اختلاف پی ٹی ایم سے کریں، روایات اور اقدار سے نہیں

گزارش ہے کہ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کرے اور نہ صرف اپنے کارکن ہارون الرشید اور اس کے ساتھیوں کے خلاف تنظیمی سطح پر کارروائی کرے۔

(سکرین گریب)

تو کیا عشروں تک عالم اسلام سے فکر اور جدوجہد پر خراج لیتی مولانا مودودی کی عظیم وراثت جماعت اسلامی دیر کی دور افتادہ پہاڑی علاقے کی ایک دو صوبائی اسمبلی کی سیٹوں تک محدود ہونے اور سیاسی طور پر حد درجہ غیر اہم ہونے کے بعد اس بات پر بھی بضد ہے کہ تہذیبی اور اخلاقی طور پر بھی خود کو منہدم کر کے ہی چھوڑے گی؟

چلیں تاریخ میں جھانک آتے ہیں۔

مولانا مودودی اور جوش ملیح آبادی فکری حوالوں سے متضاد انتہاؤں پر کھڑے بلکہ مقابل تھے لیکن ذاتی دوستی ایسی کہ رشک آنے لگتا۔ ایک بار مولانا مودودی کو شدید درد کی شکایت ہوئی، ہسپتال لے جایا گیا تو پتہ چلا کہ گردے میں پتھری ہے۔

جوش ملیح آبادی کو خبر ہوئی تو تعزیت کے لیے پہنچا، دیکھا کہ مولانا مودودی کی طبیعت سنبھل گئی ہے اس لیے دوستانہ جملہ بازی کے لیے ماحول سازگار تھا۔

پوچھنے پر مولانا نے بتایا کہ گردے میں پتھری نکل آئی ہے، تو جوش نے برجستہ کہا کہ ’اللہ آپ کو اندر سے سنگسار کر رہا ہے۔‘

کمرے میں قہقہے گونجے لیکن سب سے بلند قہقہہ مولانا مودودی کا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ سے ایک دوسرے کے حریف رہے لیکن افغانستان پر روسی حملے کے بعد اس میں مزید شدت آ گئی۔ قاضی حسین احمد مرحوم تنظیمی دورے پر چارسدہ گئے تو دوپہر کا کھانا ولی خان کے ہاں کھایا اور پھر دونوں دیر تک گپیں ہانکتے اور قہقہے لگاتے رہے۔

لیکن ایک رنج اور دکھ ذہن کو جکڑ لیتا ہے کہ ماضی میں تنظیمی حوالے سے بلند رتبہ اور تہذیبی حوالے سے سر بلند جماعت اسلامی کو یہ کس کی نظر لگ گئی کہ نہ تنظیم رہی اور نہ تہذیب۔

حالت یہاں تک آ گئی کہ گھر آئے مہمان کی عزت بھی محفوظ نہیں رہی اور وہ بھی باجوڑ جیسے روایت پرست اور مہمان نواز معاشرے میں۔

سوال یہ ہے کہ کس نے کہا ہے کہ آپ پی ٹی ایم یا محسن داوڑ کے بیانیے کی حمایت کریں کون آپ کو جبراً ان کا راستہ اپنانے کو کہے گا لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کونسا معاشرہ اجازت دیتا ہے کہ آپ کسی کو بات بھی نہ کرنے دیں۔

کون سی روایات گوارا کرتی ہیں کہ دور آفتادہ وزیرستان سے آئے مہمان پر کرسیاں پھینکیں اور گریبان کی طرف بڑھیں لیکن جماعت اسلامی سے وابستہ اور باجوڑ کا رہائشی ہارون الرشید یہ سب کچھ کر بھی چکا ہے اور صدیوں سے مہمان نوازی کی سر بلند پختون تاریخ کا سر شرم سے جھکا بھی چکا ہے۔

بدقسمتی سے کچھ عرصہ پہلے ایسا ہی ایک واقعہ وطن پر قربان ہونے والے بیٹے کرنل شیر خان کے مزار پر اس کے بھائی انور شیر خان کے ہاتوں بھی دیکھنے میں آیا تھا۔

رہا پی ٹی ایم کا بیانیہ تو ضروری تو نہیں کہ آپ ہر وقت کلی طور پر اتفاق کریں لیکن سچ تو یہ ہے کہ معمولی سے اختلاف کی صورت میں پی ٹی ایم کے حمایتی تحریک انصاف والوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔

اس خاکسار کے نصیب میں تو ہمیشہ ہر سمت سے سنگ زنی ہی رہی۔

بات ہو رہی تھی باجوڑ واقعے کے حوالے سے تو گزارش ہے کہ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کرے اور نہ صرف اپنے کارکن ہارون الرشید اور اس کے ساتھیوں کے خلاف تنظیمی سطح پر کارروائی کرے بلکہ فوری طور پر جماعتی اکابرین (جن میں لیاقت بلوچ اور سینیٹر مشتاق جیسے سنجیدہ لوگ شامل ہوں) پر مشتمل جرگہ وزیرستان بھیجے تاکہ نفرت اور دوری کی بجائے معاملے کو مرّوت اور بھائی چارے کی طرف موڑا جائے اور ویسے بھی ہم نہ تو مزید حماقتوں کے متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی مزید اذیتوں کے۔

بلکہ وسیع القلبی اور ہوشمندی ہی ہمیں بقا کی سمت لے جانے کی ضامن بنے گی اور یہی راستہ ہی خیر اور بھلائی کا راستہ ہے۔

--------

نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مشتمل ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ