شمالی وزیرستان اور گوادر میں حملے، 20 سکیورٹی اہلکار ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں دیسی ساختہ بم حملے میں ایک افسر اور پانچ جوانوں سمیت چھ اہلکار جبکہ گوادرمیں مکران کوسٹل ہائی وے پر او جی ڈی سی ایل کے قافلے پر حملے کے نتیجے میں ایف سی کے سات اہلکار اور سات سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوئے۔

مکران کوسٹل ہائی وے پر حملے کے نتیجے میں تباہ ہونے والی  فرنٹیئر کور  کی گاڑی (تصویر: ایف سی حکام)

شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک اور بلوچستان کے ضلع گوادر میں جمعرات کو ہونے والے دو حملوں میں 20 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں دہشت گردوں نے دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک افسر اور پانچ جوان جان کی بازی ہار گئے۔

 آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کیپٹن عمر فاروق، نائب صوبیدار ریاض احمد، نائب صوبیدار شکیل آزاد، حوالدار یونس خان، نائیک محمد ندیم اور لانس نائیک عصمت اللہ شامل ہیں۔

(تصویر: آئی ایس پی آر)


دوسری جانب بلوچستان کے ضلع گوادر سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مکران کوسٹل ہائی وے پر آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (اوجی ڈی سی ایل) کے قافلے پر حملے کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے سات اہلکار اور سات سکیورٹی گارڈز ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق او جی ڈی سی ایل کا قافلہ گوادر سے کراچی کی جانب گامزن تھا کہ مکران کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ کے قریب دہشت گردوں نے حملہ کردیا، تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے او جی ڈی سی ایل کے قافلے کی حفاظت اور ان کے وہاں سے محفوظ انخلا کو یقینی بنایا۔

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ اس حملے کے نتیجے میں ایف سی کے سات اہلکار جبکہ سات سکیورٹی گارڈز جان کی بازی ہار گئے جبکہ دہشت گردوں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

دوسری جانب وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے او جی ڈی سی ایل کے قافلے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ فعل قرار دیا ہے۔

اس سے قبل ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آفس گوادر کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو مکران کوسٹل ہائی وے پر پیش آنے والے واقعے میں 14 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اہلکار نے مزید بتایا تھا کہ قافلے میں چار گاڑیاں شامل تھیں جن میں سے دو مکمل تباہ ہوگئیں۔ 

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر لاشوں کو اورماڑہ میں واقع پاکستان بحریہ کے ہسپتال منتقل کردیا تھا۔

 واضح رہے کہ مکران کوسٹل ہائی پر اکثر اوقات بلوچ مزاحمت کاروں کی طرف سے فورسز اور غیر مقامی افراد پر اس طرح کے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے قبل بھی یہاں ایک بس سے چودہ افراد کو اتار کر گولیاں ماری گئی تھیں۔ 

اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ کی جانب سے قبول کرنےکا دعویٰ نہیں کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان