقیق پر انہیں کئی عالمی ایوارڈ دیے گئے جن میں سوئٹزرلینڈ کی جانب سے 1997 میں ’رورل کریٹیوٹی ایوارڈ‘ اور 1998 میں امریکہ کی جانب سے ’گولڈ میڈل آف آنر‘ شامل ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ ان کے شوہر نے آم کی کئی اجناس ایجاد کیں مگر فرزانہ نے کبھی وہ اجناس چکھی تک نہیں کیونکہ انہیں آم سے الرجی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین