سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر: سردوں میں خراب موڈ کی وجہ؟

یہاں ہم اس ڈس آرڈر کے بارے میں وہ تمام معلومات فراہم کر رہے ہیں جو آپ کو جاننی چاہییں اور یہ کہ اس کا علاج کیسے ممکن ہے۔

سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر  ڈپریشن کی ایک قسم ہے جو عمومی طور پر سرد موسم میں بڑھ جاتی ہے (تصویر:پکسا بے)

درجہ حرارت میں کمی ہو رہی ہے اور دن چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ ہم شمالی کرہ ارض میں موسم سرما کی جانب واپس جا رہے ہیں۔

سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر (سیڈ) ڈپریشن کی ایک قسم ہے جو عمومی طور پر سرد موسم میں بڑھ جاتی ہے۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق اس کو 'ونٹر ڈپریشن' کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ سیڈ کی علامات گرمی کے مقابلے میں سردی کے دنوں میں بہت واضح ہوتی ہیں، تاہم کچھ افراد میں اس کی علامات گرمی کے موسم میں زیادہ ہو سکتی ہیں اور وہ سردی میں اچھا محسوس کر سکتے ہیں۔

یہ متاثر ہونے والے افراد کو کمزور کرکے ان میں کئی نفسیاتی علامات بھی چھوڑ سکتا ہے جن میں چرچڑا پن اور تھکن شامل ہیں، جیسا کہ اس کے مخفف سے بھی ظاہر ہے۔ یہاں ہم نے سیڈ کے بارے میں وہ تمام معلومات جمع کی ہیں جو آپ کو جاننی چاہییں اور یہ بھی کہ اس کا علاج کیسے ممکن ہے۔

یہ کیا ہے؟

سیڈ ڈپریشن کی ایک ایسی قسم ہے جو کئی افراد سال کے ایک مخصوص وقت میں محسوس کرتے ہیں۔ زیادہ تر یہ سردی کے موسم میں ہوتا ہے لیکن کچھ لوگ موسم گرما میں بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ایک عام انسان کے لیے موسم کے ساتھ موڈ کا تبدیل ہونا ایک عام سی بات ہے جیسے کہ سورج کی روشنی میں کچھ افراد زیادہ خوش دکھائی دیتے ہیں بمقابل سرد اور بادلوں سے ڈھکے آسمان کے موسم میں۔ سیڈ کو ایک دماغی بیماری تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ انسان کی روز مرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

2014 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ سردیوں کے موسم میں 29 فیصد برطانوی شہریوں کو متاثر کرتی ہے۔

 اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کئی نفسیاتی مسائل کی طرح سیڈ کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی لیکن کئی مفروضے ہیں کہ کچھ افراد میں باقی افراد کے مقابلے میں اس کی علامات شدید تر کیوں ہوتی ہیں۔ یہ مفروضے مینٹل چیریٹی مائنڈ ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ میں اس کی وجہ سیروٹونن لیول کم ہونے، جسمانی بیماری، جسم کے وقت کا درست نہ ہونا اور کھانے یا دوا کو تبدیل ہونا شامل ہیں۔

یہ بھی مانا جاتا ہے کہ سیڈ سے متاثرہ افراد میں میلا ٹونن کی بلند سطح پائی جاتی ہے۔ یہ وہ ہارمون ہے جو دماغ میں پیدا ہوتا ہے اور ہمیں تھکن کا احساس دلاتا ہے۔ اس کی وجہ سے سیڈ سے متاثر ہونے والے افراد مسلسل تھکن کا شکار رہ سکتے ہیں۔

اس کی علامات کیا ہیں؟

ہر انسان کے لیے سیڈ کی علامات الگ الگ ہو سکتی ہیں۔ این ایچ ایس کے مطابق ان میں مسلسل موڈ خراب رہنا، روز مرہ کے کاموں میں دل نہ لگنا، سستی محسوس کرنا، معمول سے زیادہ سونا اور کاربو ہائیڈریٹس کی زیادہ طلب ہونا شامل ہیں، جبکہ کچھ افراد میں مایوسی، ناکامی اور خود کو بے کار سمجھنا بھی شامل ہے۔

اس کی تشخیص کیسے ہو سکتی ہے؟

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ سیڈ کا شکار ہیں تو آپ فوری طور پر جنرل فزیشن سے چیک اپ کرائیں جو آپ کی دماغی صحت کا جائزہ لیں گے۔ ان میں آپ کے موڈ کے بارے میں سوالات، کھانے پینے کی عادات، آپ کے ساتھ رہنے والے پارٹنرز اور موسم کے ساتھ احساسات کے تغیر پر سوالات شامل ہو سکتے ہیں۔ کچھ معاملات میں وہ شاید آپ کا جسمانی جائزہ بھی لیں۔

اس کا علاج کیسے ممکن ہے؟

سیڈ کا عام علاج تو کاؤنسلنگ اور احساسات پر مبنی تھراپیز، لائٹ تھراپی ہیں جس میں سیڈ کے شکار افراد کو ایسے لائٹ باکس خریدنے پر مائل کیا جاتا ہے جو سورج کی روشنی سے ملتا جلتا ہے اور یہ ایسے افراد کے کمروں میں رکھا جاتا ہے۔

کچھ مریضوں کو ذہنی دباؤ کم کرنے کی ادویات، جیسے کہ سیروٹونن ریپوٹیک انیبٹرز دی جا سکتی ہیں جو کہ کئی قسم کے فوبیاز کا علاج کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ انسانی دماغ میں سیروٹونن کی سطح بڑھانے میں مدد دیتی ہیں جس کا کئی سیڈ متاثرین کو سامنا ہو سکتا ہے۔

کچھ افراد کو اپنا طرز زندگی بدلنے پر مجبور کرکے اس کا علاج کیا جا سکتا ہے، جس میں باقاعدگی سے ورزش کرنا، صحت مند خوراک اور زیادہ سے زیادہ سورج کی روشنی میں رہنا، ہمیشہ کھڑکی کے قریب بیٹھنا اور باقاعدگی سے چہل قدمی کرنا شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت