’ریمڈیسی ویر پاکستان میں رواں ماہ کے آخر تک دستیاب ہو گی‘

ریمیڈیا تیار کرنے والی پاکستانی کمپنی فیروز سنز لیباریٹریز کے مطابق کوووڈ 19 کے مریضوں کو دیے جانے والی دوا کے ایک انجیکشن کی قیمت دس ہزار آٹھ سو تہتر روپے ہو گی۔

ریمڈیسی ویر مشہور پاکستانی دوا ساز کمپنی فیروز سنز لیباریٹریز کا ماتحت ادارہ بی ایف بائیو سائنسز تیار کر رہا ہے

کرونا (کورونا) وائرس کے باعث انسانوں میں ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی دوا ریمڈیسی ویر پاکستان میں رواں ماہ کے آخر تک ریمیڈیا (Remidia) انجیکشن کے نام سے عام استعمال کے لیے دستیاب ہو گی۔

ریمیڈیا تیار کرنے والی پاکستانی کمپنی فیروز سنز لیباریٹریز کے مطابق کوووڈ 19 کے مریضوں کو دیے جانے والی دوا (ریمیڈیا) کے ایک انجیکشن کی قیمت دس ہزار آٹھ سو تہتر (Rs 10,873) روپے ہو گی۔

ریمڈیسی ویر مشہور پاکستانی دوا ساز کمپنی فیروز سنز لیباریٹریز کا ماتحت ادارہ بی ایف بائیو سائنسز تیار کر رہا ہے، جس کے لیے بی ایف سائنسز اور ریمڈیسی ویر بنانے والی امریکی ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی گلییڈ کے درمیان اس سال مئی میں معاہدہ طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کی پانچ دوا ساز کمپنیوں کو ریمڈیسی ویر مقامی نام کے ساتھ تیار اور دنیا کے 126 ممالک کو برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

پاکستان میں دواؤں سے متعلق ذمہ دار ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ریمیڈیا کی پاکستان میں تیاری کی فیروز سنز لیباریٹریز کو ریکارڈ وقت میں اجازت دی۔

فیروز سنز لیبارٹریز کے ایک سینئیر اہلکار علی حمزہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ریمڈیسی ویر پاکستان میں ریمیڈیا کے نام سے لانچ کی جا رہی ہے اور یہ جولائی کے آخری ہفتے میں عام لوگوں کے استعمال کے لیے دستیاب ہو گی۔

علی حمزہ نے مزید کہا کہ ریمیڈیا پراڈکٹ ویلیڈیشن کے مرحلے میں ہے، جس میں دوا کی تیاری کے بعد اس کے مضر اثرات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔

’ہمیں پوری امید ہے کہ ہم جلد ہی دوا کی پیداوار شروع کر دیں گے اور جولائی کے آخری ہفتے تک ریمیڈیا کووڈ19 کے مریضوں کو دی جا سکے گی۔‘

فیروز سنز لیباریٹریز کی تعلقات عامہ کی کمپنی برانڈ سپیکٹرم کے مطابق ریمیڈیا ملک بھر میں صرف سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو مہیا کی جائے گی۔

برانڈ سپیکٹرم کے انیل بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ریمیڈیا صرف طبی معالج کی موجودگی میں ہی کووڈ 19 کے مریض کو لگائی جا سکے گی اور اسی لیے یہ عام لوگوں کو میڈیکل سٹورز پر دستیاب نہیں ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ ریمیڈیا صرف کووڈ 19 کے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کو لگائی جا سکے گی۔

علی حمزہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی اجازت کے ساتھ مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ ریمیڈیا پرچون کے ڈرگ سٹورز کو بھی مہیا کر دی جائے، تاہم فی الحال ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ریمیڈیا کی قیمت

علی حمزہ نے بتایا کہ ڈریپ نے ریمیڈیا کے ایک انجیکشن کی قیمت دس ہزار آٹھ سو تہتر روپے مقرر کی ہے۔

عام طور پر ڈاکٹر کووڈ 19 کے مریض کو ریمیڈیا (ریمڈیسی ویر) کے انجیکشن پانچ یا دس دن لگانے کا نسخہ لکھتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں مریض کو پہلے روز دو انجیکشن اور اس کے بعد ہر روز ایک انجیکشن لگایا جاتا ہے۔

 یوں دس دن کے کورس میں مریض کو 11 اور پانچ دن کے کورس میں چھ انجیکشن لگتے ہیں۔

یعنی اگر کسی مریض کو ریمیڈیا کا پانچ دن کا کورس مکمل کرنا ہو تو چھ انجیکشنز پر 65,238 روپے خرچ ہوں گے، جبکہ دس دن کے کورس کی صورت میں 11 انجیکشنز کی قیمت 119630 روپے ہو گی۔

ریمیڈیا پاؤڈر کی شکل میں دستیاب ہو گی، جسے کشید کردہ پانی (ڈسٹلڈ واٹر) کے ساتھ مریض کو خون کی شریان میں لگایا جائے گا۔

یاد رہے کہ ریمڈیسی ویر تیار کرنے والی امریکی کمپنی گلییڈ نے امریکہ میں دوا کے پانچ روزہ کورس کی قیمت 2340 امریکی ڈالر یعنی تین لاکھ نواسی ہزار چھ سو دس روپے (Rs. 389610) مقرر کی ہے۔

ریمڈیسی ویر کتنی موثر ہے؟

ریمڈیسی ویر ایک اینٹی وائرل دوا ہے، یعنیٰ یہ انسانی جسم میں بیماری کا باعث بننے والے وائرسز کے خلاف موثر ہے۔ اسے ابتدا میں ایبولا وائرس کے خلاف تیار کیا گیا تھا لیکن یہ اس میں کچھ زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئی۔

امریکی کمپنی گلییڈ کے مطابق ریمڈیسی ویر پر دنیا کے مختلف حصوں میں ابھی تک تحقیق جاری ہے اور امریکہ کے صحت اور انسانی خدمات سے متعلق ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کرونا کے ہسپتال میں داخل مصدقہ مریضوں میں اس کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد امریکہ میں یہ دوا تجرباتی طور پر کووڈ 19 کے ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں پر آزمائی گئی جس کے حوصلہ افزا نتائج دیکھنے کو ملے۔

ریمڈیسی ویر کے استعمال سے امریکہ کے ہسپتالوں میں موجود مریضوں کی تعداد میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کے بعد ایف ڈی اے نے یکم مئی کو ہسپتالوں میں داخل کووڈ 19 کے مریضوں کو ریمڈیسی ویردینے کی مشروط اجازت دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ کے بعد آٹھ مئی کو جاپان میں بھی کووڈ 19 میں مبتلا مریضوں کے لیے ریمڈیسی ویر کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

بی ایف بائیو سائنسز اور گلییڈ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستان میں تیار ہونے والی ریمڈیسی ویر دنیا کے 126 ممالک کو بھی برآمد کی جائے گی، جن میں غریب ملکوں کے علاوہ بعض ایسے امیر ملک بھی شامل ہیں جہاں صحت کے نظام زیادہ بہتر نہیں۔

گلییڈ نے بی ایف سائنسز کے علاوہ چار بھارتی دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ بھی دوا کی تیاری سے متعلق معاہدے کیے ہیں۔ یوں اس دوا کی پیداوار امریکہ کے علاوہ پاکستان اور بھارت میں ہو گی۔

جن بھارتی کمپنیوں کے گلییڈ کے ساتھ معاہدے ہوئے ہیں ان میں کپلا لمیٹڈ، ہیٹرو لیبز لمیٹڈ، جوبیلنٹ لائف سائنسز اور مائلان شامل ہیں۔

یاد رہے کہ فیروز سنز لیباریٹریز کے پاکستان میں دوا سازی کے دو بڑے کارخانے ہیں، جن میں سے ایک خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے علاقے امان گڑھ اور دوسرا لاہور میں ہے۔

پاکستان میں ڈھائی لاکھ کے قریب لوگوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اموات کی تعداد پانچ ہزار کا ہندسہ چھونے کے قریب ہیں۔

ملک کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں کووڈ 19 کے مریضوں کی بڑی تعداد بیماری کی سیریس سٹیج تک پہنچ چکی ہے اور ایسے میں ریمیڈیا ان کی جان بچانے کی واحد امید ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان نے دوسری بیشتر دوا ساز اور دوائیں درآمد کرنے والی کمپنیوں کو ریمڈیسی ویر درآمد کرنے کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت