’مارتے خاں سے سب ڈرتے اور میں مارتے خاں ہی مشہور ہو گیا‘

نوے سالہ عبدالصمد جب عمر قید کی سزا پوری کر کے باہر آئے تو تعصب اور برائی کو انہوں نے نہ صرف جیل کے اندر بلکہ باہر بھی پایا۔

عبدالصمد کے مطابق ان کی شادی بھی کچھ ہی عرصہ بعد ختم ہو گئی کیونکہ ان کی ہلیہ نے اس واقعے کے بعد خلع لے کر علیحدگی اختیار کر لی تھی

نوے سالہ عبدالصمد جب عمر قید کی سزا پوری کر کے باہر آئے تو تعصب اور برائی کو انہوں نے نہ صرف جیل کے اندر بلکہ باہر بھی پایا۔

’یہاں کی روش یہ ہے کہ مارتے خاں سے سب ڈرتے تھے اور میں مارتے خاں مشہور ہو گیا تھا۔ کوئی مجھ سے تعلق کیسے رکھ سکتا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ جیل سے باہر آئے تو معاشراتی رویوں نے انہیں بہت مایوس کیا اور لوگ ان سے ملنے یا بات کرنے میں جھجھک محسوس کرتے تھے۔

1947 میں اپنے گھر والوں کے ساتھ پاکستان ہجرت کر کے آنے والے عبد الصمد، بہن بھائیوں میں سب سے بڑے اور گھر کے واحد کفیل تھے۔

’میری بہن کا رشتہ ایک ایسے آدمی کی طرف سے آیا جسے میں اور میری والدہ پسند نہیں کرتے تھے اور ہمارے بے حد منع کرنے کے باوجود اس نے ہمیں بہت بلیک میل کیا۔‘

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ اس شخص نے ان کے ساتھ دست و گرہباں ہونے کی کوشش کی جس میں وہ اکیلا نہ تھا بلکہ اس کا ساتھ اس کے چند ساتھی بھی دے رہے تھے۔

’اس ڈر سے کے وہ آدمی بدمعاش ہے اور کہیں وہ ان کو کوئی جانی نقصان نہ پہنچائے، انہوں نے بھی اپنے بچاؤ کی کوشش کی جس میں ان کے ہاتھوں اس شخص کا قتل ہو گیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب وہ گر کر مر گیا تو مجھے افسوس ہوا کے میں نے تو ایسا سوچا بھی نہیں تھا مگر اب ہو گیا ہے تو اب کیا کروں؟‘

عبدالصمد کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 1953 کا ہے جس وقت ان کی عمر صرف 22 سال تھی، اور انہیں اس کا انتہائی صدمہ تھا جس کے باعث انہیں ملامت ہوئی اور ان کے اندر کی آواز نے ان سے یہ کہا کے اس کا کفارہ تو انہیں بدلہ دے کر ہی ادا کرنا پڑے گا۔ اس لیے انہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

’تین  سال تک میرا مقدمہ چلتا رہا اور وکیل کہتے رہے کہ اپنا بیان بدل لو تو سزا معاف ہو جائے گی۔ صرف تمہار ا بیان ہی آڑے آ رہا ہے مگر میں نہیں مانا اس لیے تین سال بعد عدالت نے مجھے عمر قید کی سزا سنائی۔‘

ان کے مطابق ان کی شادی بھی کچھ ہی عرصہ بعد ختم ہو گئی کیونکہ ان کی ہلیہ نے اس واقعے کے بعد خلع لے کر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جیل میں میں نے دیکھا کے قیدی اور انتظامیہ تعصب برتے تھے۔ رشوت کے طور پر چیزیں لیتے تھے مگر میں نے کہا کہ میں ایسی کوئی چیز نہیں لوں گا۔‘

جیل کے ماحول پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ قیدیوں کے ساتھ ’جیل میں ظلم و ذیادتی یہ ہوتی تھی کہ ایک مرتبہ ایک قیدی کا ہاتھ کٹا ہوا تھا پھر بھی اس سے پورا ٹھیکا لیا گیا اور کام نہ کرنے پر مارا بھی جاتا تھا۔‘

نہ صرف یہ بلکہ عبدالصمد نے کھانے کی غیر موثر فراہمی کے حوالے سے اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’میں نے جیلر کو بتایا کہ یہاں ملنے والے کھانے سے میرا پیٹ نہیں بھرتا  لہٰذا یا تو مجھے پیٹ بھر کر کھانا فراہم کیا جائے یا پھر اجازت دی جائے کہ میں گھر والوں سے کہہ کر کچھ پیسے جمع کروا دوں جس سے مجھے پیٹ بھر کر کھانا فراہم کر دیا جائے۔ اس پر جیلر نے رضامندی ظاہر نہیں کی اور یہ جواز دیا کہ ایسا کرنے سے انتظامیہ کے لیے مشکل پیدا ہو جائے گی۔‘

ان کا ماننا ہے کہ رویے، چاہے جیل کے اندر ہوں یا باہر بہت اثر رکھتے ہیں اور سلاخوں کے دونوں طرف رویوں میں بہتری کی اشد ضرورت ہے جو کسی بھی قیدی کو دوبارہ ایک بہتر زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی