فلموں میں خواتین کو ’جنسی رنگ‘ میں زیادہ کیوں پیش کیا جاتا ہے؟

فلمی دنیا میں یہ شکایت عام ہے کہ خوبصورت خواتین کو ان کی صلاحیتوں کی وجہ سے کم اور ’جنسی‘ رنگ میں زیادہ پیش کیا جاتا ہے۔

فلم انڈسٹری  پر مردو کا کنٹرول ہے اور وہ ہر پہلو کو اپنی عینک سے دیکھتے ہیں (اے ایف پی)

فلمی دنیا میں یہ شکایت عام ہے کہ خوبصورت خواتین کو ان کی صلاحیتوں کی وجہ سے کم اور ’جنسی‘ رنگ میں زیادہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سب کو معلوم ہے کہ ’سیکس بکتا ہے۔‘

ہالی وڈ ہو یا بالی وڈ عورت کو اس کی جائز عزت اور مقام ملنے میں ابھی بھی وقت ہے۔

فلم انڈسٹری  پر مردو کا کنٹرول ہے اور وہ ہر پہلو کو اپنی عینک سے دیکھتے ہیں۔ فلم میں اہم ترین کردار سے لے کر، لباس اور آئٹم سانگ تک سب میں ان کی فطری جسمانی دلکشی کو ’کیش‘ کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔

بالی وڈ میں تو حالات قدرے بہتر ہوئے ہیں لیکن بالی وڈ اور لالی وڈ ابھی کافی پیچھے ہیں۔ آپ کے خیال میں سب سے زیادہ یہ ’ظلم‘ کن اداکاراؤں کے ساتھ ہوا ہے۔

ہالی وڈ

بعض لوگوں کے خیال میں ہالی وڈ میں سب سے زیادہ ’اورسیکشلائزڈ‘ یا ’شہوتی‘ رنگ میں سلمہ ہائک کو دکھایا گیا ہے۔

اگرچہ وہ ہالی وڈ میں آنے سے قبل اپنے آبائی میکسیکو میں کافی پختہ اداکارہ کے طور پر جانی جاتی تھیں لیکن ہالی وڈ میں انہیں ’غلط‘ رنگ میں پیش کیا گیا۔

میکسیکو میں اپنی صلاحیتیں منوانے کے بعد ہالی وڈ میں ابتدا میں آمد کے بعد بھی انہیں رول نہیں ملے اور انہیں واپس چلے جانے کے مشورے دیے گئے۔

انہیں 1995 میں مقبول فلم ’ڈیسپراڈو‘ اور بعد میں 1997 میں ’فولز رش ان‘ اور 1999 میں ’وائلڈ وائلڈ ویسٹ‘ میں کام ملا لیکن ان کرداروں پر ’جنسی رنگ‘ حاوی دکھائی دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہیں ’سیکسی بامب شیل‘ اور ’ہاٹ لیٹن لیڈی‘ کے القابات سے نوازا گیا۔ اسی وجہ سے انہیں اسی قسم کے چھوٹے موٹے کردار ملنے لگے۔

لیکن اس منفی شبہہ سے انہوں نے چھٹکارا 2002 میں ’فریدا‘ نامی فلم میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوا کر ملا۔ یہ ان کی بہترین فلموں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔

اس فلم نے انہیں 2003 میں بہترین اداکارہ کے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزدگی بھی دلائی۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اس سال ان سے آسکر چوری کیا گیا تھا۔

بالی وڈ

بھارت میں ابھی بھی خواتین اداکاراؤں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی کی اداکاری کی صلاحیتوں کو دیکھ کر سوال کیے جاتے ہیں کہ آخر ان کا کردار کیا ہے یا وہ کیوں فلم میں دکھائی دے رہی ہیں۔ یہاں ان کی فہرست لمبی ہے۔

اس فہرست میں آپ بیگم پارہ سے لے کر نلنی جيونت، نرگس، ويجنتي مالا، شرمیلا ٹیگور، بندو، زینت امان، ڈمپل كپاڈيا، سیمی گریوال، منداكنی سے لے کر آج کے دور کی کئی اداکاراؤں جیسے نندتا داس، ملکا شیراوت، ایشا گپتا، ودیا بالن اور بپاشا باسو کے نام شامل کرسکتے ہیں۔

فہرست میں دوسری زبانوں کے علاقائی سینیما کی اداکارائیں بھی شامل ہیں۔

بی ڈی گرگ نے اپنی کتاب ’سو مینی سینماز: دی موشن پکچر ان انڈیا‘ میں لکھا ہے کہ 1921 میں پیش کی جانے والی فلم ’ستی انسويا‘ میں پہلی بار سكينہ بائی نام کی ایک اداکارہ کو ’مکمل طور پر برہنہ‘ دکھایا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم