کراچی میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن کی ضرورت تھی؟

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد کہتے ہیں کہ ’جب یہ وائرس کمزور ہو رہا تھا، اس وقت سختی کرنی چاہیے تھی۔‘

کراچی میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر  ایک ریسٹورنٹ پر سیل کیے جانے کے جانے کے حوالے سے نوٹس لگا ہوا ہے (تصویر: اے ایف پی)

صوبہ سندھ میں کرونا (کورونا) وائرس کے کیسز دوبارہ بڑھنے کے بعد صوبائی حکومت نے دارالحکومت کراچی سمیت مختلف شہروں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے جبکہ متعدد ریسٹورنٹس بھی سیل کردیے گئے ہیں تاہم مالکان کا کہنا ہے کہ وہ ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کررہے تھے۔

سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق کراچی کے چھ اضلاع میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے، جن میں ضلع وسطی کے چار علاقے نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، گلبرگ اور لیاقت آباد، ضلع شرقی کے علاقے گلشن اقبال، جمشید ٹاؤن، یوسی 7، یوسی 10، الخلیج ٹاور اور المصطفیٰ، یوسی 14 اور یوسی 6 شامل ہیں۔

ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی ڈاکٹر ندیم شیخ کے مطابق ضلع جنوبی کے 24 مقامات اور ضلع ملیر کے 41 مقامات پر ہاٹ سپاٹ کی نشاندہی ہوئی ہے، ضلع غربی کے دو، ضلع کورنگی کے 39گھروں اور ضلع وسطی میں 46گھروں کی کرونا ہاٹ سپاٹ کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے، جہاں پر مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جارہا ہے۔  

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  کی جانب سے گذشتہ روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں کرونا کی نئی لہر سے 24 گھنٹوں کے دوران 13 افراد کا انتقال ہوا، جس سے صوبے میں اب تک ہلاک کرنے والوں کی مجموعی تعداد 2512 ہوگئی ہے اور 361  نئے مریض متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 249 کا تعلق کراچی سے ہے۔ 

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اب تک صوبے میں 13 لاکھ 75 ہزار ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور پورے سندھ میں ایک لاکھ 37 ہزار کیسز کی تشخیص ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سندھ حکومت کے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق گذشتہ روز سے کراچی کے علاقے منگھو پیر کی یو سی 8 میں 15 دن کے لیے مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا، جہاں دو رہائشی عمارتوں میں کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ حکام نے ہدایت کی ہے کہ علاقے میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہے اور تاحکمِ ثانی علاقے میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہوں گی لیکن راشن کی دکانیں اور میڈیکل اسٹورز کھولنے کی اجازت ہوگی۔

دوسری جانب کراچی کے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے صدر، بوٹ بیسن، بلاول چورنگی، دعا چورنگی اور آرام باغ میں واقع متعدد ریسٹورنٹس کو بھی سیل کردیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کراچی ضلع جنوبی ارشاد احمد سوڈھڑ نے بتایا کہ سیل کیے جانے والے ان ریسٹورنٹس میں کام کرنے والے سٹاف اور گاہکوں نے ماسک نہیں پہن رکھے تھے اور سماجی دوری کا بھی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔

بوٹ بیسن پر واقع خیبر بار بی کیو ریسٹورنٹ کے جنرل مینیجر نور حسن نور رحمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت نے بغیر کسی جواز کے ان کے ریسٹورنٹ کو سیل کردیا ہے۔

(تصویر: خیبر بار بی کیو ریسٹورنٹ انتظامیہ)


ان کا کہنا تھا: ’کرونا لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد حکومت کی جانب سے سختی سے ایس او پیز پر عمل کرانے کی ہدایت کی گئی تھی، ہم نے بھی مکمل طور پر ایس او پیز پر عمل کیا، سٹاف کا ہر رکن ماسک استعمال کرتا ہے جبکہ سینیٹائزر کا بھی بندوبست کیا ہوا ہے۔ گاہکوں کو بھی ماسک استعمال کرنے کا سختی سے کہا جاتا ہے، مگر اس کے باجود ہمارے ریسٹورنٹ کی دو برانچوں کو سیل کردیا گیا ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے پچھلے دو ہفتوں کے دوران پاکستان اور خاص طور پر سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں بڑھتے ہوئے کرونا کیسز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’کوئی بھی وائرس ایک بار کم ہوجانے کے بعد جب دوبارہ سے بڑھنے لگتا ہے تو وہ خطرناک وائرس ہوتا ہے اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ جب یہ وائرس کمزور ہو رہا تھا اس وقت سختی کرنی چاہیے تھی، مگر وہ نہ ہوسکی، جس کا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان