آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی بنی نہیں مگر چیئرمین کی تلاش شروع 

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس اتھارٹی کو نہیں مانتی لہٰذا اس کے چیئرمین کے لیے اشتہار مناسب نہیں۔

بلوچستان حکومت کو اپنے جزائر وفاق کےما تحت کرنے پر کوئی اعتراض نہیں(فائل تصویر:اے ایف پی )

سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں سے متصل جزائر کی ترقی کے نام پر صدر پاکستان کے جاری کردہ متنازع ’پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ آرڈیننس کو ابھی قانونی شکل بھی نہیں ملی کہ وفاقی وزارت برائے سمندری امور نے اتھارٹی کے چیئرمین کے انتخاب کے لیے اشتہار جاری کردیا۔ 

انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے وفاقی وزارت برائے سمندری امور سے حاصل کردہ اشتہار کے مطابق اتھارٹی کے چیئرمین کے لیے درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر ہے، جب کہ اس عہدے کے لیے امیدوار کسی سرکاری محکمے میں 22 گریڈ سے ریٹائرڈ یا پھر مسلح افواج میں حاضر سروس یا ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کے برابر عہدے پر کام کرچکا ہو۔ 

اس کے علاوہ 15 سال یا اس سے زیادہ تجربہ رکھنے والا کوئی پروفیشنل یا بزنس مین بھی درخواست دے سکتا ہے۔ دیگر شرائط میں امیدوار کی تعلیم ماسٹرز اور عمر 62 سال سے زیادہ نہ ہونا ہے۔ 

اس اشتہار پر ردعمل میں ترجمان وزیراعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سندھ حکومت نے ایک جزیرے پر وفاقی حکومت کو ترقیاتی منصوبے کے لیے مشروط اجازت نامہ دیا تھا، مگر اب سندھ حکومت وہ اجازت نامہ واپس لے کر پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کو رد کرتی ہے، جس کے بعد یہ آرڈیننس متنازع بن گیا ہے۔ ایسی صورت میں اتھارٹی کے چیئرمین کے لیے اشتہار مناسب نہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں عبدالرشید چنا نے کہا: ’سندھ حکومت نے تو آرڈیننس کو مکمل طور پر رد کیا ہے، مگر بلوچستان حکومت ان منصوبوں پر راضی ہے، ایسے میں شاید اتھارٹی اور اس کا چیئرمین صرف بلوچستان کے ساحل پر موجود جزائر کے لیے کام کریں۔‘

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کے ترجمان عمر فاران کا کہنا ہے کہ یہ جزائر پورٹ قاسم کی ملکیت ہیں اور سندھ حکومت نے جزائر کی ملیکت کا معاملہ خواہ مخواہ اٹھایا۔ ’اتھارٹی کے چیئرمین کے لیے اشتہار صدارتی آرڈیننس کے بعد جاری کیا گیا اور قانونی طور پر صدارتی آرڈیننس کی عمر 120 دن ہوتی ہے جس کے بعد یہ خود بخود قانون بن جاتا ہے۔‘

 جزائر پر وفاق کے ترقیاتی منصوبے آخر ہیں کیا؟ 

کچھ عرصہ پہلے تک مقامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض نے مبینہ طور پر ایک غیر ملکی کمپنی کے ساتھ سندھ کے ان دونوں جزائر پر جدید طرز کا ایک شہر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے، تاہم عمر فاران نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی تو اتھارٹی کے قیام کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری ہوا ہے، اس کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ وہاں کیا بنے گا، وہاں پر غیر ملکی سرمایہ کاری سے کئی منصوبے بنائے جائیں گے۔‘

 وفاق کو جزائر پر منصوبوں کا اجازت نامہ واپس

دوسری جانب سندھ کی حدود میں واقع جزائر  پر وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے خلاف صوبے بھر میں شدید ردعمل اور سندھی قوم پرست جماعتوں کے اعلان کردہ مظاہروں کے بعد صوبائی حکومت نے وفاق کو دیے جانے والا مشروط اجازت نامہ واپس لے لیا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ سندھ نے وفاقی حکومت کو اپنے فیصلے سےآگاہ کر دیا ہے کہ ’صوبائی حکومت نے نیک نیتی اور چند شرائط کی بنیاد پر وفاق کو جزیرے پر ترقیاتی کام کی اجازت دی تھی۔‘

سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن سندھ نے منگل کو وفاقی سیکریٹری کابینہ ڈویژن کو لکھے گئے خط میں کہا کہ سندھ حکومت نے وفاق کو جولائی میں خط لکھ کر کچھ شرائط کی بنیاد پر جزیروں پر ترقیاتی کام کی اجازت دی تھی، مگر اب سندھ کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں دیا جانے والا وہ اجازت نامہ واپس لیا جاتا ہے۔ 

خط میں لکھا گیا: ’جزائر صوبے کے ساحل پر ہیں، اس لیے قانونی طور پر یہ سندھ حکومت کی ملکیت ہیں اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 172کی شق 2 کے تحت کانٹینینٹل شیلف کے بعد کی زمین، معدنیات اور دیگر چیزیں وفاق کی ملکیت ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان