بھارت، چین اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھا رہے ہیں: رپورٹ

ایس آئی پی آر آئی نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے اور اسلحے پر قابو پانے کی کوششوں کے باوجود ایٹمی طاقتیں اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے میں مصروف ہیں۔

بھارت نے 1974 میں راجستھان کے علاقے  پوکھران میں پہلا  ایٹمی ٹیسٹ کیا تھا( اے ایف پی)

محققین نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے اور اسلحے پر قابو پانے کی کوششوں کے باوجود ایٹمی طاقتیں اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے میں مصروف ہیں۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) میں جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول پروگرام کے ڈائریکٹر اور اس رپورٹ کے شریک مصنف شینن کِلی کا کہنا ہے: 'روس اور امریکہ کے مابین رابطوں کے اہم چینلز کی بندش سے دنیا میں جوہری اسلحے کی دوڑ میں ممکنہ اضافے کا اندیشہ ہے۔'

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روس اور امریکہ دنیا کے تمام جوہری ہتھیاروں کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں۔ شینن کِلی امریکہ اور روس کے مابین 'نیو سٹارٹ' جوہری معاہدے کے مستقبل کا ذکر کر رہے تھے، جو فروری 2021 میں ختم ہونے والا ہے۔

یہ واحد ایٹمی معاہدہ ہے جو اب بھی دونوں سپر پاورز کے مابین قائم ہے، جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو سرد جنگ کی سطح سے کم رکھنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایس آئی پی آر آئی کے محققین نے کہا: 'دونوں ملکوں نے 2019 میں نیو سٹارٹ معاہدے میں توسیع کرنے یا کسی نئے معاہدے پر بات چیت کرنے پر کوئی پیش رفت نہیں کی۔'

دوسری جانب رپورٹ میں کہا گیا کہ ایٹمی طاقتیں اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنا رہی ہیں جب کہ چین اور بھارت اپنے جوہری اسلحے کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔

'چین اپنے جوہری ہتھیاروں کی جدت کاری کے وسط میں ہے۔ وہ پہلی بار نام نہاد 'نیوکلیئر ٹرائیڈ' تیار کررہا ہے جو نئے زمینی اور بحری میزائلوں اور جوہری صلاحیت رکھنے والے طیاروں پر مشتمل ہے۔'

بیجنگ نے بارہا واشنگٹن کے اس اصرار کو مسترد کیا ہے کہ وہ آئندہ جوہری ہتھیاروں میں کمی کے حوالے سے مذاکرات میں شامل ہو۔

وار ہیڈز کی تعداد میں کمی

ایٹمی طاقتیں اپنے ہتھیاروں کو جدید بنانے میں مصروف ہیں تاہم گذشتہ ایک سال کے دوران عالمی سطح پر نیوکلیئر وار ہیڈز کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ایس آئی پی آر آئی کے اندازوں کے مطابق 2020  کے آغاز پر امریکہ، روس، برطانیہ، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس کل 13،400 جوہری ہتھیار تھے، جو 2019 کے مقابلے میں 465 کم ہیں۔

 بنیادی طور پر امریکہ اور روس نے اپنے وار ہیڈز کی تعداد کو کچھ کم کیا ہے۔ اگرچہ 'نیو سٹارٹ' معاہدے کا مستقبل غیر یقینی ہے تاہم واشنگٹن اور ماسکو نے ماضی میں معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں دونوں ممالک نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو معاہدے کی سطح سے بھی کم رکھا۔ 'لیکن دونوں ممالک نے اپنے جوہری وار ہیڈز، میزائلز اور طیاروں کے ذریعے ان کی ترسیل کے نظام اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے پلانٹس کی جدید کاری کے لیے وسیع اور مہنگے پروگرام شروع کیے ہیں۔'

یہ سب کچھ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق معاہدے (این پی ٹی) کی رواں سال 50 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

1980 کی دہائی کے وسط میں دنیا میں تقریباً 70 ہزار وار ہیڈز تھے جس کے بعد جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی واقع ہونا شروع ہوئی۔پہلی پانچ ایٹمی طاقتوں واشنگٹن، بیجنگ، ماسکو، پیرس اور لندن نے مارچ میں جوہری معاہدے سے متعلق اپنے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا