افغان امن مذاکرات، ایک مشکل کام کا آغاز

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے جس کا مقصد ایک پائیدار سیز فائر سمیت کئی اہم امور پر بات چیت ہے۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز سنیچر سے ہوا ہے (اے ایف پی)

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے جس کا مقصد ایک پائیدار سیز فائر سمیت کئی اہم امور پر بات چیت ہے۔

سنیچر کو دوحہ میں ان مذاکرات کے آغاز پر افغان حکومت اور اس کے اتحادیوں بشمول امریکہ نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

لیکن ان دونوں کے خلاف جنگ لڑنے والے طالبان جن کی حکومت کا خاتمہ 2001 میں کیا گیا تھا مذاکرات کی میز پر ایک بار بھی صلح کی بات نہیں کی۔

افغان حکومت کی جانب سے امن مذاکرات کی سربراہی کرنے والے عبداللہ عبداللہ نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان مزید جنگجوؤں کی رہائی کے بدلے جنگ بندی کی پیش کش کر سکتے ہیں۔

افغانستان ہائی کونسل فار نیشنل ری کنسلیشن کے چئیرمین عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’یہ ان کا ایک بڑا مطالبہ ہو سکتا ہے۔‘

وفود نے افتتاحی تقریب کے دوران انتباہ کیا کہ یہ مذاکرات طویل اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ مذاکرات ایک ایسے وقت میں جاری ہیں جب افغانستان تشدد کی لپیٹ میں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں شک نہیں کہ آنے والے دنوں میں ہمیں انگنت مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔‘

انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ اس موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

افغانستان میں امریکی قیادت میں ہونے والی دخل اندازی کے دو دہائیوں کے بعد بھی ملک میں روزانہ درجنوں شہری مارے جا رہے ہیں جبکہ افغان معشیت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

طالبان کو ہمیشہ سے اس بات کی پریشانی رہی ہے کہ تنازعے میں کمی ان کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گی۔ ایک ایسے وقت میں جب دونوں اطراف کی تکنیکی کمیٹیاں مذاکرات کا لائحہ عمل طے کرنے لیے ملنے جا رہی تھیں اس وقت بھی تشدد جاری تھا۔

حکام کے مطابق گذشتہ رات قندوز میں طالبان کے حملے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ کپیسہ صوبے میں بھی پانچ اہلکار مارے گئے۔ دارالحکومت کابل میں سڑک کنارے ہونے والے بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو شہری زخمی ہوئے جبکہ ایک اور دھماکے میں کسی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تقریب کے دوران طالبان کے شریک بانی رہنما ملا عبدالغنی برادر نے اپنے اس موقف کو دہرایا کہ افغانستان کو شرعی قوانین کے تحت چلایا جائے۔

ایک جامع امن معاہدے کے لیے شاید کئی برس درکار ہوں اور اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ دونوں اطراف افغانستان کے مستقبل کو کس انداز میں دیکھتی ہیں اور کیا دونوں کے درمیان اقتدار کی تقسیم کا کوئی معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان صدر اشرف غنی کی حکومت مغربی حمایت یافتہ نظام یعنی آئینی جمہوریت کا تسلسل چاہتی ہے جس کے تحت خواتین کو آزادیاں حاصل ہیں۔

افغان حکومت کے نمائندہ وفد کے 21 میں سے چار رکن خواتین ہیں۔ جبکہ طالبان جنہوں نے خواتین کو اپنے دور حکومت میں تمام حقوق سے محروم رکھا ان کے وفد میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔

اپنے بیان میں افغان صدر اشرف غنی نے ایسے ’پائیدار اور باعزت امن‘ پر زور دیا جو ’گذشتہ 19 سال کی کامیابیوں کی حفاظت کرے۔‘

افغان حکومت کے نمائندہ وفد کی رکن حبیبہ سرابی کا کہنا تھا کہ ابھی تک مذاکرات میں ’مثبت پیش رفت‘ ہو رہی ہے جبکہ عبد اللہ عبداللہ کے مطابق یہ مذاکرات ’ایک ایسی تاریخ کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو مستقبل کے لیے ہوں گے اور یہ جلد سے جلد ہو سکیں گے۔‘

امریکی حمایت یافتہ مذاکراتی عمل پہلے ہی مقررہ وقت سے چھ ماہ تاخیر سے شروع ہوا ہے، جس کی وجہ فریقین کے درمیان قیدیوں کی رہائی پر ہونے والا اختلاف تھا۔

طالبان کے امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق ابھی تک پانچ ہزار طالبان قیدی جبکہ ایک ہزار حکومتی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا