پانچ جولائی 1977: وہ وعدہ جو وفا نہ ہوا

جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد قوم سے وعدہ کیا تھا کہ 90 روز میں پرامن انتخابات کروا کے فوج واپس بیرکوں میں چلی جائے گی اور پاکستانی عوام نے فوجی جنرل کی بات پر یقین بھی کرلیا۔

5  جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لا لگانے کے بعد جنرل ضیا الحق  قوم سے خطاب کرتے ہوئے (فائل تصویر: اے ایف پی)

یوں تو 5 جولائی 1977 کو گزرے 43 سال ہو گئے، لیکن اگر حالات کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں 43 سال قبل تھے۔ فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ چہرے تبدیل ہو گئے۔

چار دہائیاں قبل سیاسی شخصیات، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو چن چن کر پسِ زنداں کیا جاتا اور ان کی ننگی پیٹھ پر کوڑے برسائے جاتے تھے۔ اظہار رائے پر مکمل پابندی تھی، کھلے عام مارشل لا حکومت پر تنقید کرنا گویا موت کو آواز دینے کے مترداف تھا۔ آج بھی سیاسی شخصیات، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر جھوٹے فرضی مقدمات بنا کر پس زنداں یا پھر جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد قوم سے وعدہ کیا کہ 90 روز میں پرامن انتخابات کروا کے فوج واپس بیرکوں میں چلی جائے گی، پاکستانی قوم نے جنرل کی بات پر یقین کر لیا اور ایسا لگا کہ 90 دن بعد الیکشن ہو جائیں گے اور جمہوریت پھر سے چل پڑے گی مگر اس سیاہ دن مکمل جمہوری اقتدار کا غروب ہونے والا سورج 43 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک گہنایا ہوا ہے۔

جنرل ضیا الحق کی بطور آرمی چیف تقرری کی روداد بھی بڑی دلچسپ ہے۔ وہ سینیارٹی کے اعتبار سے ساتویں نمبر پر تھے۔ جنرل مجید ملک مرحوم اپنی کتاب 'ہم بھی وہاں موجود تھے' میں لکھتے ہیں کہ 'ضیا الحق نے بھٹو کی قربت حاصل کرنے کے لیے کاسہ لیسی کی ایسی مثالیں قائم کی جو فوجی روایات کے خلاف تھی۔ ضیا الحق کو لیفٹیننٹ جنرل بنا کر ملتان کور کی کمان دی گئی تو ایک دن بھٹو نے ملتان وزٹ کرنا تھا۔ ضیا الحق نے حکم جاری کیا کہ ہماری کور کے تمام آفیسرز سڑک پر لائن میں کھڑے ہو کر بھٹو کا استقبال کریں گے، جس کے بعد ضیا الحق اور باقی تمام آفیسرز نے سڑک پر کھڑے ہو کر بھٹو کا استقبال کیا، یہ بات فوجی روایات کے بالکل برعکس تھی۔'

بھٹو لیفٹننٹ جنرل محمد اکبر خان یا جنرل مجید ملک میں سے کسی ایک کو چیف آف آرمی سٹاف بنانا چاہتے تھے مگر جنرل ضیا الحق نے بھٹو کی قربت حاصل کرنے کے لیے جو اقدام اٹھائے، بھٹو جیسا ذہین ترین آدمی بھی دھوکہ کھا گیا۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ضیا الحق شریف، حلیم الطبع اور بے ضرر شخص ہیں۔ اس کے علاوہ مہاجر بھی ہیں اور کوئی مخصوص علاقہ نہیں رکھتے۔ فوج کے اندر بھی مضبوط لابی نہیں اس لیے حکومت کے لیے موزوں ترین آرمی چیف ضیا الحق ہی ہو سکتے ہیں۔

آرمی چیف بننے کے بعد ان کی نظریں اقتدار  پر تھیں اور وہ مناسب وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ بھٹو کے خلاف ملک کے اندر تحریک زوروں پر تھی۔ بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے بھٹو نے قوم سے قبل از وقت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جنوری 1977 میں انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا اور قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے 7 مارچ کی تاریخ رکھی گئی جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے لیے 10 مارچ کا اعلان کیا گیا۔

اپوزیشن سر جوڑ کر بیٹھ گئی اور انہوں نے اپنے تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھ کر بھٹو دشمنی میں ایک جھنڈے تلے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس نئے اتحاد کا نام پی این اے یعنی پاکستان قومی اتحاد رکھا گیا۔ اس اتحاد میں اپوزیشن کی نو جماعتیں شامل تھیں۔ مفتی محمود مرحوم کو اس اتحاد کا سربراہ، نوابزادہ نصراللہ کو نائب صدر، رفیق احمد باجوہ کو سیکرٹری جنرل اور پیر آف پگاڑا کو مرکزی پارلیمانی بورڈ کا چیئرمین نامزد کیا گیا۔

بھٹو خود بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔ سیاسی زبان میں اسے جمہوری عمل قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم آئین کے لحاظ سے یہ درست تھا۔ 8 مارچ کا سورج طلوع ہوا تو پاکستان پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے قومی اسمبلی کا انتخابات جیت چکی تھی، مگر اپوزيشن نے حسب توقع ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اس کے علاوہ 11 مارچ کو انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا بھی اعلان کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابق چیف آف سٹاف ڈی جی آئی ایس آئی بریگیڈیئر ریٹائرڈ ارشاد ترمذی اپنی کتاب 'حساس ادارے' میں لکھتے ہیں کہ 11 مارچ کو اپوزیشن کی ہڑتال کامیاب رہی۔ بھٹو نے اس بات کو تسلیم کر لیا کہ بعض حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے، تاہم انہوں نے قومی اتحاد کے اس مطالبے کو سرے سے رد کر دیا کہ ایک غیر جانبدارانہ قومی حکومت فوج کی نگرانی میں نئے سرے سے انتخابات کرائے۔ اس عرصے میں قومی اتحاد کے بعض رہنماؤں کا 'غیر ملکی آقاؤں' سے رابطہ ہو چکا تھا، جو اپوزیشن کو فنڈنگ کرتے تھے جس سے ملک کے اندر حالات روز بہ روز خراب تر ہو رہے تھے۔

 بریگیڈیئر ترمذی لکھتے ہیں کہ اس تحریک کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ جمعیت علمائے پاکستان نے 'بھٹو ہٹاؤ' تحریک کو نظام مصطفیٰ کے نعرے کے حوالے سے ہائی جیک کر لیا اور جو تحریک حکومت کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور دوبارہ انتخابات کروانے کے مطالبے سے شروع ہوئی تھی وہ نظام مصطفیٰ کے مطالبے کی تحریک بن گئی۔

یہ نعرہ اس قدر مقبول ہوا کہ قومی اتحاد کے بیشتر حامی اسے اپنے ایمان کا حصہ بنا بیٹھے۔ ان کے نزدیک اس نظام کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھٹو کی ذات سمجھی جاتی تھی۔ تحریک کو موثر بنانے کے لیے ایک عجیب و غریب طریقہ اختیار کیا گیا۔ نظام مصطفیٰ کے حق میں نکالے جانے والے جلوسوں میں دینی مدارس کے نوجوان طلبہ جوق در جوق شریک ہو رہے تھے۔ انہوں نے کرفیو کے اوقات اور نماز عشا کے بعد تسلسل سے مساجد اور گھروں کی چھتوں پر اذانیں دینا شروع کر دیں۔ اطلاعات کے مطابق ان 'معزز مؤذنوں' کو 15 روپے فی اذان کے حساب سے ادائیگی کی جا رہی تھی۔

ممکن نہیں تھا کہ فوج ان معاملات سے بالکل الگ تھلگ رہے۔ فوج صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی۔ اسی دوران فوج نے اپریل 1977 میں بھٹو کو سخت الفاظ میں پیغام بھیجا کہ معاملات میں سدھار لایا جائے۔ جس کے بعد بھٹو نے اپوزیشن سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جو کامیابی کی طرف جا رہا تھا۔

الطاف حسین قریشی نے اپنی کتاب 'ملاقاتیں کیا کیا' میں جنرل ضیا الحق کے انٹرویو کے حوالے سے لکھا کہ 'جون کے آخری دنوں میں مسٹر بھٹو نے جرنیلوں کو کابینہ کے اجلاس میں بلانا شروع کر دیا۔ ایک رات کابینہ کی میٹنگ ہوئی اور بھٹو صاحب خاصے پریشان نظر آئے۔ دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد بولے: آئیے جنرل صاحب آپ بھی اقتدار میں شامل ہو جائیں، زیادہ تر اختیارات آپ کے ہاتھ میں ہوں گے۔'

'پہلی اور دوسری جولائی کو اسی نوع کا تماشہ ہوتا رہا۔ جنرل ضیا الحق کہتے ہیں کہ تین جولائی کی رات کو میرے اعصاب نے حقیقی خطرہ بھانپ لیا، چنانچہ میں بڑے اقدام کے امکانات کا جائزہ لینے لگا۔ حکومت کی ذہنی کیفیت ہمارے سامنے تھی، چنانچہ ساڑھے پانچ بجے کے قریب میں نے راولپنڈی سے باہر احکام جاری کر دیئے کہ رات بارہ بجے 'ڈی ڈے' ہو گا۔'

رات آٹھ بجے وزیراعظم ہاؤس سے فون آیا کہ آج رات کابینہ کا اجلاس ہو گا جس میں آپ کی شرکت ضروری ہے۔ وقت جلد بتا دیا جائے گا، میرے لیے یہ پیغام بے حد تشویش ناک تھا۔ اگر 12 بجے تک اجلاس جاری رہتا تو اس میں بڑی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی تھی، چنانچہ راولپنڈی کے لیے میں نے وقت آگے بڑھا دیا۔ ایک ایک لمحہ جسم کے اندر کانٹے کی طرح پیوست ہوتا جا رہا تھا۔ لاکھوں وسوسے اور ہزاروں خدشات تھے۔ یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہ ہمارے منصوبے کا کسی کو علم ہو گیا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔'

'خیال کی ایک لہر اٹھی کہ ضیا الحق تم کہیں غلطی پر تو نہیں؟ کیا تم پاکستان کو مارشل لا سے بحفاظت نکال سکو گے؟ میں نے وضو کیا اور خشوع وخضوع سے نماز ادا کی۔ ایسی لذت محسوس ہوئی جو پہلے نہ تھی۔ دوسری طرف سے فون آیا، میں نے کال اٹینڈ کی تو وزیراعظم لائن پر تھے۔ انہوں نے کابینہ کے اجلاس کی منسوخی کی اطلاع دی۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور راولپنڈی کو قطعی احکام جاری کر دیئے۔'

فوج کی اس کارروائی کو 'آپریشن فیئر پلے' کا نام دیا گیا تھا۔ پانچ جولائی 1977 کی صبح چھ بج کر چار منٹ پر مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ مسلح افواج نے پانچ جولائی کی صبح سے ملک میں نظم و نسق سنبھال لیا ہے اور تمام سیاسی رہنما عارضی طور پر مارشل لا حکومت کی حفاظت میں ہیں۔

الطاف قریشی کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل ضیا الحق نے کہا: 'میں تو جمہوریت پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہوں۔ فوجی حکومت ایک طرح کا انتہائی ناگزیر مرحلہ ہے۔ اسے زندگی کا معمول نہیں بنایا جا سکتا۔ ہم اقتدار پر قابض رہنے کے لیے نہیں اقتدار منتقل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ عام انتخابات 8 اکتوبر کو ضرور ہوں گے۔ خدا اور پوری قوم کے ساتھ میں نے ایک عہد کیا ہے اور اسے پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ میری دعا ہے کہ اللہ ہمیں بصیرت اور قوت عطا فرمائے اور ہر قدم پر ہماری رہنمائی کرتا رہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ