کشمیر کا پہلا دارالحکومت گھنے جنگل میں قائم کیا گیا تھا

24 اکتوبر،1947 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پہلی عبوری ’انقلابی حکومت‘ کا انتظام گھنے جنگل سے کیوں چلایا گیا؟

1947 میں تقسیم کے بعد ریاست جموں و کشمیر کے ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف ریاست کے مختلف حصوں میں بغاوت اور قبائلوں کی کشمیر پر لشکر کشی کے بعد جموں و کشمیر کے مغربی حصے پر مہاراجہ کا کنٹرول عملی طور پر ختم ہو گیا اور 24 اکتوبر، 1947 کو ان علاقوں میں 'آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر' کے نام سے ایک عبوری 'انقلابی' حکومت قائم ہو گئی۔

 اس حکومت نے پونچھ (موجودہ ضلع سدھنوتی) کے علاقے تراڑ کھل کے گاؤں جنجال ہل کو اپنا دارالحکومت قرار دے کر یہاں سے امور ریاست چلانا شروع کر دیے۔

سردار محمد ابراہیم خان اس عبوری حکومت کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ حکومت پاکستان ایک عرصے تک عملاً اس عبوری 'انقلابی' حکومت سے لاتعلق رہی۔ تاہم 1948 میں حکومت پاکستان نے معروف بیوروکریٹ اور مصنف قدرت اللہ شہاب کو اپنے نمائندہ کے طور پر جنرل سیکرٹری یا چیف سیکرٹری بنا کر بھیجا۔

اپنی کتاب شہاب نامہ میں قدرت اللہ شہاب نے اس وقت کے دارالحکومت کا نقشہ کچھ یوں کھینچا: 'کشمیر کا دارالحکومت پلندری اور تراڑ کھل کے درمیان جنجال ہل نامی پہاڑی کی چوٹی پر واقع ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس میں ڈھائی، تین درجن چھوٹے چھوٹے کچے مکان تھے۔ چند مکانوں میں حکومت کے دفتر تھے۔ باقی مکان صدر، وزرا اور دیگر سرکاری ملازمین کی رہائش گاہوں کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں: ’یہاں مجھے بھی ایک کمرے پر مشتمل کچا کوٹھا مل گیا، جس کے ایک کونے میں باورچی خانے کے طور پر مٹی کا چولہا بنا ہوا تھا۔ دفتروں کے کمرے روایتی ساز و سامان سے محروم تھے۔ فائلوں کے لیے نہ الماریاں تھیں نہ شلف۔ عام طور پر پتھر کی سلوں کو ہموار کرکے ان سے کام لیاجاتا تھا۔ موسم کے لحاظ سے باہر درختوں کے سائے میں بیٹھ کر کام کرنے کا رواج بھی عام تھا۔'

جنجال ہل نامی اس گاؤں میں اس دور کے کئی گھروں کی ڈھانچے اور باقیات ابھی بھی موجود ہیں۔ مورخین نے لکھا ہے کہ اس مقام کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ یہ گاؤں گھنے جنگل میں گھرا ہوا تھا اور ارد گرد سے نظر نہیں آتا تھا۔

مقامی شہری سردار مسعود خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'یہ جنگ کا زمانہ تھا اور ہر روز بھارت کا کوئی نہ کوئی جہاز آ کر اس علاقے پر بمباری کرتا تھا۔ جنگل ہونے کی وجہ سے یہ مقام محفوظ سمجھا جاتا تھا اس لیے یہاں حکومت کا سیکرٹریٹ قائم کیا گیا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صحافی اور تاریخ دان سردار سلیم خان کے مطابق پہلی حکومت کی کابینہ میں چھ وزرا تھے اور ان سب نے اسی گاؤں کے مختلف گھروں میں اپنے دفاتر اور رہائشیں بنائیں۔ 

'پلندری شہری کی جامع مسجد میں ایک اجلاس ہو رہا تھا۔ سردار محمد ابراہیم خان اس اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اوڑی کی طرف سے (بھارت کا) ایک (جنگی) جہاز آیا، جب اس نے وہاں مجمع دیکھا تو بمباری شروع کر دی اور کئی لوگ زخمی ہوئے۔ سردار ابراہیم کے گارڈ انہیں اٹھا کر نیچے نالے میں لے گئے یوں وہ بچ گئے۔'

سلیم بتاتے ہیں کہ ’(مہاراجہ) ہری سنگھ (جموں و کشمیر) کے حکمران تھے۔ سری نگر میں ان کی حکومت قائم تھی۔ انہوں نے کوشش کی کہ کسی طریقے سے سردار ابراہیم کا خاتمہ ہو جائے تاکہ یہ تحریک ختم ہو جائے۔'

قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں 'دن بھر بھارت کے بمبار طیارے ہمارے اوپر سے یا دائیں بائیں سے پرواز کرتے ہوئے آتے جاتے رہتے تھے اور اپنے نشانوں پر اندھا دھند بم برسا کر خراماں خراماں واپس لوٹ جاتے۔ ہماری جانب سے کسی قسم کی مزاحمت یا روک تھام کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔'

1949 کے اوائل میں جنگ بندی کے ساتھ ہی دارالحکومت جنجال ہل سے مظفر آباد منتقل کردیا گیا۔ قدرت اللہ شہاب مزید لکھتے ہیں، 'کچھ دفاتر پرانی ضلع کچہری کے ٹوٹے پھوٹے کمروں میں سما گئے اور باقی دفاتر کے لیے اسی عمارت کے احاطے میں بہت سے ٹینٹ نصب کر دیے گئے۔ قریب ہی ایک ٹیلے پر سرکاری ملازمین کی رہائش کے لیے ایک خیمہ بستی قائم کر دی گئی۔

’اس وقت تک آزاد علاقے میں ٹیلی فون کی سہولت دستیاب نہ تھی۔ وفاقی دارالحکومت کراچی سے رابطہ کرنے کے لیے مری جا کر ٹیلی فون پر کراچی بات کرنی پڑتی تھی۔ مظفرآباد میں دارالحکومت کے قیام کے بعد سردار عبدالرب نشتر کی خصوصی ہدایت پر (پاکستان کے زیر انتظام) کشمیر میں ٹیلیفون کی سہولت فراہم کی گئی۔'

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ