اپوزیشن تحریک کی سربراہی: مولانا ہی کیوں؟

پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل حکومت مخالف اتحاد نے جمیعت علما اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کو تحریک کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا سربراہ مولانا فضل الرحمن کو بنایا گیا ہے (اے ایف پی)

پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل حکومت مخالف اتحاد نے جمیعت علما اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کو تحریک کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

حزب اختلاف کی 11 جماعتوں پر مشتمل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا مقصد وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو ’ہٹانا‘ اور نئے انتخابات کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔

پی ڈی ایم میں جمیعت علما اسلام ف کے علاوہ دوسری حکومت مخالف مذہبی، سیکولر اور قوم پرست سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتیں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی تحریک کا حصہ ہیں۔ 

مولانا ہی کیوں؟

سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جیسی بڑی سیاسی قوتوں کی موجودگی میں اپوزیشن کی تحریک کی سربراہی مولانا فضل الرحمن کے حوالے کیوں کی جا رہی ہے؟

تجزیہ کاروں کے خیال میں کسی بھی حکومت مخالف تحریک میں اہم کام لوگوں کو سڑکوں پر نکالنا ہوتا ہے اور موجودہ حالات میں یہ کسی بھی سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں ہے۔ 

سیاسی صورت حال پر نظر رکھنے والے ماہرین کی رائے میں اس وقت مولانا فضل الرحمن کی جمیعت علما اسلام ہی واحد سیاسی قوت ہے جو کامیاب جلسے اور جلوس منعقد کر سکتی ہے۔ 

سینئیر صحافی ضیاالدین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ مولانا فضل الرحمن باآسانی مدرسوں کے طلبہ کو باہر لا سکتے ہیں۔

’ان کے پاس مذہبی مدرسوں کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک موجود ہے اور وہاں زیر تعلیم طلبہ مولانا کی ایک کال پر باہر آ جائیں گے۔‘

ان کے خیال میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے پاس اس وقت یہ صلاحیت موجود نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو باہر نکال سکیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پروفیسر طاہر القادری اس قسم کے دو شو کر چکے ہیں جن میں ان کے ماننے والے اپنے خاندانوں کے ساتھ احتجاج میں حصہ لیے کئی کئی روز تک سڑکوں پر ڈیرے جمائے بیٹھے رہے تھے۔

لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز (لمز) سے منسلک پروفیسر رسول بخش ریئس کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی صرف سندھ میں حکومتی وسائل استعمال کرتے ہوئے جلسے اور جلوس کر سکتی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے لیے لاہور یا مرکزی پنجاب کے علاوہ ملک کے دوسرے حصوں میں لوگوں کو بڑی تعداد میں اکٹھا کرنا مشکل ہو گا۔ 

انہوں نے کہا کہ جمیعت علما اسلام ف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک میں کہیں بھی ایک بڑا مجمع اکٹھا کر سکتی ہے۔

’جمیعت کے لوگ ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک مولانا کی کال پر جا سکتے ہیں اور ایسا ہوتا ہوا ہم نے دیکھا بھی ہے۔‘

رسول بخش رئیس نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے کارکن اپنے رہنما کے لیے ہر قسم کی مصیبتیں اٹھانے کو تیار رہتے ہیں حتیٰ کہ ڈنڈے بھی کھاتے ہیں۔ 

ان کے خیال میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کارکن زیادہ سے زیادہ اپنے شہر یا ضلع کی حد تک احتجاج میں حصہ لیتے ہیں۔

’یہ دونوں سیاسی جماعتیں اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ذریعہ لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔‘

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم کی سربراہی سے دور رہنے کی کیا مخصوص وجوہات ہو سکتی ہیں؟

اس حوالے سے رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما جیلوں میں ہیں یا کرپشن کیسز کا سامنا کر رہے ہیں اور مستقبل میں مزید بشمول مریم نواز بھی ’گرفتار‘ ہو سکتے ہیں ایسے میں مسلم لیگ کے لیے کافی مشکل ہو گا تحریک کو چلانا۔

ان کے خیال میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں ابھی بھی ’بدگمانیوں‘ کی موجودگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما پیپلز پارٹی جیسی جماعت کے لیے پنجاب میں گنجائش پیدا کرنے کو تیار نظر نہیں آتے۔  

رسول بخش رئیس نے کہا کہ مسلم لیگ چاہے گی کہ پنجاب میں ان کا مقابلہ صرف تحریک انصاف سے ہی رہے۔

’ویسے بھی یہ ان کے حق میں بہتر رہے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی میں قیادت کا فقدان بھی ایک بڑی وجہ ہے جس کے باعث شاید اس کی لیڈرشپ تحریک کی سربراہی سے دور رہنے کو ترجیح دے رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعض ماہرین کے خیال میں مولانا فضل الرحمن کا سربراہ بننا پی ڈی ایم کے لیے فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

ضیا الدین نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی ایف ایک مذہبی جماعت ہے اور اس کی مخصوص مذہبی سوچ رکھنے والے پیروکار اور سپورٹرز ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی ایف کے برعکس پیپلز پارٹی سیکولر جماعت ہے جبکہ مسلم لیگ ن بھی اب آزاد خیال سیاسی قوت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔

’پاکستان میں لبرل سوچ رکھنے والوں کے علاوہ نیوٹرل لوگ بھی ان دونوں جماعتوں کو پسند کرتے ہیں اور ان کا مولانا فضل الرحمن کے ساتھ یوں جانا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی عوامی رائے میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے میں شمولیت پر بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو نیوٹرل پاکستانیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی مخالفت سے متعلق رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما نے ایسا کر کے کم از کم تاریخ میں نام لکھوا دیا ہے۔

’ماضی میں کسی نے اس طرح سکیورٹی اداروں کی کھل کر مخالفت نہیں کی تھی حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو بھی اتنا آگے نہیں گئے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی اس مخالفت کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے ان کا نام تاریخ میں سکیورٹی اداروں کی کھل کر مخالفت کرنے والوں میں لکھا جائے گا۔

رسول بخش رئیس کا خیال تھا کہ نواز شریف کی تمام تر اینٹی اسٹبلشمنٹ پالیسی کے باوجود مسلم لیگ ن اس سلسلہ میں تقسیم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست