کراچی کا اربوں کا پیکج کس کام کا؟

اصل مسائل کے حل کے بغیر کراچی پر 22 سو ارب بھی لگا دیے جائیں تو کوئی فائدہ نہیں۔

اس بار سبھی نے کراچی کے لیے آوازیں اٹھائیں (اے ایف پی)

کہتے ہیں کہ ہر مصیبت میں کوئی نہ کوئی پہلو بہتری کا بھی ہوتا ہے، بس دیکھنے والے کے زاویے کی بات ہے۔ اگر کراچی کو دیکھیں، تو یہ بات بالکل سچ معلوم ہوتی ہے۔

حالیہ بارشوں نے کراچی کو ایک سنگین بحران میں مبتلا کر دیا اور وہ شہر جو ہمیشہ اپنے مسائل کے حل کے لیے دربدر رہا، اچانک ہر طرف سے اس کے مسائل کے حل کے لیے آوازیں بلند ہونے لگیں۔

ان آوازوں میں الزامات بھی تھے اور غصہ بھی تھا، بے وفائی کے شکوے بھی تھے اور سرد مہری والے برتاؤ کا رونا بھی۔ ان میں ماضی کے قصے بھی تھے اور مستقبل کی امیدیں بھی۔ انہی آوازوں میں مسائل کا ادراک بھی تھا اور حل کی نشاندہی بھی۔ اور جب مسائل کا ادراک ہو جائے، حل کی نشاندہی کرلی جائے، مگر اس کے باوجود درست سمت میں قدم نہ اٹھایا جائے تو صلاحیت اور جذبے، دونوں پر شک ہوتا ہے۔

کراچی کے لیے آوازیں ہر ایک نے اٹھائیں۔ سندھ حکومت، وفاقی حکومت، اتحادی، اختلافی، ہر سیاسی جماعت بول ہی پڑی کہ کچھ ہونا چاہیے۔ عوام تو خیر پہلے ہی دہائی دے رہے تھے۔ انہی آوازوں کے درمیان وزیر اعظم عمران خان نے آخرکار کراچی کا دورہ کیا اور کراچی کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے پیکج کا اعلان کیا۔ اس پیکج کے مطابق اگلے تین سال میں کراچی پر 11 سو ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ جیسے ہی یہ اعلان ہوا، اس کے کچھ دیر بعد سندھ حکومت اور وفاقی حکومت اس بات پر بحث مباحثہ کرتے نظر آئے کہ اس پیکج میں وفاق نے کتنے ارب ملائے اور صوبہ سندھ نے کتنے ارب ملائے۔

لیکن عوام کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کے کس نے کیا ملایا، عوام تو یہ پوچھتے ہیں کہ حضور کہ جو ملایا، وہ کہاں لگایا؟ کیوںکہ اس سے پہلے جو لگایا، وہ تو ہمیں نظر نہیں آیا۔ اب کس نے کھایا، کس نے اڑایا، کس نے لگایا۔۔۔ سوچنا یہ ہے کہ کہ کراچی نے کیا کھویا اور کیا پایا؟

ویسے 11 سو ارب بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔ خاص کر ہمارے غریب عوام کے لیے جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ ایک ارب میں کتنے صفر ہوتے ہیں اور ایک صفر میں کتنے ارب۔ تو آج عوام کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے سب سے پہلے میں آپ کو بتاؤں گا کہ ایک ارب اصل میں کتنے روپے ہوتے ہیں۔

ایک ارب روپے کو سمجھنے کی پہلی مثال یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس ایک ارب روپے ہوں اور آپ اس میں سے روزانہ 50 ہزار روپے خرچ کریں تو ایک ارب روپے خرچ کرنے میں آپ کو 54 سال لگیں گے۔ ایک اور مثال سے سمجھتے ہیں۔ پیسہ پانی کی طرح بہانے کی مثال تو آپ نے سنی ہو گی۔ تو اگر آپ دن کے 24 گھنٹے بغیر کھائے، پیے اور سوئے، ہر سیکنڈ میں ایک روپیہ سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر پانی میں بہانا شروع کر دیں تو بھی ایک ارب روپے ختم ہونے میں 32 سال لگیں گے!

ارب کتنا ہوتا ہے، یہ سمجھنے کے بعد آپ کا دھیان فوری طور پر ان خبروں کی طرف جائے گا کہ فلاں شخص نے کئی سو ارب روپے کی کرپشن کی اور آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ اس کرپٹ آدمی نے کتنا پیسا بنایا ہو گا۔ لیکن اس خیال کو فوراً دماغ سے نکالیں کیونکہ یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ دوبارہ کراچی کے 11 سو ارب روپے کی طرف آتے ہیں۔

تین سال میں 11 سو ارب روپے خرچ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کراچی پر اگلے تین سال تک روزانہ ایک ارب روپیہ خرچ ہو گا۔

کہا جا رہا ہے کہ ان 11 سو ارب کے خرچ کی تقسیم کچھ یوں ہو گی:

  • پانی کی فراہمی پر92  ارب روپے
  • سیوریج پر 141  ارب روپے
  • ماس ٹرانسٹ پر 572 ارب روپے
  • سالڈ ویسٹ، بارش کے پانی کی نکاسی، تجاوزات اور آبادکاری وغیرہ پر 267 ارب روپے
  • سڑکوں کی تعمیر پر 41 ارب روپے

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن چیزوں پر یہ 11 سو ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں، کیا کراچی کے اصل مسائل یہی ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ کراچی کو ان تمام چیزوں کی ضرورت ہے لیکن ان تمام مسائل کی جڑ کی بات کرنا ضروری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سب سے پہلی چیز ہے کراچی کی آبادی۔ جب تک کسی شہر کی آبادی کا صحیح تخمینہ نہیں لگایا جاتا، اس وقت تک اس وقت تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ اس شہر کو کتنے وسائل کی ضرورت ہے اور آئندہ سالوں میں یہ ضرورت کتنی بڑھے گی۔ ڈھائی سے تین کروڑ کی آبادی والے شہر کو جب مردم شماری میں ڈیڑھ کروڑ گنا جائے گا تو مسائل بڑھیں گے۔ کراچی کے ہر سٹیک ہولڈر کا یہ مطالبہ ہے کہ کراچی میں دوبارہ مردم شماری درست طریقے سے ہونی چاہیے مگر کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں ہمیں دو چار ارب روپے اس کام کے لیے نظر نہیں آئے۔

کراچی کے لیے ایک بااختیار بلدیاتی نظام بھی کراچی کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جس شہر کے میئر کے پاس وہاں کے پانی کی فراہمی، صفائی، تعمیرات اور کئی دیگر چیزوں پر کوئی اختیار ہی نہ ہو، ایسے نظام کا کیا فائدہ۔ اگر یہ تمام کام سندھ حکومت نے ہی کرنے ہیں تو پھر شہر میں میئر ہو یا نہ ہو، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سندھ حکومت نے اب شہر کے لیے ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کیا ہے اور ان کا کہنا یہ کہ ایڈمنسٹریٹر سارے مسائل حل کردے گا۔ شاید سندھ حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کو وہ اختیار دے دیا جائے جس کا رونا کراچی کے میئر نے ہمیشہ رویا۔

لیکن مسئلے کا اصل حل، میئر یا ایڈمنسٹریٹر کی تقرری میں نہیں، بلکہ صحیح معنوں میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کروا کر سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو ختم یا تبدیل کرنے میں ہے۔

اس وقت کراچی میں کئی اہم ادارے اپنے اپنے الگ قوانین کے تحت کام کر رہے ہیں۔ پانی کی تقسیم، صفائی کا نظام، نئی تعمیرات اور اس طرح کے کئی اہم امور کے لیے الگ الگ ادارے ہیں۔ ان تمام اداروں کو جب تک ایک نہیں کیا جاتا اور ان کا اختیار، دنیا کے باقی ممالک کی طرح، میئر کو نہیں دیا جاتا، اس وقت تک ان معاملات سے تعلق رکھنے والے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے۔

اٹھارویں ترمیم کو مقدم جانتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری یہ بات تو کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ آئین میں صوبوں کو اختیارات دیے گئے ہیں مگر وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ آئین ہی یہ کہتا ہے کہ بلدیاتی نظام درست طریقے اور نیت سے لاگو کیا جائے اور بلدیاتی نمائندوں کے مکمل اختیار اور وسائل دیے جائیں۔ مگر مستقبل قریب میں یہ ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔

ایک اور پرانا مسئلہ ہے کوٹا سسٹم۔ جب 1973 میں سندھ میں 40 سال کے لیے کوٹہ سسٹم کا نفاذ کیا گیا تو اپنے وقت کے حساب سے شاید وہ درست ہو مگر اب لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ اس سسٹم سے کراچی کو کتنا نقصان پہنچا۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ جو لوگ جس جگہ رہتے ہیں، وہ لوگ اس جگہ کے مسائل کو سمجھتے بھی ہیں اور ان مسائل کا حل کرنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں کیونکہ مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں وہ خود متاثر ہوتے ہیں، اس لیے انہیں ہی اپنی جگہ کے کام کرنے لیے چننا چاہیے۔

مگر اس کوٹہ سسٹم کے تحت کراچی کے جو لوگ اہل تھے، انہیں سرکاری محکموں میں اپنی جگہ نہ ملی اور ان کے بجائے کراچی کے باہر سے لوگوں نے آ کر کراچی میں کام کرنا (یا نہ کرنا) شروع کیا۔ ملک کے باقی شہروں میں ایسی صورت حال پیدا نہ ہوئی۔ کئی سیاسی جماعتوں کے اختلاف کے باوجود سندھ حکومت نے 2013 میں 40 سال کے اختتام پر 1973 کے آئین سے متصادم یہ کوٹہ سسٹم ختم کرنے کے بجائے اسے مزید 20 سال تک لاگو کر دیا۔

جیسے اندرون سندھ میں تعلیم کے حالات ہیں، امید ہے کہ 2033 میں سندھ حکومت پھر اسے مزید 20 سال کے لیے توسیع دے دے گی۔ اس لیے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کو دیکھنے کا ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ اصل مسائل کو حل کیے بغیر حکومت اگر کراچی پر 11 سو ارب کے بجائے 22 سو ارب کی رقم بھی لگا دے، تو چند سالوں بعد حالات ویسے ہی ہو جائیں گے جیسے آج ہیں۔


نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ