ورلڈ پولیو ڈے: دنیا ایک طرف پاکستان، افغانستان دوسری طرف

دنیا میں اس وقت پولیو وائرس صرف پاکستان اور افغانستان میں موجود ہے اور ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ رواں سال بھی اب تک پاکستان میں 79 اور افغانستان میں 53 پولیو کیسیز رپورٹ ہوئے ہیں۔

اب دنیا میں صرف دو ہی ملکوںپاکستان اور افغانستان میں پولیو وائرس موجود ہے (اے ایف پی)

دنیا میں اس وقت پولیو وائرس صرف پاکستان اور افغانستان میں موجود ہے اور ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ رواں سال بھی اب تک پاکستان میں 79 اور افغانستان میں 53 پولیو کیسیز رپورٹ ہوئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی جانب سے رواں سال 25 اگست کو افریقی ممالک کو پولیو فری قرار دینے کے ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ اب دنیا میں صرف دو ہی ملکوں میں پاکستان اور افغانستان میں پولیو وائرس موجود ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق مسلسل تین سال تک افریقی ممالک میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونے پر اس علاقے کو پولیو فری قرار دیا گیا اور افریقہ میں صرف نائیجریا میں تین سال پہلے پولیو کا ایک کیس رپورٹ ہوا تھا۔

پاکستان میں پولیو کے خلاف 26 سال سے مہم جاری ہے اور اب تک کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

پاکستان پولیو فری پروگرام کے مطابق اس سال اب تک پولیو کے 79 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ پچھلے سال 2019 کو147 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

حکومت پاکستان پولیو وائرس کے خلاف مہم پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، یونائیٹڈ نیشن چلڈرن فنڈ، بل اینڈ میلنڈاگیٹ فاؤنڈیشن، روٹری انٹرنیشنل اور یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے تعاون سے چلا رہی ہے۔

خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایوب روز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیو مائیلایٹس کہلاتا ہے اور یہ وائرس بچے کے اعصاب پر اٹیک کرتا ہے اور آنتوں کے ذریعے خون میں شامل ہو جاتا ہے جس کے بعد اعصاب کو متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے اور اعصابی کمزوری کے بعد بچے کو معذور کر دیتا ہے۔

سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر ایوب روز نے کہا کہ پاکستان میں کافی عرصہ پہلے پولیو وائرس کے کیسز رپورٹ ہو رہے تھے لیکن جب بہت زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے تو نہ صرف وزارت صحت بلکہ پوری دنیا کی مختلف تنظیموں کی ایک کنسوریشم کو بھی اس پر توجہ دینا پڑی کہ اگر اس طرح پاکستان اور دوسرے غریب ممالک میں پولیو وائرس پھیلنے لگا تو اس سے پوری دنیا میں پھیلنے کا خدشہ ہو گا۔

پاکستان میں پولیو وائرس کے خلاف مہم کے لیے ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور دیگر کے اشتراک سے باقاعدہ طور پر مہم کا آغاز 28 اپریل 1994 کو شروع کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ شروع میں پولیو وائرس کی مہم کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ گاؤں کے ہجرے میں، چوک یا بازار میں لاؤڈ سپیکر پر اعلانات کیے جاتے تھے جس پر لوگ اپنے بچے لاکر پولیو کے قطرے پھیلاتے تھے اور اس طرح یہ مہم باقاعدگی کے ساتھ چھ سال تک چلائی گئی جس سے کافی حد تک پولیو کیسز کم ہونا شروع ہوئے لیکن لوگوں تک رسائی زیادہ نہیں ہو رہی تھی جس کے بعد پولیو کیسز کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ بچوں تک رسائی کے لیے حکومت نے دوسرا لائحہ عمل تیار کیا۔

سنہ 1999-2000 سے باقاعدہ طور پر گھر گھر انسداد پولیو کے قطرے پلانے کی مہم شروع کی گئی جس کے لیے نہ صرف ہیلتھ کے میل اور فی میل ورکررز بلکہ ایجوکیشن کے فی میل اور میل ٹیچرز، کالج کے طالب علموں اور رضاکاروں کو اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کیں۔

’پولیو مہم کی کوریج آہستہ آہستہ بڑھ کر 95 فیصد تک پہنچ گئی اور اداروں کی طرف سے ہدف بھی 95 فیصد ہی تھا جبکہ باقی پانچ فیصد رہنے والے بچے سیلف ایمونائیڈ ہو جاتے ہیں اور وہ بھی پولیو وائرس سے بچے رہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارا ماحول بہت گندہ ہے۔

ڈاکٹر ایوب روز نے کہا کہ پولیو وائرس بڑوں کو بھی ہوتا ہے لیکن بچوں کی نسبت بڑوں کی قوت مدافعت زیادہ مضبوط ہوتی ہے جس کی وجہ سے پولیو وائرس کے قطرے بچوں کو پلائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے روٹین ایمونائزیشن ضروری ہے اور جب بچہ پیدا ہو جائے تو اسے او پی وی زیرو کے بعد ڈیڑھ ماہ، ڈھائی ماہ اور ساڑھے تین ماہ بعد دو، دوقطرے اگر پلائے جائیں تو اس بچے میں قوت مدافت کافی حد تک مضبوط ہو جاتی ہے۔

سابق ڈی جی ڈاکٹر ایوب روز نے کہا کہ خطے میں افغانستان کی جنگ اور سابقہ قبائلی علاقوں میں خراب حالت کی وجہ سے پولیو مہم غیر محفوظ تھی لیکن ان علاقوں میں سکیورٹی حالات بہتر ہونے سے اب مہم پر بھی اچھا اثر پڑا ہے اور پولیو مہم میں سال 2014 اور سال2016 میں پولیو ویکسین لگائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سال 2019 میں منفی پروپیگنڈا زیادہ ہوا اور سوشل میڈیا پر بھی پولیو کے خلاف ایک منظم من گھڑت پروپیگنڈا چلا گیا جس سے مہم متاثر ہوئی اور کیسز بھی زیادہ رپورٹ ہوئے جس میں سب سے زیادہ کیسز خیبرپختونخوا سے 93 کیسز اور پورے سال میں 147 پولیو وائرس کے کیسز آئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’سال 2018 میں 12 کیسز، سال 2017 میں صرف آٹھ کیسز پورے ملک میں رپورٹ ہوئے تھے۔‘

ڈاکٹر ایوب روز نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں  پولیو پر سیاست بھی ہوتی ہے اور لوگ اسے اپنے مسائل حل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے اب تک پوری دنیا سے پولیو ختم لیکن  پاکستان اور افغانستان میں اب بھی یہ وائرس موجود ہیں۔

پولیو مہم کے میڈیا منیجر ذوالفقار بابا خیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے مارچ کے بعد پولیو مہم کو بھی روکنا پڑا اور بعد میں جولائی کے مہینے میں پہلی مہم محدود پیمانے پر منتخب اضلاع میں چلائی گئی اور اسی طرح اگست میں بھی مہم کا انعقاد کیا گیا جبکہ ستمبر میں ملک بھر میں پولیو کے قطرے بچوں کو پلائے گئے۔

دوسری جانب افغانستان میں یونیسف کے پولیو نمائندہ کمال شاہ نے اندپینڈنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں رواں سال 2020 میں 53 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے جس میں اکثریت افغانستان کے جنوبی حصے میں رپورٹ ہوئے ہیں جہاں قندھار، ہلمند اور زگان صوبے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں زیادہ کیسز پاکستان کے ساتھ بارڈر پر واقع علاقوں مںیں رپورٹ ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پولیو وائرس کی منتقلی زیادہ ہے کیونکہ زیادہ لوگ آتے جاتے ہیں۔

کمال شاہ کہتے ہیں کہ پچھلے سال کی نسبت اس افغانستان کیسز زیادہ رپورٹ ہوئے ہیں۔ گذشتہ سال 29 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے اور اس سال اب تک 53 بچے پولیو وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

’زیادہ کیسزکی ایک وجہ کرونا وئرس بھی ہے جس کی وجہ سے پانچ ماہ کے دوران کوئی پولیو مہم افغانستان میں نہیں چلائی گئی۔‘

انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں طالبان کا کنٹرول ہے وہاں پر گھر گھر پولیو مہم کی ’اجازت بھی نہیں‘ جس کی وجہ سے ہر مہم میں بہت زیادہ بچے پولیو قطروں سے محروم رہ جاتے ہیں اور اس وقت افغانستان میں دو سے ڈھائی ملین بچے پولیو قطروں سے محروم ہیں جو کہ باعث تشویش بات ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت