جزائر پر صوبوں کا اختیار ختم: سندھ مخالف لیکن بلوچستان حامی

سندھ کی حکمران جماعت پی پی پی جزائر سے متعلق صدارتی آرڈیننس کی مخالف جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کا عندیہ دیا ہے۔

ایک ماہی گیر سندھ کے بدو جزیرے کی طرف آتے ہوئے ( اے ایف پی)

حکومت نے پاکستان آئی لینڈ ڈیویلپمنٹ کے نام سے ایک نئی اتھارٹی کا قیام کرتے ہوئے گذشتہ ماہ صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے مطابق اب سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر وفاقی حکومت کا اختیار ہوگا۔

اتھارٹی کے چیئرمین کے عہدے کے لیے 22 گریڈ کے سرکاری افسر، حاضر یا ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل اہل ہوں گے۔ واضح رہے کہ 2018 میں میری ٹائم افیئرز منسٹری کی جانب سے جاری کی گئی فشنگ پالیسی کے مطابق ساحلی پٹی سےلے کر سمندر کے اندر دو سو ناٹیکل مائلز کا علاقہ ایکسکلوسیو اکنامک زون کہلاتا ہے، جسے زون ون، ٹو اور تھری میں تقسیم کیا گیا تھا۔

پالیسی کے مطابق زون ون ساحلی پٹی سے سمندر کے اندر 12 ناٹیکل مائلز  کا علاقہ سندھ اور بلوچستان حکومت کے دائرہ اختیار میں دیا گیا تھا جبکہ بفر زون اور باقی کا ایریا وفاق کے دائرہ اختیار میں تھا۔ تاہم حالیہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے صوبوں سے 12 ناٹیکل مائلز کا علاقہ واپس لے کر نئی اتھارٹی کی ملکیت میں دے دیا گیا ہے، جس میں دو جزائر بدو اور بندل بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں جزائر کتنے ہیں؟

سندھ اور بلوچستان کے جزائر کی تعداد 10 ہے۔ دو جزائر بلوچستان جبکہ آٹھ جزائر صوبہ سندھ میں ہیں۔ بلوچستان کا ایک جزیرہ مالان ساحل سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لیکن وہ اکثر پانی میں ڈوبا رہتا ہے، جبکہ دوسرا جزیرہ ہفت تلار 16 ناٹیکل مائلز کے فاصلے پر ہے جو زون ٹو میں آتا ہے اور آرڈیننس سے قبل ہی وفاق کی ملکیت ہے۔ دوسری جانب سندھ کے قابل ذکر دو جزائر بدو اور بندل ہیں، جو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے اہم ہیں۔ جبکہ دیگر چھوٹے جزیروں پر پکنک سپاٹ ہیں اور کچھ پر پاکستان نیوی کے مراکز بھی موجود ہیں۔

آرڈیننس کے مندرجات

25 صفحات پر مشتمل آرڈیننس کے مندرجات میں بتایا گیا ہے کہ گریڈ 22 یا آرمی کے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کے مساوی حاضر یا ریٹائرڈ افسر اتھارٹی کے چیئرمین تعینات ہوسکیں گے۔ چیئرمین کے عہدےکی مدت چار سال ہوگی جس میں ایک بار توسیع ہو سکے گی۔ وزیراعظم اتھارٹی کے پیٹرن ہوں گے، جو کارکردگی کے جائزے سمیت پالیسی ہدایات جاری کریں گے۔

صدارتی آرڈیننس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پیٹرن، اتھارٹی چیئرمین، ممبر یا کسی بھی عہدیدار یا ملازم کےخلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوسکے گی یا ان کو متنازع نہیں بنایا جائے گا جبکہ آرڈیننس کے تحت اٹھائے گئے اقدام یا اتھارٹی کے فعل کی قانونی حیثیت پر کوئی عدالت یا ادارہ سوال نہیں کرسکے گا۔

اس کے علاوہ اتھارٹی ایک یا زیادہ رجسٹرار مقرر کر سکے گی، جسے سول کورٹ کا اختیار ہوگا جو کسی بھی فرد یا دستاویزات کی طلبی کا مجاز ہوگا۔ اتھارٹی کے زیر انتظام ایک فنڈ بھی قائم کیا جائے گا جبکہ اتھارٹی کو دس سال کے لیے آمدنی، منافع اور وصولیوں پر ٹیکسوں کی چھوٹ ہوگی۔ آرڈیننس کی خلاف ورزی پرچھ ماہ سےسات سال تک قید اور جرمانے کی سزائیں بھی دی جاسکیں گی۔

حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے پاکستان آئی لینڈز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی قائم کرےگی اور چیئرمین سمیت پانچ سے گیارہ اراکین پر مشتمل پالیسی بورڈ پانچ سال کے لیے تشکیل دے گی۔

اتھارٹی کا ہیڈکوارٹرز کراچی میں ہوگا جبکہ علاقائی دفاتر دیگر مقامات پر قائم ہوسکیں گے۔ یہ اتھارٹی منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد کا قبضہ حاصل کرنےکی مجاز ہوگی اور ایسی جائیدادوں پر تمام لیویز ٹیکس، ڈیوٹیاں، فیس اور ٹرانسفر چارجز لینےکی مجاز ہو گی۔

آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ پانی کی حدود کے حوالے سے 'ٹیریٹوریل واٹرز اینڈ میری ٹائم زونز ایکٹ 1976' کے مطابق ساحل سے سمندر کے اندر 12 ناٹیکل مائلز تک کا حصہ اب اتھارٹی کی ملکیت تصور کیا جائے گا۔

صوبہ سندھ کو نئی اتھارٹی کے اختیارات پر اعتراضات

سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کی جماعت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سندھ کے جزائر کے الحاق کی مخالفت کرے گی۔ بلاول بھٹو نے سوال اٹھایا کہ 'تحریک انصاف کی حکومت کا یہ عمل مودی کے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اقدامات سے کس طرح مختلف ہے؟'

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام کی قومی وصوبائی اسمبلیوں کے ساتھ سینیٹ میں بھی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ دوسری جانب سندھ کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ 'یہ جزائر حکومت سندھ کی ملکیت ہیں اور ان پر کسی آرڈیننس کے ذریعے قبضہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر سندھ کے عوام کا حق ہے۔'

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ٹرینڈ بھی سامنے آیا ہے جس کے تحت سندھ اور صوبے کے عوام کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کو مسترد کیے جانے کی بات کی گئی۔

بلوچستان کا صدارتی آرڈیننس پر ردعمل

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کا عندیہ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 'بلوچستان حکومت وفاق کی جانب سے جاری کردہ ہر ترقیاتی پروجیکٹ میں تعاون کرے گی اور وفاقی حکومت بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن وسائل کو بروئے کار لائے گی۔'

کیا اٹھارویں ترمیم اس صدارتی آردیننس سے متاثر ہوگی؟

اپریل 2010 میں کی گئی اٹھارویں ترمیم کے تحت وفاق سے زیادہ تر اختیارات لے کر صوبوں کے دے دیے گئے تھے، جس سے صوبے بااختیار ہو گئے تھے۔ اس ترمیم کے تحت صحت و تعلیم اور توانائی کے شعبے مکمل طور پر صوبوں کی تحویل میں دے دیے گئے۔ٓ تھے۔ اٹھارویں ترمیم میں ایک شق یہ بھی رکھی گئی کہ جہاں آبی ذخائر تعمیر کیے جائیں وہاں صوبوں کی وفاق سے مشاورت لازمی ہوگی۔

آئین کے آرٹیکل 172 کی شق نمبر ایک کے مطابق اگر کوئی زمین، جس کا کوئی ملکیتی دعویدار نہیں ہے اور وہ کسی صوبےمیں موجود ہے تو متعلقہ صوبے کا اس زمین پر ملکیتی اختیار ہو گا جبکہ آرٹیکل 172 کی شق دوم کے مطابق پاکستان کے ساحلی علاقوں میں قدرتی ذخائر، چاہے وہ جس بھی صوبے میں ہوں، اس پر وفاق کا مکمل اختیار ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ آرٹیکل 172 کی شق تین کے مطابق اگر وفاق اور صوبوں کے درمیان کوئی معاہدہ موجود ہے، تو اس کے تحت قدرتی ذخائر پر وفاق اور صوبے دونوں کا اختیار ہو گا۔ تاہم نئے آئی لینڈز ڈیویلپمنٹ آرڈیننس کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر صوبوں کا اختیار ختم کر کے وفاق کی ملکیت میں دے دیا گیا ہے تو یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ اٹھارویں ترمیم سے متصادم ہے؟

یہ جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے ماہر قانون عرفان قادر سے رابطہ کیا، جن کا کہنا تھا کہ 'بے شک آئین کے آرٹیکل 172 کی شق دوم اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان میں سمندری ساحلی پٹی سے لے کر سمندر کے اندر 12 ناٹیکل مائلز کی حدود چاہے وہ سمندر کے اندر ہوں یا جزائر ہوں، وہ وفاق کی ملکیت تصور ہوں گے، لیکن صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اتھارٹی کا راتوں رات قیام شکوک کو جنم دیتا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'آئین میں قانون سازی کا ایک طریقہ کار موجود ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239(4) کے مطابق ایوان میں یہ معاملہ جانا چاہیے تھا اور اس کے بعد آرڈیننس اور اتھارٹی کا قیام کرنا چاہیے تھا۔'

اٹھارویں ترمیم سے متصادم ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 'اٹھارویں ترمیم میں صرف صحت، تعلیم اور توانائی کے شعبوں پر صوبوں کو حق تفویض کیا گیا تھا، اس لیے اسے متصادم تو نہیں کہہ سکتے لیکن متعلقہ صوبوں سے مشاورت میں کوئی مضائقہ بھی نہیں تھا۔'

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 172 کی شق دوم سے پاکستان آئی لینڈز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو تحفظ دیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان