ترکی میں گزارے ہوئے لاک ڈاؤن کے شب و روز

یورپ میں تباہیاں مچانے کے بعد کرونا نے اب ترکی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جس کے بعد حکومت نے سخت اقدامات کیے ہیں۔

کرونا وائرس نے ترکی میں پنجے جمانا شروع کر دیے ہیں (روئٹرز)

آپ کو کیسا محسوس ہو گا کہ آپ جس راستے سے روز گزرتے ہوں، جہاں چہل پہل ہو، رونق ہو، لوگوں کا ہجوم ہو، سڑکوں پر شور کرتی گاڑیاں لوگوں سے بھری ہوں، پھولوں کی دکانیں مہکتے پھولوں سے سجی ہوں، صبح صبح مسکراتے بچے سکول کی یونی فارم میں جا رہے ہوں اور اچانک یہ سب کچھ گم ہو جائے، سڑکیں ویران اور لوگ گھروں میں بند ہوجائیں تو آپ کے من کا آنگن بھی سونا ہو جاتا ہے۔

یہی حال آج کل پوری دنیا کا ہے۔ کورونا نے اس وقت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، یہ بیماری چین کے شہر ووہان سے شروع ہوئی اور دیکھتے دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ بیماری اب تک دنیا کے 124 ممالک میں پھیل چکی ہے اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا وائرس ہے جو کہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے لگتا ہے۔ اس نفسانفسی کے دور میں لوگ ایک دوسرے سے ہی لوگ بیزار ہیں اور رہی سہی کسر وائرس نے نکال دی۔

میں ان دنوں ترکی میں رہائش پذیر ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ لوگ اس وائرس سے کم اس کی ٹینشن سے زیادہ مر رہے ہیں۔ کیونکہ کہ وائرس کی دہشت نے انسان کو اتنا خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ اپنے آپ سے بھی ڈرنے لگا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ چند روز قبل ہی میں فیس بک دیکھ رہی تھی تو ‎عجیب و غریب قسم کی ویڈیوز نظر آئیں، جن میں کورونا کی علامات اور احتیاطی تدابیر بتائی گئی تھیں، پھر 15 منٹ بعد مجھے واٹس ائپ پر عجیب و غریب ویڈیوز موصل ہوئیں۔ جن میں احتیاطی تدابیر اپنانے کا کہا جا رہا تھا۔ میرا دل سوال کرنے لگا کہ موت تو آنی ہے پھر لوگ اتنا کیوں ڈر رہے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ چند روز قبل میں اپنی یونیورسٹی کے کام کے سلسلے میں ایک دکان پر گئی اور وہ مجھے حقارت بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔ مجھے لگا شاید آج میں پاکستانی کپڑوں میں ہوں لیکن بعد میں جس طرح اس نے گلوز پہن کر میرے لیپ ٹاپ کو پکڑا اور دور ہو کر مجھے سے بات کی تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے میرے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پھر مجھے روز بروز حالات بگڑے ہوئے نظر آئے اور تمام تر دکانیں بازار، اور مساجد بھی ویران ہو گئیں۔ یہاں تک کہ (بی آئی ایم) ایک دکان جہاں سے سامان ملتا ہے وہ بھی ویران ہو گئی۔ بس گنی چنی دکانیں کھلی تھیں، جہاں سامان ملتا اور لوگ گھر سے نکل کر جاتے اور کھاتے ہیں۔ ہر جگہ پولیس کھڑی ہے اور گلی گلی میں سینیٹائزر لگا دیے ہیں۔ یہاں تک کہ میٹرو بس میں بھی سینیٹائزر لگے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ نہ انسان نہ انسان ذات۔ دو دن قبل میرا تقسیم سکوئر ہوا۔ استنبول کے اس مشہورِ زمانہ مرکز کو ویران دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں۔ انجان، پاگل اور دیوانوں کی طرح میں استقلال میں چکر مارتی رہی کبھی آنے والے راستے پر کبھی جانے والے راستے پر مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میرا راستہ کس جانب ہے۔

ایک بندے نے مجھے پکڑا اور پوچھا، ’کون ہو تم، سیاح ہو؟ کیوں بلا وجہ گھوم رہی ہو، نہ گلوز پہنیں اور نہ ہی ماسک؟‘

وہ اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا، اور میں اپنی۔ اسے یہ بتانا تھا کہ میں پچھلے چار ماہ سے یہاں ہوں اور یہ وہی تقسیم چوک ہے جو میرے دل کو سکون دیتا ہے۔

وہ مجھے گھورتا رہا اور ترکی زبان میں کہتا جا رہا تھا کہ ’بی بی احتیاط کرو۔ گھر پر آرام کرو، جیسے پروازیں شروع ہوں تو اپنے وطن واپس جاؤ۔‘

اسے کیا پتہ کہ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے یہاں آئی ہوں اور میرا اور اس ملک کا تعلق اگلے تین برسوں تک جڑ چکا ہے۔ میں صرف پڑھنے نہیں آئی بلکہ اس ملک کہ خوبصورت ، قاعدے قانون اور ہر چیز کا علم اپنے ملک کے لوگوں میں بانٹا چاہتی ہوں۔ میں روز کوئی نہ کوئی نئی جگہ دیکھنے جاتی ہوں میں اس جگہ کے بارے اپنی ڈائری لکھتی ہوں۔ اسی وقت میری نظر ٹرام پر پڑی جس میں بیٹھنے کی جگہ ہی نہیں ہوتی لوگ اس کے ساتھ تصاویر بناتے ہیں مگر آج وہ ٹرام بھی ویران تھی۔ ایسا لگا وہ مجھے گھور رہی تھی۔

کرونا کو ترکی پہنچتے پہنچتے دیر لگی، مگر بالآخر پہنچ ہی گیا۔ جب یہ وائرس پاکستان اور چین میں تھا تو ترکی کے حالات اتنے برے نہیں تھے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس ملک کو بھی جیسے کسی کی نظر لگ گئی اور ترکی بھی وائرس کی لپیٹ میں آگیا۔

شروع میں لوگوں نے اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن اب یہ صورتِ حال ہے کہ ترکی میں اس وقت تک مصدقہ کیسوں کی تعداد ایک لاکھ 12 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے جب کہ 2900 لوگ کرونا کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت بھی حرکت میں آئی ہے اور ملک بھر کے تعلیمی ادارے، بینک، مال، شاپنگ مالز اور ہر قسم کے دوسرے ادارے بند کر رہے گئے ہیں اور اور نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔ لوگوں کو سخت ہدایات ہیں کہ ایک دوسرے سے دور رہیں۔ لوگ یہاں پر ماسک اور گلوز پہن کر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے بڑے پیمانے پر لوگوں کے ٹیسٹ کرنا شروع کر دیے ہیں اور لوگوں کی حفاظت کے لیے جگہ جگہ سینیٹائزر بھی لگا دیے ہیں۔

باقی یورپی ممالک کے حساب سے ترکی نے نسبتاً بہتر طریقے سے اس وائرس کو کنٹرول کیا ہے۔ پہلے جہاں پانچ ہزار تک روزانہ کیس رپورٹ ہوتے تھے، اب نصف سے بھی کم ہو گئے ہیں۔

اس کی وجہ سخت لاک ڈاؤن ہے۔ پورا ملک بند ہے، بس چھوٹے ریستوران کھلے ہیں جہاں آپ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے، بس پیک کروا کر گھر لے جا سکتے ہیں۔

ویران اور اداس شہر کو دیکھ کر میرے دل پر بھی اداسی چھانے لگی۔ اس لیے میں نے گھر کا رخ کرنے کے لیے میٹرو پکڑی۔ وہاں سے نکلتے ہی میں نے میٹرو پکڑی، اس کی تقریباً ساری سیٹیں خالی تھیں، جبکہ عام دنوں میں میٹرو میں سیٹ ہی نہیں ملتی اور میں ہمشہ کھڑی رہتی تھی۔ اور اس سوچ میں گرفتار ہو گئی کہ تقسیم سے چلنے کے مقابلے میں رش کم تھا۔

بس کی کھڑکیوں سے بھی وہی منظر نگاہوں کے سامنے تھا۔ خالی سڑکیں، ہر جگہ ویرانی عالم، دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ بس چلتی رہی اور میری منزل آگئی۔

میرے گھر کے باہر ایک ہسپتال ہے وہاں دیکھا تو ایک عورت کو لے جا رہے تھے، میری فکر بڑھ گئی میں نے پوچھا کہ کیا ماجرا ہے۔ تو پتہ چلا کہ وہ کرونا میں مبتلا ہو کر دنیا سے چل بسی ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی خطرہ ٹلا نہیں ہے اور حکومت کی کارروائیوں سے شہر ویران تو ہوا ہے، لیکن شاید پہلے سے زیادہ محفوظ بھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ