نواز شریف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ اپنی موت آپ مرجائے گا؟

شاہدرہ تھانے میں درج ہونے والے غداری اور بغاوت پر اکسانے سے متعلق مقدمے میں سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے علاوہ دیگر تمام لیگی رہنماؤں کے نام خارج کر دیے گئے، تاہم قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مقدمے پر اب کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اور دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ یم اکتوبر کو شاہدرہ تھانے میں درج کروایا گیا تھا (تصویر: اے ایف پی)

یکم اکتوبر کو شاہدرہ تھانے میں درج ہونے والے غداری اور بغاوت پر اکسانے سے متعلق مقدمے میں سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے علاوہ دیگر تمام لیگی رہنماؤں کے نام خارج کر دیے گئے۔

 انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) پنجاب کے دفتر سے  جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا: 'آئی جی کے  حکم سے قائم شدہ سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے بدر رشید نامی شہری کی جانب سے تھانہ شاہدرہ میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف درج مقدمہ نمبر 3033/20کی تفتیش شروع کر دی ہے۔'

بیان کے مطابق ایف آئی آر میں درج کچھ دفعات کو بھی حذف کیا گیا ہے جن میں دفعات 121A ت پ، 123A ت پ، 124ت پ اور 153A شامل ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ وہ دفعات ہیں جن کے تحت ریاست کے خلاف بغاوت یا غداری کا مقدمہ ریاست کی اجازت کے بغیر درج نہیں ہو سکتا۔

مذکورہ بغاوت کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف جو دفعات باقی رہ گئی ہیں ان میں دفعہ 120، 120 اے، 129 بی، 121، 121 اے، 123 اے، 124، 124 اے، 153، 153 اے اور سائبر کرائم ایکٹ پیکا کی دفعہ 10 بھی شامل ہے۔

شاہدرہ تھانے میں جب یہ مقدمہ درج ہوا تھا تو ایف آئی آر میں نامزد لیگی رہنماؤں نے الزام لگایا تھا کہ یہ مقدمہ حکومت کی ایما پر درج کیا گیا ہے، جبکہ حکومت نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

آئی جی پنجاب کے بیان کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد 40 سے زیادہ لیگی رہنماؤں کے خلاف تائید کے مکمل شواہد نہ ہونے کے باعث ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ماضی میں درج ہونے والے ایسے مقدمات کا کیا بنا؟

سیاسی تجزیہ نگار حسن عسکری کے مطابق: 'ماضی میں بھی وقتاً فوقتاً ایسے مقدمات ہوتے رہے ہیں، لیکن ان کا نتیجہ  کچھ نہیں ہوتا ہے کیونکہ یہ صرف دباؤ ڈالنے کے لیےکیے جاتے ہیں۔'

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا: 'اس مقدمے میں یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ مقدمہ کن دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ہم بغاوت کا لفظ استعمال کر رہے ہیں لیکن کیا بغاوت کی دفعہ شامل ہے؟ کیونکہ بغاوت کا مقدمہ آرٹیکل چھ کے تحت درج ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک عام شہری کسی تھانے میں جاکر بغاوت کے جرم میں کسی کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دے۔ آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ صرف وفاقی حکومت درج کروا سکتی ہے۔ ہاں کرمنل لا میں کچھ اور دفعات ہیں جیسے نفرت پھیلانا، ریاست کے خلاف کام کرنا وغیرہ۔ ان میں سے کچھ دفعات کے تحت یہ مقدمہ درج ہوا ہوگا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ 'ماضی میں ایسے مقدمات کے علاوہ سیاست دانوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات بھی درج ہوتے رہے ہیں۔ بہت سے سیاستدان ضمانت پر رہا ہوجاتے تھے، لیکن کبھی کوئی بڑی کارروائی نظر نہیں آئی کہ پاکستان میں کسی سیاست دان کے خلاف بغاوت کے مقدمے کا کوئی نتیجہ نکلا ہو۔ ہاں 1973 کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کچھ سیاست دانوں کے خلاف 'حیدرآباد سازش کیس' خصوصی عدالت میں چلوایا تھا لیکن جب بھٹو کی حکومت گئی تو وہ ٹرائل بھی ختم ہو گئے۔ ماضی قریب میں ایک وہی قابل ذکر مثال سامنے ہے۔'

حسن عسکری کا کہنا تھا کہ 'نواز شریف کے خلاف درج اس مقدمے کا اگر کچھ بننا ہوتا تو اب تک کچھ نہ کچھ کارروائی ہو چکی ہوتی۔ یہ حکومت ہمیں سنجیدہ نظر نہیں آتی ورنہ اس پر وفاقی وزارت داخلہ کو متحرک ہونا چاہیے تھا لیکن وہ تو اس مقدمے سے ہی لاتعلقی کا اعلان کر رہے ہیں تو میرا نہیں خیال کہ اس پر کوئی کارروائی ہوگی۔'

انہوں نے مزید کہا: 'یا تو حکومت بغاوت کا مقدمہ درج کرواتی یا وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ یہ مقدمہ درج کرواتے تب معاملہ سنجیدہ ہوتا۔ اس مقدمے کے مدعی کا کردار بھی مشکوک ہے۔ دراصل بعض اوقات بیوروکریسی میں یا پولیس میں ایسے بے وقوف لوگ ہوتے ہیں جو اس قسم کی غلط حرکت کرتے ہیں لیکن اس کا فائدہ کچھ نہیں ہوتا بلکہ حکومت کے لیے ایسے مقدمات درد سر اور بدنامی کا سبب ہی بنتے ہیں۔ '

موجودہ دفعات کے تحت بغاوت کے مقدمے کی قانونی حیثیت؟

اس حوالے سے قانونی ماہر فرہاد علی شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'اس مقدمے کی قانونی حیثیت یہ ہے کہ اب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ ایک پولیٹیکل وکٹمائزیشن کا کیس ہے، کیونکہ دفعہ 124 اے کے تحت بغاوت کا مقدمہ درج کروانے کا اختیار وفاقی حکومت کو ہے۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ 'نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف نفرت انگیز تقریر کا مقدمہ بھی 124 اے اور 120 بی کے تحت درج کیا گیا تھا لیکن وہ کیس بھی اسی گراؤنڈ پر خارج ہوگیا تھا کہ عدالت اس وقت تک اس کا ادراک نہیں کر سکتی جب تک کہ یہ شکایت ہوم سیکرٹری، وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت نے نہ درج کروائی ہو۔ یہی دفعات انہوں نے اس مقدمے میں نواز شریف کے خلاف بھی لگائی ہیں لیکن یہ ایف آئی آر اس طرح درج نہیں ہوسکتی کہ کوئی بھی شہری تھانے آئے اور ایس ایچ او پرچہ درج کر لے۔'

فرہاد کہتے ہیں: 'اب ایف آئی آر میں نواز شریف کے خلاف جو دفعات رہ گئی ہیں وہ سب ریاست کے خلاف جرائم کے حوالے سے ہیں جبکہ سائبر کرائم تو ویسے ہی پولیس نہیں بلکہ ایف آئی اے کے دائرہ کار میں آتا ہے اور اس کا ٹرائل ایف آئی اے اور ایک سپیشل نامزد اے ایس پی کرتا ہے۔'

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 'ماضی میں کیپٹن (ر) صفدر، تہمینہ دولتانہ، ولی خان اور جاوید ہاشمی پر بھی بغاوت کے مقدمے اسی طرح درج کیے گئے تھے اور وہ ایف آئی آرز عدالت نے خارج کر دی تھیں۔ اسی طرح نواز شریف کے خلاف یہ ایف آئی آر بھی نہیں چل سکتی۔ ایسی کارروئیاں اداروں کا غلط استعمال کرنے کے زمرے میں آتی ہیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان