کلبھوشن جادیو کے لیے صدارتی آرڈیننس این آر او نہیں: فروغ نسیم

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو سے متعلق صدارتی آرڈیننس عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں جاری کیا گیا ہے۔

فروغ نسیم نے جمعے کو تیسری  مرتبہ  وزیر قانون کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد قومی اسمبلی میں پیش ہو کر  آرڈیننس کی قانونی وضاحت پیش کی (اے ایف پی)

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو سے متعلق صدارتی آرڈیننس عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں جاری کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں جمعے کو اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ہمیں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا تھا کہ کلبھوشن جادیو کو قونصلر رسائی دی جانی چاہیے۔

خیال رہے کہ حکومت پاکستان نے رواں برس 20 مئی کو صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے تحت عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق کلبھوشن جادیو کو اپنی سزا کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے۔

فروغ نسیم نے جمعے کو تیسری مرتبہ وزیر قانون کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد قومی اسمبلی میں پیش ہو کر  آرڈیننس کی قانونی وضاحت پیش کی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ یہ آرڈیننس این آر او  نہیں ہے۔ ’این آر او وہ ہوتا ہے جو پرویز مشرف نے جاری کیا تھا، جس کے تحت سزائیں معاف کر دیں، جبکہ اس آرڈیننس میں کوئی سزا معاف نہیں کی گئی۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان قونصلر رسائی نہیں دے گا تو بھارت دنیا میں شور مچائے گا۔ ’اگر آرڈیننس نہ لاتے تو  بھارت سلامتی کونسل میں چلا جاتا مگر آرڈیننس لا کر  پاکستان نے بھارت کے ہاتھ کاٹ دیے ہیں۔‘

قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن نے اعتراض کیا کہ آرڈینس بنانے سے قبل انہیں کیوں نہیں بتایا گیا جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ یہ کہیں نہیں لکھا کہ آرڈینس لانے سے قبل اپوزیشن سے پوچھا جائے۔

’اس آرڈیننس کو کسی نے تکیے کے نیچے لکھ کر نہیں بنایا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’کیا کلبھوشن کی سزا معاف کر دی گئی؟ جب عالمی عدالت انصاف نے سزا ختم نہیں کی تو ہم کیوں کریں گے؟ اگر عالمی عدالت انصاف سزا ختم کرتی تو میں بھی یہاں کھڑے ہوکر احتجاج کر رہا ہوتا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اپوزیشن کی جانب سے آرڈیننس کی وضاحت کو این آر او کہا گیا۔ یہ سازشی تھیوری تو ہوسکتی ہے لیکن حقیقت نہیں۔‘

فروغ نسیم نے قومی اسمبلی میں مزید وضاحت کی کہ اپیل کا حق دینا سزا معاف کرنا نہیں ہوتا اور کلبھوشن کو اپیل کا حق عالمی عدالت انصاف نے دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ بھارت نے تیاری کرلی ہوگی کہ اگر پاکستان آئی سی جے کا فیصلہ نہیں مانتا تو  وہ آئی سی جے سے رابطہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ تین مارچ 2016 کو کلبھوشن جادیو کو گرفتار کیا گیا۔ اس وقت کی وفاقی حکومت نے اس وقت کے حساب سے ٹھیک فیصلہ کیا کہ قونصلر رسائی نہیں دینی۔ آٹھ مئی 2017 کو  بھارت کلبھوشن کیس عالمی عدالت انصاف میں لے گیا۔

’عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن جادیو کو قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ سنایا۔ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن جادیو کو رہا کرنے کی بھارتی استدعا مسترد کی۔‘

وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا:  ’میں نے اپوزیشن کو کبھی نہیں کہا کہ آپ مودی کے یار ہیں۔ میرا فرض ہے کہ آپ کو حقائق بتاؤں، آپ بے شک سیاست کر لیں لیکن یہ حساس سکیورٹی معاملہ ہے، سیاست نہ کی جائے۔‘

انہوں نے کہا: ’اٹارنی جنرل کے دفتر نے آرڈیننس سے متعلق بین الاقوامی وکلا سے بھی رائے لی۔ بین الاقوامی وکلا کی رائے کی روشنی میں اسلام آباد ہائیکورٹ گئے۔‘

فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت کا یہ موقف نہیں کہ فوجی عدالت کے فیصلے کو ختم کیا جائے۔

واضح رہے کہ بھارتی نیوی کمانڈر کلبھوشن جادیو کو اپیل کا حق دینے کے لیے صدارتی آرڈیننس پر اپوزیشن جماعتوں کےتخفظات اور  اعتراضات کے بعد آرڈیننس کو قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے تاکہ اس پر بحث کی جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان