ہم جو بغیر وینٹی لیٹر کے مارے گئے!

کرونا وائرس کی وبا نے کچھ ایسے راز افشا کیے ہیں جن پر شاید ہمیشہ پردہ پڑا رہتا۔ ایسا ہی ایک راز وینٹی لیٹر بھی ہے۔

نجی ہسپتال بچوں کے وینٹی لیٹر کا ایک دن کا خرچہ 45 ہزار روپے لیتے ہیں(اے ایف پی فائل فوٹو)

کرونا وائرس (کورونا) کی وبا کیا آئی، اپنے ساتھ دہشت، تنہائی، نیم حکیموں کے ٹوٹکے، ملاؤں کے ڈراوے اور ہم پاکستانیوں کے لیے بے سرو سامانی لے کر آئی۔

لیکن یہ بلا اپنے ساتھ کچھ معلومات بھی لے کر آئی ہے۔ اس کی آمد سے کچھ ایسے رازوں سے پردہ اٹھا ہے جو شاید ہمیشہ راز ہی رہتے۔ اس طوفان کی آمد کے ساتھ ہمیں پتہ چلا کہ 22 کروڑ کی آبادی میں کسی مریض کی سانسوں کو قائم رکھنے کے لیے پورے ملک میں وینٹی لیٹروں کی تعداد دو ہزار سے بھی کم ہے اور ان میں بھی سارے فعال نہیں۔

یہ اعداد و شمار اب کرونا کی مہربانی سے میڈیا کی زینت بن رہے ہیں، لیکن خاکسار کو ان کا تجربہ بہت پہلے ہو چکا ہے۔   

 یہ فقیر دو نومبر، 2013 کو اپنے نو ماہ کے بیٹے سروش حیدر کو حیدرآباد سے لے کر کراچی تک کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر نہ ملنے کی وجہ سے پوری رات دوستوں یاروں کو مدد کے لیے فون کر کر کے ستاتا رہا، لیکن کہیں یہ سہولت دستیاب نہیں تھی۔ اول تو ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر تھے ہی نہیں، اگر تھے تو پہلے سے مصروف تھے۔

پھر کہیں جا کر اگلے دن محکمہ صحت سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری اور مہربان دوست سید امداد علی شاہ کی آمد سے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کراچی میں میرے بچے کو وینٹی لیٹر ملا، لیکن وینٹی لیٹر ملنے کے بعد جب اس کا خرچ معلوم کیا تو ہوش ٹھکانے آ گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے لے کر سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نجی ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر کا ایک دن کا ذرا خرچہ معلوم کر لیں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ عوام کے ساتھ اس ملک میں کیا ہوتا رہا ہے اور کیا ہو رہا ہے۔ ترجیحات کیا ہونی چاہیے تھیں اور کیا ہیں۔

نجی ہسپتال بچوں کے وینٹی لیٹر کا ایک دن کا خرچہ 45 ہزار روپے لیتے ہیں۔ میرا سروش سات دن وینٹی لیٹر پر رہا اور 10 نومبر کو اس کی پیاری آنکھیں اور سانسیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔

میری کہانی شاید چھپی ہی رہتی، لیکن کرونا نے آ کر اس موضوع پر بات چیت کے بند دروازے کھلوائے ہیں، ورنہ وینٹی لیٹر بھی کیا کوئی ضرورت کی چیز ہے؟ صوبہ سندھ کی سات کروڑ آبادی کے لیے کُل 800 وینٹی لیٹر ہیں اور ان میں سے بھی فعال صرف 700 کے لگ بھگ ہیں۔

اس ملک میں بچوں کے کتنے ہسپتال ہیں اور ان میں سے کتنوں میں وینٹی لیٹر کی سہولت موجود ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو اس سے پہلے مکمل نظرانداز کیا گیا، حالانکہ یہی پاکستان میں نو عمر بچوں کی اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

اپنے پیاروں کو ہسپتالوں میں سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے جو تڑپتے دیکھتے ہیں، ان کو جنگ کے لیے اکسانے والے نغمے نہیں، سانسیں بحال کرنے کے لیے وینٹی لیٹر چاہییں جناب!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ