کماؤ پوت کراچی کی روداد

اگر صوبہ بنانے میں مسائل کا سامنا ہے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا کہ کئی ممالک کی طرح پاکستان میں ایک سے زیادہ دارالحکومت بنا دیے جائیں۔

کراچی میں بارشوں سے متاثرہ علاقے میں ایک بچہ امدادی کھانے لے کر جا رہا ہے (اے ایف پی)

میرے گھر والے بڑے عجیب ہیں۔ میں گھر کا سب سے بڑا بیٹا ہوں، سب سے زیادہ کماتا ہوں، گھر کے خرچ میں سب سے زیادہ حصہ ملاتا ہوں لیکن مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے میرا کوئی گھر والا میرے مسائل حل کرنے میں دلچسپی ہی نہیں لیتا۔

میں یہ نہیں کہتا کہ چونکہ میں سب سے زیادہ کماتا ہوں اس لیے میرے باقی بھائی بہنوں کی اہمیت کم ہونی چاہیے، بلکہ میں تو کھلے دل سے ہر ایک کو اس کے بیوی بچوں سمیت اپنے کمرے میں بلاتا ہوں، کھلاتا پلاتا ہوں، رہنے کے لیے جگہ دیتا ہوں۔ میرا شکوہ صرف اتنا ہے کہ کم از کم میرے مسائل حل کرنے کے لیے تھوڑی سی توجہ تو دی جائے۔

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ بارش کی وجہ سے میرے کمرے کی چھت ٹپکنے لگی، کمرے میں پانی بھرگیا۔ میرے بیوی بچے کمرے سے پانی نکالنے کی کوشش کرتے رہے مگر باقی گھر والے، جن میں میرے ماں باپ بھی شامل ہیں، وہ کمرے کے باہر کھڑے صرف دیکھتے رہے۔ جب مدد کی درخواست کی تو مجھ سے محبت کے دعوے داروں نے کام کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی اور آپس میں لڑنے لگے۔ میرے کمرے کا حال ویسے کا ویسا ہی رہا۔

کمرے کی صفائی کے معاملے میں بھی یہی ہوتا ہے۔ ہر طرف گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں اور جن کا کام صفائی کرنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو ماں نے اس کمرے میں جانے کا اختیار ہی نہیں دیا، مگر پھر بھی تھوڑا بہت جو ہم سے ہو سکتا ہے وہ ہم کر دیتے ہیں، یہ ہمارا احسان ہے۔ ماں جب ہمیں مکمل اختیار اور صفٖائی کا سامان لانے کے لیے پیسے دے گی تو پھر دیکھنا کمرہ کیسا چمکے گا۔ تب تک جیسا ہے ویسا ہی رہے گا۔

ٹرانسپورٹ کی بات آتی ہے تو میں خون کے آنسو روتا ہوں کہ ماں نے کئی مرتبہ مجھے نئی ٹرانسپورٹ دلانے کا وعدہ کیا مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔ میرے بیوی بچے بیچارے روزانہ بسوں میں دھکے کھاتے ہوئے خوار ہوتے ہیں اور خواب دیکھتے ہے کہ کسی دن یہ مسئلہ حل ہو مگر اس معاملے میں بھی انتظار طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔

پینے کا پانی ندارد، بجلی برائے نام، کمرے کا فرش اکھڑا ہوا، اور تو اور کتنا ہی سامان ایسا ہے جو پوچھے بغیر کمرے میں رکھ دیا گیا ہے اور میں جب پوچھتا ہوں کہ یہ سامان کس نے رکھا تو کوئی جواب نہیں ملتا۔

کئی بار میں نے اپنے والد سے درخواست کی کہ آپ خود یہاں آکر دیکھیں کہ میرا کیا حال ہے اور میرا کمرہ کسی انسان کے رہنے کے قابل ہے یا نہیں تو میری اس درخواست پر سر تو اثبات میں ہلایا گیا مگر والد بزرگوار کمرے میں آنے کی زحمت نہ کر سکے۔ ان کے پاس وقت ہی نہیں۔

اب ایسی صورت حال میں اگر میں کہتا ہوں کہ مجھے ایک الگ گھر لینے دو، میں وہاں شفٹ ہو جاتا ہوں۔ آپ لوگوں کے اخراجات بھی اٹھاتا رہوں گا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے کچھ معاملات بھی خود دیکھ لوں گا۔ یوں میری بھی صورت کچھ بہتر ہو جائے گی تو میری  ماں اسے میرے دماغ کا فتور قرار دے کر شور مچانے لگتی ہے اور کہتی ہے کہ میں اپنے پیارے لخت جگر کو خود سے جدا نہیں کروں گی۔

ایسے میں آپ ہی بتایئے کہ میں کروں تو کیا کروں؟

بلکہ مجھے نہ بتائیں۔ اس مسئلے کا حل کراچی کو بتائیں۔

سندھ دھرتی اگر ماں ہے تو کراچی اس کا وہ بیٹا ہے جو سب سے زیادہ کماتا ہے اور سب گھر والوں کا خیال رکھتا ہے مگر اس کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ سوتیلی بیٹیوں والا ہوتا ہے۔

بجلی کا نظام بوسیدہ اور شہر کے لیے ناکافی، ٹرانسپورٹ ایسی کہ جس پر کوئی سفر نہ کرنا چاہے، سیوریج کا نظام ایسا کہ موہنجودڑو ترقی یافتہ لگے، چائنا کٹنگ اور غیرقانونی قبضے ایسے کہ اصل شہر ڈھونڈنے سے نہ ملے، سمندر شہر کے ساتھ مگر پینے کا پانی ناپید اور کچرا اتنا کہ کئی لوگ کراچی کی جائے اسے کچراچی کہنے پر مجبور ہیں۔

اس بات پر لڑنے کی بجائے کہ شہر میں کون سا نیا میگا پراجیکٹ بنے گا، یہاں حکمران اس بات پر دست و گریباں ہیں کہ کچرا اٹھانا میرا کام ہے یا تیرا۔ دنیا کے کئی ممالک کچرے سے بجلی بنا رہے ہیں مگر اس شہر کا کچرا صاف کرنے کے لیے ورلڈ بینک سے امداد لی جاتی ہے، پھر بھی کچرا وہیں رہتا ہے۔ ایک ایسا شہر کو کئی ممالک سے بڑا ہے، وہاں کے معاملات چلانے کے لیے ایک ایسا بلدیاتی نظام بھی نہیں بنایا جا سکا جس پر سب متفق ہوں اور جس کے پاس رقم اور اختیار دونوں موجود ہوں۔

کبھی کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کی بات آتی ہے، کبھی گورنر راج کی صدا بلند ہوتی ہے تو کبھی کوئی کراچی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے کا شوشہ چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔

ایسی صورت میں اگر کوئی کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی بات کرتا ہے تو اس کی طرف یوں دیکھا جاتا ہے جیسے اس نے ملک توڑنے کی بات کر دی ہو اور وہ آرٹیکل چھ لگائے جانے کا مستحق ہو۔

کراچی کو صوبہ بنانے کی سب سے بڑی مخالف پیپلز پارٹی کی ہے۔ ان کا ماننا یہ ہے کہ وہ کسی صورت سندھ دھرتی کی تقسیم برداشت نہیں کریں گے اور ایسا کوئی بھی قدم سندھ سے غداری کے زمرے میں آئے گا۔ پیپلز پارٹی کا سادہ سا ڈر یہ ہے کہ سندھ کی آمدنی کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ جو کراچی کی طرف سے آتا ہے، کراچی صوبہ بننے سے وہ سندھ کے پاس سے چلا جائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ جب دھرتی ماں کا کماوؐ پوت اس کے ساتھ نہ ہو، تو ماں گھر کیسے چلائے گی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی کو صوبہ بنانے میں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کراچی میں کئی قومیتوں کے لوگ بستے ہیں۔ جب سرائیکی صوبے یا ہزارہ صوبے کی بات کی جاتی ہے تو وہاں ایک ہی زبان بولنے والے لوگ بستے ہیں جبکہ کراچی صرف اردو بولنے والوں کا شہر نہیں رہا۔ ایک اندازے کے مطابق 2025 تک کراچی کی 60 فیصد آبادی ان لوگوں کی ہوگی جو کی مادری زبان اردو نہیں ہے اسی لیے کراچی کا لسانی بنیادوں پر صوبہ بننا ناممکن ہے۔

اگر کراچی کو صوبہ بنانا ہے تو معیشت اور قومیت، دونوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ کراچی صوبہ بنے گا تو معاشی طور پر تو کراچی کو بےحد فائدہ ہوگا مگر اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وفاق کے ساتھ ایسی شرائط طے کی جائیں کہ کراچی کی آمدنی کا وہ حصہ جو کراچی کی ضرورت سے زائد ہو، وہ وفاق کے پاس جائے اور وہاں سے دیگر صوبوں کی ضروریات پر خرچ ہو۔

قومیت کے لحاظ سے کراچی کو مختلف قوموں کے لوگون کی آمد سے کافی فائدہ ہوا۔ یہ وہ لوگ تھے جو دوسرے صوبوں سے یہاں آکر آباد ہوئے اور کراچی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر کراچی صوبہ بنتا ہے تو اسے قوم اور زبان کی قید سے آزاد ہو کر ہر اس شخص کا گھر ہونا چاہیے جو کراچی میں بستا ہے۔ جب تک ان دونوں باتوں کی ضمانت نہ ہو، اس وقت تک کراچی کا صوبہ بننا ناممکن ہے۔

دیکھا جائے تو کراچی کے مسائل کی ابتدا اس وقت ہوئی جب صدر ایوب خان کی خواہش پر اس شہر سے پاکستان کے دارالخلافہ ہونے کا اعزاز چھین لیا گیا۔ کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا اور فیڈرل سی ایریا کا نقشہ من و عن نقل کر کے ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی گئی جو اسلام آباد کہلایا۔ ایوب خان کی منطق یہ تھی کہ اسلام آباد چونکہ راولپنڈی کے قریب ہے جہاں فوج کا ہیڈ کوارٹرز ہے اس لیے اس جگہ کو دارالحکومت ہونا چاہیے تاکہ باہمی معاملات چلانے میں آسانی ہو۔

اگر صوبہ بنانے میں مسائل کا سامنا ہے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا کہ کئی ممالک کی طرح پاکستان میں ایک سے زیادہ دارالحکومت بنا دیے جائیں۔ جب جنوبی افریقہ کے تین دارالخلافہ بلوم فونٹین، کیپ ٹاوؐن اور پریٹوریا ہو سکتے ہیں، جب نیدرلینڈ کے دو، ایمسٹر ڈیم اور ہیگ ہو سکتے ہیں، جنوبی کوریا کے دو سیول اور سیجونگ ہو سکتے ہیں، ملیشیا کے دو کوالا لمپور اور پتراجایا ہو سکتے ہیں تو پھر پاکستان کے دو دارالخلافہ کراچی اور اسلام آباد کیوں نہیں ہو سکتے؟

اگر ایسا ہو جائے تو اسلام آباد کی طرح کراچی پر بھی خاص توجہ دی جانے لگے گی اور اس شہر کے گلے شکوے دور ہونے لگیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ