فوجی عدالت سے سزا: ’دہشت گرد کو کھانا کھلانا میرے موکل کا جرم بنا‘

فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے ایک ملزم جمشید خان کے وکیل لائق خان سواتی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ان کے موکل 2012 سے حراستی مرکز میں ہیں، جن کا پانچ سال بعد مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان لیا گیا۔

وکیل لائق خان سواتی نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا: ’میرے موکل کا جرم یہی تھا کہ انہوں نے دہشت گرد کو کھانا کھلایا اور اسے اپنے گھر میں رکھا، جس پر انہیں  سزائے موت سنا دی گئی۔‘(تصویر: پکسابے)

سپریم کورٹ آف پاکستان میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 71 ملزمان کی بریت کے خلاف وزارت دفاع کی اپیلوں پر سماعت کے دوران ایک ملزم کے وکیل نے عدالت کے روبرو دلائل دیے کہ ان کے موکل کو ایک دہشت گرد کو کھانا کھلانے کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی۔

نومبر 2018 میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 71 ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے اُن کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ یہ سزائیں قانون اور حقائق کی نظر میں بدنیتی پر مبنی ہیں۔ ساتھ ہی عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت مدعا علیہان کو حکم دیا تھا کہ سزا پانے والے تمام افراد اگر کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہوں تو انہیں رہا کر دیا جائے، تاہم وفاق نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر کے حکم امتناع لے لیا تھا۔ 

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے آج وزرت دفاع کی اپیلوں پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایک درخواست گزار جمشید خان کے وکیل لائق خان سواتی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل 2012 سے حراستی مرکز میں ہیں، جن کا پانچ سال بعد مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان لیا گیا۔

وکیل نے مزید بتایا کہ جمشید علی کو 2012 میں اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ کی مداخلت پر ان کے موکل کے اغوا کا مقدمہ درج ہوا۔‘

انہوں نےعدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا: ’میرے موکل کا جرم یہی تھا کہ انہوں نے دہشت گرد کو کھانا کھلایا اور اسے اپنے گھر میں رکھا، جس پر انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔‘

وکیل لائق خان سواتی نے مزید کہا کہ میرے موکل کو جو وکیل دیا گیا وہ ڈمی تھا۔

اس موقعے پر جسٹس منیب اختر نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ جس شخص کا کورٹ مارشل فوجی عدالت سے ہوا ہو،  وہ آرٹیکل 199 کے دائرہ کار میں آتا ہے؟

تاہم وکیل لائق خان سواتی اس معاملے پر عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔ اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کورٹ مارشل کے تحت سزا یافتہ افراد آرٹیکل 199 کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ ’بظاہر لگ تو نہیں رہا کہ آپ کے دلائل ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپورٹ کر رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس پر ملزم کے وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ ’اصل معاملہ یہ ہے کہ کیا آرمی ایکٹ میں اس بات کی اجازت ہے کہ ایف آئی آر کا اندراج کیے بغیر کسی کو حراست میں رکھا جائے اور پانچ سال بعد اعترافی بیان لیا جائے؟‘

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے لیا گیا بیان قابلِ تسلیم ہے؟

وکیل لائق خان سواتی نے جواب دیا کہ ’ایسا اعترافی بیان جو کسی  فوجی افسر نے لیا ہو اور اس کا کوئی گواہ بھی نہ ہو وہ قابل تسلیم تصور نہیں ہو گا۔ یہ شفاف ٹرائل کے زمرے میں نہیں آتا۔‘

جسٹس منیب اختر نے ملزم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ دو باتوں کو گڈمڈ کر رہے ہیں، شفاف ٹرائل اور اعترافی بیان دو الگ معاملے ہیں۔‘

انہوں نے ملزم کے وکیل کو آرمی ایکٹ کی شقیں پڑھنے کا کہا۔

جس کے بعد وکیل لائق خان سواتی نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں 2015 میں جو ترمیم کی گئی تھی اس کے بعد عام شہریوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے، لیکن یہاں معاملہ شفاف ٹرائل کا ہے۔ ایکٹ میں ترمیم سے پہلے تین سال اور ایکٹ کے بعد مزید دو سال کس قانون کے تحت ان کے موکل کو حراست میں رکھا گیا؟

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ وہ کیس ہے جس کا فیصلہ جب پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ نے دیا تو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادو کیس کے فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی تعریف کی گئی۔‘

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ان تمام نکات پر عدالت کو بتایا کہ ’فوجی عدالت کا ٹرائل کا اپنا طریقہ کار ہے۔ آرمی ایکٹ میں فوجی عدالت سے سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار بھی قانون میں موجود ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’71 اپیلیں ہیں، ہر ملزم پر علیحدہ الزام ہے لیکن پشاور ہائی کورٹ نے فیصلے میں نہ قانون کو مدنظر رکھا اور نہ ہی حقائق کو بلکہ تحقیقات اور ٹرائل کے دوران ملزمان کو بری بھی کیا جاتا ہے۔‘

جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ کیا ملزمان کے اعترافی بیان کے علاوہ کوئی شواہد ہیں؟ کیونکہ صرف ایف آئی آر اور اعتراف جرم کوئی شواہد نہیں۔

انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ قانون شہادت کے تحت فوجی افسر کے سامنے اعتراف جرم کی کوئی حیثیت نہیں۔ ملزم کا اعترافی بیان صرف مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہو سکتا ہے۔

ان نکات پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ حراستی مرکز کا مجاز افسر عدالت میں اعترافی بیان لینے کا حلف دیتا ہے۔ فوجی عدالتوں میں ججز اور گواہان سب حلف لیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے ضابطہ فوجداری کو مدنظر رکھ کر فیصلہ دیا جبکہ فوجی عدالتوں پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق نہیں ہوتا۔ پشاور ہائی کورٹ نے مفروضوں کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے سماعت 10 مارچ تک کے لیے ملتوی کردی، جہاں مزید درخواست گزاروں کے وکیل اپنے دلائل دیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان