صحافی ابصار عالم کے خلاف ایف آئی آر ہی 'غیر قانونی' ہے: قائمہ کمیٹی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ سینیئر صحافی ابصار عالم کے خلاف درج ایف آئی آر قانونی نکات پورے نہیں کرتی۔

پاکستان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بدھ کو سینیئر صحافی اور پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر تنقید کرتے ہوئے ایف آئی آر کو 'غیر قانونی' قرار دے دیا۔

قائمہ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے آج اجلاس میں کہا کہ 'ملک میں ماحول بڑا خراب ہے، میڈیا جدوجہد کر رہا ہے اور اس صورت حال میں ایک صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے۔'

انہوں نے مزید کہا: 'صحافیوں پر یکے بعد دیگرے مقدموں کا اندراج اور اٹھائے جانے کے واقعات سے یہ بات واضح ہے کہ پاکستان میں میڈیا کو خاموش کرایا جا رہا ہے۔'

انہوں نے قانونی نکتہ اٹھایا کہ سی آر پی سی سیکشن 196 کے مطابق اگر غداری یا ریاست کے خلاف اکسانے کا مقدمہ ہو تو اس میں ریاست مدعی ہوتی ہے، کوئی شخص نجی حیثیت میں مقدمہ درج نہیں کرا سکتا۔

انہوں نے اجلاس میں موجود ڈی پی او جہلم شاکر حسین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: 'ایف آئی ار کو دوبارہ دیکھیں کیونکہ وہ قانونی اہلیت پوری نہیں کرتی۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'ابصار عالم پر ایسی دفعات لگائی گئی ہیں جس میں ریاست خود مدعی ہوتی ہے لیکن اس ایف آئی آر کا اندراج بذریعہ عام شہری ہوا جو کہ ایک غیر قانونی کام ہے اور اسے ڈی پی او اور پولیس نے کیا۔'

اس پر ڈی پی او جہلم نے کہا:  'آرٹیکل چھ کا تو پتہ ہے کہ اس میں حکومت مدعی ہوتی ہے لیکن ریاست کے خلاف بیانات پر مدعی کون ہو سکتا ہے، اس کے بارے میں حتمی نہیں کہہ سکتا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے سیکشن پڑھنے کے بعد تسلیم کیا کہ سی آر پی سی کے مطابق حکومت یا صوبائی حکومت مدعی ہوتی ہے اور وہ اس حوالے سے پروسیکیوشن سے بات کر لیں گے۔

کمیٹی چیئرمین نے ڈی پی او جہلم سے پوچھا کہ 'ابصار عالم کو یہیں پر گرفتار تو نہیں کریں گے؟' اس پر ڈی پی او نے جواب دیا کہ قانونی برانچ سے مشورے کے بغیر گرفتار نہیں کریں گے۔

کمیٹی کے اجلاس میں جب ڈی پی او جہلم سے کیس کی تفصیلات پوچھی گئیں تو انہوں نے بتایا کہ 'ایک مقامی وکیل نے ایف آئی آر کا اندراج کرایا ہے، ہم اس کی تحقیق کر رہے ہیں کہ کیا وجہ بنی، تحقیق میں اگر کوئی ثبوت سامنے نہیں آتا تو اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔'

اس موقعے پر ابصار عالم نے کہا: 'اگر مجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں لیکن پولیس کو خود علم نہیں کہ یہ ایف آئی آر قانونی نکات پورے نہیں کرتی اور اس میں سقم موجود ہے۔ بلکہ اس غیر قانونی ایف آئی آر کے اندراج پر محکمانہ ایکشن ہونا چاہیے۔'

ڈی پی او شاکر حسین نے کہا کہ یہ اس ایف آئی آر کی ابتدائی سٹیج ہے، جو بھی قانونی سقم ہے وہ دیکھ لیں گے۔

کمیٹی کے اجلاس میں لاہور موٹروے ریپ کیس پر بھی بات ہوئی اور کیس کی پیش رفت پر سوال جواب کے لیے سی سی پی او لاہور اور آئی جی پنجاب کی طلبی کے باوجود غیر حاضری پر کمیٹی ارکان نالاں ہوئے۔

سی سی پی او اور آئی جی پنجاب کی جگہ ڈی آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان نمائندگی کے لیے آئے تھے۔

عدم حاضری پر سینیٹ کی کمیٹی نے سی سی پی او لاہور کو سمن جاری کرتے ہوئے ریپ کیس پر ایک سب کمیٹی تشکیل دے دی اور کہا کہ یہ خواتین ارکان کی مشتمل ایک کمیٹی ہو گی اور اس میں سول سوسائٹی اور دیگر اہم عہدے داروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان