’میرے بیٹے نے اچھا کیا‘: پیرس حملے میں ملوث پاکستانی کے والد

گذشتہ ہفتے پیرس میں میگزین ’چارلی ایبدو‘ کے پرانے دفاتر کے باہر دو افراد کو چاقو سے نشانہ بنا کر زخمی کرنے والے حملہ آور کے پاکستان میں اہل خانہ کو ان پر فخر ہے۔

گذشتہ ہفتے پیرس میں طنز و مزاح پر مبنی میگزین چارلی ایبدو کے پرانے دفاتر کے باہر دو افراد کو بغدے سے نشانہ بنا کر زخمی کرنے والے حملہ آور کے والد ارشد محمود کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بیٹے کے اس عمل پر فخر ہے۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے ظہیر حسن محمود نے اس حملے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے یہ حملہ میگزین کی جانب سے پیغمبر اسلام کے ’گستاخانہ‘ خاکے دوبارہ شائع کرنے کے ردعمل میں کیا تھا۔

پاکستان میں موجود ان کے والد ارشد محمود جو ایک کسان ہیں، نے اے ایف پی کو بتایا: ’میری رائے میں انہوں (ظہیر) نے جو کیا وہ بہت اچھا تھا۔‘

میگزین پر 2015 میں ہونے والے حملے کے مقدمے کے آغاز کے موقع پر ’چارلی ایبدو‘ کی جانب سے حال ہی میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی دوبارہ اشاعت پوری اسلامی دنیا میں مذمت اور پاکستان میں مظاہروں کا باعث بنی۔

پیرس حملے کے بعد ظہیر محمود پر 'دہشت گردی کے منصوبے میں قتل کی کوشش' کا الزام عائد کیا گیا ہے لیکن صوبہ پنجاب کے اس کے چھوٹے سے گاؤں کوٹھلی قاضی میں ان کے خاندان کے افراد اور ہمسائے ان کو اسلامی عقیدے کے محافظ کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں۔

حملہ آور کے والد ارشد نے کہا: ’پیغمبر اسلام کی بے حرمتی کرنے والوں کو ہلاک کرنے والا شخص جنت میں جاتا ہے  اور اس کا پورا کنبہ جنت میں جائے گا۔ اسی وجہ سے میں بہت فخر محسوس کر رہا ہوں کہ میرے بیٹے نے ایسا اچھا کام کیا ہے۔‘

حملہ آور کی والدہ رخسانہ بیگم نے مزید کہا کہ ان کے بیٹے نے اپنے اہل خانہ کو پہلے ہی اس حملے کے بارے میں بتایا تھا اور ان سے دعاؤں کی التجا کی تھی۔

رخسانہ نے کہا: ’انہوں نے ہمیں بتایا کہ جمعے کو نماز جمعہ کے بعد وہ یہ کام کریں گے۔ انہوں نے اپنے ایک دوست کو بھی کال کر کے بتایا کہ انہوں نے خواب میں پیغمبر اسلام کو دیکھا ہے اور وہ یہ حملہ کرنے جا رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قدامت پسند ملک پاکستان میں توہین رسالت ایک حساس مسئلہ ہے جہاں اسلام یا اسلامی شخصیات کی توہین کرنے والے کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ملک بھر میں مذہبی قائدین اور سیاسی جماعتیں اس معاملے کے بارے میں کثرت سے ریلی نکالتی رہی ہیں۔ توہین مذہب کے الزام میں سیاست دانوں اور طلبہ کو قتل کردیا گیا ہے جب کہ مذہبی حلقے یورپی ممالک کو توہین مذہب کی وجہ سے ایٹمی حملے سے فنا کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس توہین مذہب کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی ہے۔ تازہ ترین حملے کے دن نشر ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ایک تقریر میں انہوں نے ’چارلی ایبدو‘ پر ’جان بوجھ کر اشتعال انگیزی‘ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسی کوششوں کو عالمی طور پر کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔

انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا کے نائب ڈائریکٹر عمر وڑائچ کا کہنا ہے کہ ثقافتوں میں خلیج سے اسے بڑھاوا ملتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’فرانس میں مذہب پر طنز کرنے کی روایت ہے اور لوگ اس کو جرم نہیں سمجھتے لیکن بہت سارے پاکستانیوں کے لیے پیغمبر کی توہین کو سب سے تکلیف دہ عمل سمجھا جاتا ہے اور اسے خود پر تشدد سے کہیں زیادہ نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے۔‘

کوٹھلی قاضی کے رہائشی ارشد محمود نے کہا کہ ان کے بیٹے کی جانب سے پیرس میں کیے گئے حملے کے بعد ہمسائے اور رشتہ دار مبارک باد دینے کے لیے ان کے گھر پہنچ رہے ہیں۔

ان کے پڑوسی حاجی قیصر نے اے ایف پی کو بتایا: ’اس کے عمل پر سارے گاؤں کو انتہائی فخر ہے۔ آپ جہاں بھی جائیں وہ اسی بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان