'بیٹا بابا پکار رہا ہو اور آپ اسے پیار نہ کرسکتے ہوں، یہ بہت تکلیف دہ تھا'

کرونا وبا کے دوران ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے اسلام آباد میں نجی ٹیکسی چلانے والے شبیر احمد کا کہنا ہے بچے اور بوڑھے والدین سے دور رہنا ان کے لیے تکلیف دہ تھا مگر کرونا وبا کی وجہ سے انہوں نے یہ دن بھی دیکھے۔

کرونا (کورونا) وائرس کے تناظر میں دیکھا جائے تو شاید ہی کوئی ایسا طبقہ بچا ہو جو اس کی زد میں نہ آیا ہو۔

جیسے پوری دنیا کے کاروبار کرونا کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں ویسے ہی پاکستان میں بھی اس نے تقریباً ہر طبقے کے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ کرونا سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ تو شاید ہم سالوں بعد لگا پائیں لیکن فی الحال جو نقصان ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہیں وہ بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ کرونا کی وجہ سے جو سب بڑا نقصان ہوا وہ معیشت کی تباہی ہے۔ چھوٹے سے چھوٹا کاروبار بھی اس سے بچ نہیں پایا۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی انہی میں سے ایک ہے۔

شبیر احمد اسلام آباد میں نجی ٹیکسی ڈرائیور ہیں اور ان کے خاندان کا گزر بسر اسی ٹیکسی کی بدولت ہو رہا تھا۔ شبیر احمد چونکہ ایک ایسے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو اس کے علاؤہ کوئی کام بھی نہیں کر سکتے تھے اس لیے ان کو اس بات کا اچھی طرح ادراک ہے کہ کرونا کی وجہ سے کن مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ شبیر احمد کا کہنا ہے: 'کسی بھی باپ کے لیے اس سے زیادہ کیا بات تکلیف دہ ہو سکتی ہے کہ اس کا ڈیڑھ سال کا بچہ بابا پکار رہا ہو اور آپ اسے پیار نہ کرسکتے ہوں، کرونا کی وجہ سے مجھے یہ دن بھی دیکھنے پڑے ہیں۔ جب کرونا بیماری پاکستان میں پھیلی تو اس وقت میں نے گاڑی چلانا بند کردی تھی لیکن گھر کا گزر بسر بھی ضروری تھا سو مجھے حکومتی ایس او پیز کے مطابق گاڑی چلانا پڑی اور یہ میرے لیے انتہائی مشکل وقت تھا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرونا وبا نے بلاشبہ ہر چیز کو متاثر کیا ہے لیکن اس کے باوجود کچھ شعبے ہمیں برقرار رکھنے پڑے اور ان میں ایک پبلک ٹرانسپورٹ بھی تھی۔ پبلک ٹرانسپورٹ اس لیے بھی ضروری تھی کہ اس کے بغیر پیرامیڈیکل سٹاف اور حفاظتی اقدامات کرنے والے اداروں کے لوگ اپنی ڈیوٹیز انجام نہیں دے سکتے تھے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا ہے: 'پبلک ٹرانسپورٹ شروع میں ہمیں بند کرنا پڑی کیونکہ ایسی کوئی بھی جگہ جہاں لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوں وہ ان حالات میں خطرناک ثابت ہوسکتا تھا لیکن جب اس کو بند کرنے کے بعد یہ دیکھا گیا کہ ہمارے جو ڈاکٹر، پیرامیڈیکل سٹاف اور سینٹری ورکرز ہیں وہ اپنی ڈیوٹیز انجام نہیں دے پارہے تو پھر ہمیں کچھ ایس او پیز بنا کر انہیں کھولنا پڑا۔'

انہوں نے مزید کہا: 'پبلک بسوں میں چار چیزیں ایس او پیز میں شامل تھیں کہ گاڑی میں ماسک کے بغیر سفر نہ کیا جائے۔ گاڑی میں بیٹھتے وقت ہاتھوں کو سینیٹائز کیا جائے۔ بس میں اے سی نہ چلایا جائے اور جتنا ممکن ہو ایک دوسرے سے دوری برقرار رکھی جائے۔'

ٹریفک پولیس نے ان ایس او پیز پر کیسے عمل کروایا اس بارے میں ایس ایس پی اسلام آباد فرخ رشید کا کہنا تھا: 'پبلک ٹرانسپورٹ میں ایس او پیز پر عمل کروانا ٹریفک پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا جس کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے جیسے ہر پبلک بس کو چیک کرکے سواریوں کو ایک سیٹ چھوڑ کر بٹھایا گیا تاکہ کم از کم دو لوگوں میں چھ فٹ کا فیصلہ برقرار رہے۔ اس کے علاؤہ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے ایف ایم ریڈیو سٹیشنز سے آر جیز کو خصوصی تلقین کی گئی کہ وہ لوگوں کو لمحہ بہ لمحہ ایس او پیز کو فالو کرنے کی تلقین کرتے رہیں۔ مزید ہماری جو ایجوکیشن ٹیمیں تھیں وہ مختلف بس سٹاپ اور اسلام آباد کی بڑی مارکیٹوں میں اعلانات کرکے لوگوں کو براہ راست ایس او پیز سے آگاہ کرتی رہیں۔ اس کے علاوہ خصوصی طور پر آگاہی اشتہارات بھی آویزاں کیے گئے۔'

مکمل انٹرویو دیکھیے:

 

کرونا وائرس نے جہاں مختلف قسم کے بدلاؤ لائے وہیں لوگوں کے رویوں میں بھی بدلاؤ دیکھا گیا۔ لوگوں نے اپنی حفاظت کے لیے ہر وہ کام بڑی خوش دلی سے کیا جو حکومت کی طرف سے تلقین کیا گیا۔

ٹیکسی ڈرائیور شبیر احمد نے بھی حکومتی تدابیر پر عمل کیا۔ وہ کہتے ہیں: 'ٹریفک پولیس نے ان مشکل حالات میں کافی مدد کی اور اگر کوئی سواری فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوتی تھی وہ اسے پچھلی سیٹ پر بٹھا دیتے تھے۔ اور اگر کسی کے پاس ماسک نہیں ہوتا تھا تو اسے ماسک بھی مہیا کیا جاتا تھا۔'

کرونا تو شاید گزر جائے لیکن یہ وقت کبھی نہیں بھولے گا۔ ان مشکل حالات میں زندگی نے کیا کیا سبق ہمیں سکھائے ہیں یہ ہمیں ہمیشہ یاد رہنے چاہییں۔ آج ہم نے کرونا کو شکست دی ہے تو اس میں کہیں نہ کہیں ہم سب نے اپنا حصہ ضرور شامل کیا ہے۔ آگے بھی حالات کیسے بھی ہوں اگر ہم مل جل کر ان حالات کا سامنا کریں تو کامیابی ملنا ناممکن نہیں ہے اس لیے شبیر احمد کہتے ہیں۔ 'محدود رہیں محفوظ رہیں۔'

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کرونا کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کرنے والے کرداروں پر مبنی یہ کہانی ’پرعزم پاکستان‘ مہم کا حصہ ہے۔ اس کی اشاعت اور پروڈکشن انڈپینڈنٹ اردو اور پاکستان پیس کولیکٹو کی مشترکہ کاوش ہے۔ ایسے باہمت اور پرعزم کرداروں اور ان کی محنت کو سامنے لانے میں ان طلبہ و طالبات نے کلیدی کردار ادا کیا جو پاکستان پیس کولیکٹو کے ڈاکومینٹری فلم کے تربیتی پروگرام کا حصہ تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان