اسلام آباد میں کرونا کے تین لاکھ کے قریب مریض ہیں: سروے

نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے اسلام آباد میں ایک سروے کروایا ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ دارالحکومت کی 14 فیصد آبادی کرونا وائرس سے متاثر ہے۔

سروے کے مطابق اسلام آباد میں کرونا کے مریضوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار کے مقابلے پر 20 گنا زیادہ ہے (اے ایف پی)

وفاقی حکومت کے ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے حال ہی میں ایک سروے کرایا ہے جس میں یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کی 14 فیصد آبادی کرونا (کورونا) وائرس سے متاثر ہے۔ یہ تعداد سرکاری اعداد و شمار سے 20 گنا زیادہ بنتی ہے۔

یاد رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پورے ملک میں کرونا کے مریضوں کی کل تعداد دو لاکھ 55 ہزار کے قریب ہے، اور اسلام آباد میں کرونا سے صرف 14 ہزار افراد متاثر ہیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ملک کا صحت کے حوالے سے سب سے بڑا ادارہ ہے۔ اس کی ایف ای ڈی ایس ڈی (Field Epidemiology and Disease Surveillance Division) اور ایف ای ایل ٹی پی (Field Epidemiology & Laboratory Training Program) ڈویژنز نے گذشتہ ماہ جون میں اسلام آباد کے کچھ گنجان آباد علاقوں میں کرونا سے متاثرہ افراد کا تناسب جاننے کے لیے سروے کیا۔ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کی ساڑھے 14 فیصد آبادی میں کرونا وائرس کی علامات موجود ہیں۔

سروے کے نتائج کے مطابق اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں 4328 افراد کے ٹیسٹ ہوئے جن میں سے 628 افراد کرونا سے متاثر پائے گئے۔  سروے سے پتہ چلا ہے کہ کرونا سے متاثرہ افراد میں سے اکثریت کی عمریں 31 سے 40 سال کے درمیان ہے۔ جبکہ ہر تین متاثرہ افراد میں ایک خاتون شامل ہے۔

سروے کے مطابق اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں جو علاقے کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہیں ان میں چھتر سر فہرست ہے، جبکہ دیگر نمایاں علاقوں میں موریاں، ترلائی، خورد، کُری طامیر، کرپا اور علی پور شامل ہیں۔ سروے میں کہا گیا ہے کرونا سے سب سے زیادہ متاثر اسلام آباد کے دیہی علاقے ہوئے ہیں۔

اعداد وشمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 14 ہزار دو سو کے قریب ہے۔ جب کہ اس کے برعکس سروے کے مطابق یہ تعداد دو لاکھ 90 ہزار کے قریب بنتی ہے۔  

کرونا کے مریضوں میں 24 فیصد کو بخار، 18 فیصد کو کھانسی 16 فیصد کو جسم میں شدید درد، 13 فیصد کو گلے میں سوزش، 12 فیصد کو سر میں درد، آٹھ فیصد کو سانس لینے میں دشواری، چھ فیصد کو دست اور پانچ فیصد کو زکام کی علامات محسوس ہوئیں۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

این آئی ایچ کے سربراہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرام نے اس سروے کی تصدیق کی ہے، لیکن انہوں نے اس کے اعداد وشمار پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا: ’ہمارے ادارے نے کرونا کے پھیلاؤ کے حوالے سے کئی سروے کیے ہیں اور ان کی تمام تفصیلات ہم میڈیا اور دیگر اداروں کو ایک دو روز میں فراہم کردیں گے۔‘

دوسری جانب این آئی ایچ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کرونا سے متاثر ہونے کے باعث قرنطینہ میں ہیں اس لیے یہ سروے ان کی صحت یابی کے بعد ہی میڈیا کو جاری ہونے کا امکان ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے چند دن پہلے وفاقی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس نے کرونا کے ٹیسٹوں کی تعداد کم کر دی ہے اور اسی وجہ سے کرونا سے ہونے والی اموات کی صحیح تعداد کا پتہ نہیں چل رہا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق ملک میں کرونا کی ٹیسٹنگ صلاحیت یومیہ ایک لاکھ سے زائد ہے تاہم ان دنوں 20 سے 21 ہزار افراد کا کرونا کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر عامر کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی آگہی مہم اور سمارٹ لاک ڈاؤن کرونا کے کیسوں میں نمایاں کمی کی اہم وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا، ’عوام اور میڈیا کو سمجھنا چاہیے کہ ہم کیس اگر چھپا بھی لیں تو اموات نہیں چھپا سکتے۔‘

ڈاکٹر عامر نے کہا کہ اموات میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے کرونا پر قابو پانے کے لیے جو پالیساں اختیار کیں وہ کامیاب ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے مزید سروے کرائے جائیں تو کرونا کے مریضوں کا درست تعین کرنے اور اس مرض کو قابو پانے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے حکومت کے اس موقف کو رد کیا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کرونا کے مریضوں میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا: ’سمارٹ لاک ڈاون کو نہ ہی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) مانتی ہے اور ہم بطور ڈاکٹرز بھی اسے کرونا سے بچاؤ کا موثر طریقہ نہیں سمجھتے ہیں۔ دو تین روڈ اور گلیاں بند ہونے سے لاک ڈاؤن نہیں ہوتا اور نہ ہی لوگ اسے سنجیدہ لیتے ہیں۔‘

قیصر سجاد نے کہا کہ کراچی اور لاہور میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر مذاق ہو رہا ہے اور ابھی بھی شہروں کی 90 فیصد آبادی بغیر ماسک کے نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ماسک پہنے اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کرتی دکھائی دیتی ہے، حلانکہ یہ کام ڈاکٹروں کا ہے، حکومت کا کام ان تدابیر پر عمل درآمد کرانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کم کیس رپورٹ ہونے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ’مریض ہسپتال جانے سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں اور کچھ پرائیوٹ ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے لوگوں میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔‘

ڈاکٹر قیصر نے کہا موجودہ صورت حال میں اب ڈاکٹر بھی  مریضوں ٹیسٹ کرانے پر زیادہ  زور نہیں دیتے بلکہ صرف قرنطینہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، خاص طور پر ان مریضوں کو جو سات آٹھ ہزار کا ٹیسٹ کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے اور ضیف العمری کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں دھکے بھی نہیں کھا سکتے۔

انہوں نے کہا گھروں میں کرونا سے ہونے والی اموات کا سلسلہ جاری ہے اور اگر ان کا پتہ لگایا جائے تو مجموعی اموات کی تعداد بہت بڑھ سکتی ہے۔

 تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ کم آمدنی اور خصوصا محنت کش طبقے کی قوت مدافعت بہتر ہونے کی وجہ سے ان میں کرونا کے مریض بہت کم سامنے آئے ہیٍں۔ غیر صحت مند اور گندے علاقوں میں رہنے کی وجہ سے غریب لوگوں میں شرح اموات بہت کم ہے۔ انہوں  نے کہا کہ انہیں اب شاید ہی کوئی ڈرائیور، مزدور یا گھریلو ملازم کرونا میں مبتلا نظر آئے ہیں۔

ڈاکٹر قیصر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حکومت نے عید الاضحیٰ پر حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد نہیں کرایا تو صورت حال کافی خراب ہو سکتی ہے اور جس طرح عید الفطر کے بعد کرونا کے مریضوں اور اموات میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا، ویسی ہی صورت حال عید قرباں کے بعد بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بقرعید کے بعد 14 اگست، عاشورہ اور ربیع الاول میں بھی عوام کو کرونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت