امریکہ اپنی ہی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف میدان میں آ گیا

امریکی کانگریس کی انسداد اجارہ داری کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایمازون، ایپل، گوگل اور فیس بک جیسی کمپنیاں بہت طاقتور ہیں اور کرونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں مزید مضبوط بن کر ابھریں گی۔

امریکی ایوان نمائندگان پر مشتمل پینل کی تازہ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی فرمز ’اجارہ داریوں‘ کے طور پر کام کر رہی ہیں(فائل تصویر: اے ایف پی)

 

انٹرنیٹ کے میدان میں حاوی ٹیکنالوجی کی وہ امریکی کمپنیاں جو مال بنانے میں مصروف ہیں، تیزی سے اجارہ داری روکنے کے لیے بنائے گئے اداروں کے نشانے پر آ رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی کانگریس کی انسداد اجارہ داری کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایمازون، ایپل، گوگل اور فیس بک بہت طاقتور ہیں اور کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے نتیجے میں مزید مضبوط بن کر ابھریں گی۔ وہ اس سے پہلے رواں سال میں چار بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہوں سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کر رہے تھے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

گذشتہ پانچ برس کے دوران شیئرز کی قیمت کی بنیاد پر ایمازون، ایپل، فیس بک اور گوگل کی مجموعی مالیت تین گنا اضافے کے ساتھ  5.4 ٹریلین ڈالر ہو چکی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان پر مشتمل پینل کی تازہ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی فرمز ’اجارہ داریوں‘ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ اس لیے اجارہ داری کے خلاف قانون میں بڑے پیمانے پر تبدیلی اور اس کا نفاذ ضروری ہو گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیکنالوجی کے بڑے امریکی ادارے کس حد تک دیانت داری سے کام کر رہے ہیں، اس معاملے کی امریکہ اور دوسری کسی جگہ انسداد اجارہ داری کے ادارے کی قیادت میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔

گوگل

امریکی حکومت نے منگل کو گوگل کے خلاف دھماکہ خیز مقدمہ دائر کیا ہے جس میں اس پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے آن لائن سرچ اور اشتہارات میں ’غیرقانونی اجارہ داری‘ قائم کر رکھی ہے۔

مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گوگل کے اقدامات سے اس کا مقابلے کرنے والے ادارے بند ہو گئے ہیں۔ مقدمے میں تجویز دی گئی ہے کہ عدالت گوگل کی تحلیل سمیت مسئلے کے حل کے مختلف طریقوں پر غور کرے لیکن اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

چھوٹی انٹرنیٹ کمپنیوں نے شکایت کی ہے کہ گوگل اپنی ہی سروسز جیسا کہ نقشوں، سفر کے لیے بکنگ اور کاروباری جائزوں کے معاملے میں تعصب کا شکار ہے، جو اشتہارات اور بینکوں کے ذریعے ہونے والے لین دین سے پیسہ بنا سکتی ہیں۔

جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ وہ آن لائن پوچھے گئے سوالات کے بہترین نتائج فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ کہ لوگ آسانی سے دستیاب سرچ انجنز کو استعمال کرنے میں آزاد ہیں۔

گوگل 90 فیصد سرچ کو کنٹرول کرتا ہے اور اس نے فیس بک کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل اشتہارات کی مارکیٹ پر غلبہ حاصل کر رکھا ہے۔

گوگل بڑی بنیادی ٹیکنالوجی فرم الفابیٹ کا سب سے بڑا یونٹ ہے، جس کے خلاف یورپ میں خریداری اور اشتہارات کے آپریشنزاور غالب موبائل آپریٹنگ سسٹم اینڈروئیڈ کا انتظام سنبھالنے کے حوالے سے اجارہ داری کے معاملے کی چھان بین ہو رہی ہے۔

ایپل

امریکی موبائل ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے خلاف شکایات کا مرکز اس کا ایپ سٹور ہے، جس کے لیے وہ زیادہ تر تھرڈ پارٹی سروسز کی فیس کا 30 فیصد حاصل کرتا ہے۔ بعض ڈویلپرز کا کہنا ہے کہ ایپل کا یہ حصہ بہت بڑا ہے اور اس نے سخت پالیسیاں اپنا رکھی ہیں، جن کی وجہ سے آئی فون بنانے والے ادارے سے مقابلہ کرنے والی کمپنیاں بری طرح متاثرہو سکتی ہیں۔

سٹریمنگ میوزک کمپنی ’سپوٹیفائی‘ نے یورپی حکام سے شکایت کی، جس میں کہا گیا ہے کہ ایپل اپنی میوزک سروس کو فروغ دینے کے لیے اپنے پلیٹ فارم کا ناجائز استعمال کررہی ہے۔ ایپل کا مؤقف ہے کہ اس کا سٹور آزاد ڈویلپرز کو اربوں ڈالر دے رہا ہے اور دوسری ڈیجیٹل مارکیٹوں کے مقابلے میں اس کے طریقے زیادہ معقول ہیں۔

ایمازون

آن لائن تجارت میں ایمازون غیرمتنازع لیڈر ہے۔ ریسرچ فرم ای مارکیٹر کے مطابق امریکہ میں ای کامرس کے تحت ہونے والی سیل میں اس کا حصہ 40 فیصد ہے۔

امریکی سرکاری اداروں نے ایمازون کے اپنے پلیٹ فارم سے کام کرنے والی تھرڈ پارٹی کمپنیوں کے ساتھ تعلقات کی جانچ پڑتال کی ہے۔ کم از ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نے مقابلے میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے تھرڈ سیلرز کا ڈیٹا ناجائز طور پر استعمال کیا۔ تاہم کمپنی نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

فیس بک

فیس بک ایک سرکردہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے۔ اس کے دوسرے پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور میسیجنگ سروس وٹس ایپ کو ملا کر دنیا بھر میں اس کے صارفین کی تعداد تین ارب کے قریب ہو گئی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر 10 بالغ امریکی شہریوں میں سے سات فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ اسی بنا پر ڈیجیٹل اشتہارات، خبروں اور معلومات کی فراہمی میں اس کا کردار کہیں بڑھ کر ہے۔

فیس بک میں بہت سی شکایات سیاسی معلومات اورنفرت پر مبنی تقاریر، جیسے کہ مواد کے ساتھ سلوک سے متعلق ہیں۔ مہم چلانے والے بعض افراد کا کہنا ہے کہ چھوٹی حریف کمپنیوں کو خرید کر فیس بک کو مقابلے کی فضا ختم کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ صورت حال اس کے خلاف اجارہ داری کے قانون کے تحت کارروائی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی