ناراض جنگجوؤں کی شمولیت، پاکستانی طالبان کے لیے تقویت؟

جماعت الحرار اور حزب الحرار کے لیڈروں عمرخراسانی اور ابوعاصم منصور نے اپنی جماعتوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے اصولوں کے پابند ہوں گے۔

مبصرین ناراض گروہوں کے ضم ہونے کو پاکستانی طالبان کے لیے طاقت کے طور پر دیکھ رہے ہیں

سالوں پہلے پاکستان میں طالبان سے علیحدہ ہونے والا ایک عسکریت پسند دھڑہ دوبارہ طالبان میں شامل ہو گیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ وہ ایک عسکریت پسند دھڑے، جو بعد میں مزید دو گروہوں میں تقسیم ہو گیا تھا، کی اعلیٰ قیادت اور جنگجوؤں کو ٹی ٹی پی میں ضم ہونے پر مبارک باد دیتے ہیں۔

ان میں سے ایک عسکریت پسند گروہ جماعت الحرار کو عمر خالد خراسانی نے 2014 میں بنایا تھا جبکہ دوسرا گروہ حزب الحرار پہلے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں بنا تھا۔ ان دنوں گروہوں پر پاکستان کے اندر کئی جان لیوا حملوں کے الزام ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم اب ان کے کالعدم ٹی ٹی پی میں ضم ہونے کو مبصرین پاکستانی طالبان کے لیے قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے موقعے پر ہوئی، جب حال ہی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں تقریباً چھ ہزار پاکستانی طالبان چھپے ہوئے ہیں۔

محمد خراسانی کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ جماعت الحرار اور حزب الحرار کے لیڈروں عمرخراسانی اور ابوعاصم منصور نے اپنی سابقہ جماعتوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے عہد کیا کہ وہ ٹی ٹی پی کے اصولوں کے پابند ہوں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان