'ہمسفر' کی سارہ کے پیچھے پڑنے لگا ہے 'چھلاوہ'

انڈپینڈنٹ اردو نے نوین وقار سے اپنی ملاقات میں سب سے پہلے اسی ڈرامے کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا نیا ڈراما جس کا نام ’چھلاوہ‘ ہے، وہ جلد نشر ہونا شروع ہوجائے گا اور وہ ایک مافوق الفطرت مخلوق کی کہانی ہے۔

نوین وقار پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک بڑا نام ہیں اور آج بھی لوگ انہیں ان کے ڈرامے ’ہمسفر‘ کے کردار سارہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

اگرچہ نوین وقار نے نسبتاً کم کام کیا مگر یادگار کردار کیے ہیں۔ حال ہی میں ان کا ایک ڈرامہ ’چھلاوہ‘ کے نام سے آںے والا ہے جو ایک مافوق الفطرت کردار کی کہانی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے نوین وقار سے اپنی ملاقات میں سب سے پہلے اسی ڈرامے کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا نیا ڈراما جس کا نام ’چھلاوہ‘ ہے، وہ جلد نشر ہونا شروع ہوجائے گا اور وہ ایک مافوق الفطرت مخلوق کی کہانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش تو تھی کہ وہ چھلاوہ کا کردار خود کریں لیکن انہیں یہ کردار نہیں دیا گیا۔

اپنے کردار کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک لڑکی ہے جس کے پیچھے یہ ’چھلاوہ‘ پڑ جاتا ہے اور وہ کیسے اس سے نبرد آزما ہوتی ہے۔

یہ امر اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ نوین کا پہلا ڈراما ’ہمسفر‘ تھا جس میں وہ اشعر (فواد خان) کے پیچھے پڑی ہوتی ہیں۔ اس بارے میں نوین وقار نے کہا کہ ہمسفر میں تو کہانی مختلف تھی وہ ایک مزیدار کام تھا لیکن اِس ڈرامے میں تو چھلاوے کا پیچھے پڑنا ڈرنے والی بات ہوتی ہے۔

ہمسفر میں نوین نے ایک ولن کا کردار کیا تھا، تاہم اس کے بعد سے انہوں نے کبھی کوئی منفی کردار نہیں کیا، اس ضمن میں نوین کا کہنا تھا کہ وہ کم کام کرنے پر یقین رکھتی ہیں اور ان کے لیے کسی کردار کے مثبت یا منفی ہونے سے فرق نہیں پڑتا بس کہانی اور کردار میں دم ہونا چاہیے۔

نوین نے اپنے کام کے آغاز میں ایک سیریز ’عینی کی آئے گی بارات ‘ میں بھی ٹائٹل کردار کیا تھا جسے وہ اپنی خوش قسمتی قرار دیتی ہیں جس میں شوبز صنعت کے سینئر ترین اداکاروں کے ساتھ کرنے کا موقع ملا اور کیمرے کے سامنے اور پیچھے بہت سیکھنے کا موقع ملا اور خواہش ہے کہ آئندہ بھی اس طرح کا کام کرنے کا موقع ملے۔

مکمل انٹرویو یہاں دیکھیے:

اپنے کم کام کرنے کے بارے میں نوین نے کہا کہ پاکستان میں کئی چینلز پر ایک ہی طرح کی کہانی چل رہی ہوتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمسفر کے بعد اسی قسم کے چار دوسرے ڈراموں میں کام کرنے کی بھی پیشکش ہوئی تھی، اس لیے وہ نہیں چاہتیں کہ ایک ہی جیسا کام باربار کیا جائے، اسی لیے وہ کم مگر اچھا کام کرنے پر یقین رکھتی ہیں تاکہ لوگ یاد رکھیں۔

نوین وقار نے اب تک صرف ایک ہی فلم میں کام کیا ہے اور اس کے بعد وہ بڑے پردے پر کبھی نظر نہیں آئیں، اس کی وجہ بتاتے ہوئے نوین نے کہا کہ ’ہمارے ملک میں بننے والی فلموں میں لڑکی کو ایک شو پیس بنا کر پیش کیا جاتا ہے ، اس لیے میں کسی ایسے کردار کی متلاشی ہوں جو انہوں نے پہلے کسی ڈرامے میں نہ کیا ہو تو ضرور کروں گی‘۔

چند سال پہلے نوین کو بالی وڈ میں کام کرنے کی پیشکش بھی ہوئی تھی لیکن انہوں نے منع کردیا تھا کیونکہ ان کے بقول وہ اس کے لیے تیار نہیں تھیں اور وہ فلم بھی اپنی ہی مرضٰ کی کرنا چاہتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوین وقار نے مزید کہا کہ معاشرے میں شادی اور پیار کے علاوہ بھی کئی موضوعات ہیں لیکن کوئی رسک لینے کو تیار نہیں ہوتا کیونکہ عمومی خیال یہ ہوتا ہے کہ عورت روئے گی نہیں تو ریٹنگ کیسے آئے گی۔ ’ اب وقت آگیا ہے کہ نئے موضوعات پر بات کی جائے، تعلیم اور معیشت کے بارے میں کہانیاں لکھی جائیں، تاہم میں صرف ایک چہرہ ہوں اور یہ ان کی ذمہ داری ہے جو ڈرامہ ساز ہوتے ہیں۔‘

نوین کو آج کل کک باکسنگ کا شوق چڑھا ہوا ہے اور وہ پابندی سے اس کی تربیت حاصل کررہی ہیں۔ اپنے اس شوق کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ بچپن سے کھیلوں کی شوقین رہی ہیں اور وہ تائیکوانڈو بھی کرچکی ہیں، اسی لیے اب کچھ نیا کرنے کا دل چاہا تو  پورا ایک سال اسی پر لگا دیا، لیکن وہ اسے صرف شوق ہی رکھنا چاہیں گی کیونکہ وہ ایک اداکارہ ہیں اور اپنا چہرہ ان کے لیے اہم ہے اور کک باسکنگ میں بہت حادثات ہوتے رہتے ہیں۔

نوین وقار نے ٹی وی پر اپنا کیرئیر بطور وی جے شروع کیا تھا اور گانے بھی گائے تھے بلکہ لکھے اور کمپوز بھی کیے تھے لیکن اداکاری شروع کرنے کے بعد انہوں نے موسیقی کو خیر باد کہہ دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا