امریکہ صدارتی انتخابات کے دوران پیرس معاہدے سے نکل گیا

اس معاہدے کی ایک شرط کے تحت پہلے تین سالوں میں کوئی بھی ملک اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا اور صدر ٹرمپ نے مدت پوری ہونے کے بعد ایک روز کی بھی تاخیر نہیں کی۔

گذشتہ سال اسی دن ٹرمپ انتظامیہ نے باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کو اپنے فیصلے سے مطلع کر دیا تھا (اے ایف پی)

جیسا کہ امریکی انتخابات کا عمل جاری ہے، ہمیں اب بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چار سالہ دورہ اقتدار کے نتائج کے اثرات کا سامنا کرنا ہے۔

ان انتخابات کا نتیجہ کچھ بھی ہو یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ چار نومبر کو امریکہ باضابطہ طور پر 2015 کے عالمی موسمیاتی معاہدے ’پیرس کلائمنٹ ایگریمنٹ‘ کو خیرباد کہہ چکا ہے۔

گذشتہ سال اس دن ٹرمپ انتظامیہ نے باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کو مطلع کر دیا تھا کہ وہ ایک سال کی مطلوبہ مدت کے بعد اس عالمی معاہدے سے دست بردار ہوجائے گا۔ (اس معاہدے میں ایک شرط شامل تھی جس کے تحت پہلے تین سالوں میں کوئی بھی ملک اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا اور صدر ٹرمپ نے اس میں ایک روز کی بھی تاخیر نہیں کی)۔

صدر ٹرمپ نے جون 2017 میں اس معاہدے سے دست برداری کے اپنے ارادے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاہدہ ’ہمارے ملک پر اقتصادی بوجھ‘ ہے جس کا خاتمہ کیا جائے گا۔ امریکہ واحد ملک ہے جس نے اب تک اس عالمی معاہدے سے دستبرداری اختیار کی ہے۔ واشنگٹن اب بھی مذاکرات میں شریک ہوسکتا ہے اور اپنی رائے دے سکتا ہے  لیکن وہ ایسا ایک ’مبصر کی حیثیت‘ سے کر سکتا ہے۔

پیرس معاہدے کا مقصد عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو ڈرامائی طور پر کم کرتے ہوئے آب و ہوا کی خطرناک تبدیلی سے بچنا ہے جو کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافہ کررہی ہے۔

دنیا کے ممالک نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو روکنے کے لیے اپنے اپنے اہداف طے کیے ہیں جس کا مقصد درجہ حرارت کو پری انڈسٹریل (صنعتی انقلاب کے دور) کی سطح سے دو ڈگری سیلسیس زیادہ برقرار رکھنا اور عالمی حدت کو 1.5 تک محدود رکھنے کے لیے کوششیں کرنا ہے۔

ماحولیات کے بحران کے بدترین نتائج ہمارے چاروں جانب ظاہر ہو رہے ہیں جن میں جنگلوں میں لگنے والی آگ، جان لیوا ہیٹ ویوز، سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح اور زیادہ شدید موسم شامل ہیں۔ امریکہ کی معاہدے سے دستبرداری سے بین الاقوامی سطح پر ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جب کہ چین نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس خلا کو بھرنے کے لیے قدم اٹھانے کو تیار ہے۔

’سبز انقلاب‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے رواں سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چین کی جانب سے 2060 تک کاربن کے اخراج کے خاتمے کا عہد کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں دہائی کے اختتام سے قبل ان کے ملک میں کاربن کا اخراج بلند ترین سطح پر ہو گا۔

امریکہ کی دست برداری سے برازیل اور آسٹریلیا جیسے دوسرے ملکوں کی تیل پر انحصار کم کرنے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔  

دست برداری کے فیصلے سے امریکہ عالمی فورم پر آب و ہوا کے حوالے سے خدشات کو دور کرنے کی کوششوں سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ اس سال مغربی ساحلوں پر جنگلوں میں غیرمعمولی آتش زردگی دیکھی گئی جب کہ تباہ کن سمندری طوفانوں سے خلیج میں زیادہ بارشوں سے سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

2019   میں عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں امریکہ کا حصہ 14 فیصد رہا جبکہ چین کا حصہ اس سے تقریباً دگنا یعنی 26 فیصد ہے۔ ’گلوبل کاربن پروجیکٹ‘ کے مطابق یورپی یونین میں یہ حصہ نو فیصد ہے اور بھارت عالمی اخراج کے سات فیصد حصے کا ذمہ دار ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے تیار کردہ حالیہ ماحولیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی سے ’نئے خطرے نے جنم لیا ہے اور اس نے امریکہ کی برادریوں میں موجودہ خطرات اور کمزوریوں کو بڑھا دیا ہے جس سے انسانی صحت اور حفاظت، معیار زندگی اور معاشی شرح نمو جیسے بڑھتے ہوئے چیلنجز شامل ہیں۔‘

صدر ٹرمپ نے بارہا پیرس معاہدے کی ان شرائط کو بھی غلط قرار دیا ہے  جو رضاکارانہ ہیں۔ گذشتہ اکتوبر میں انہوں نے اس معاہدے کو دولت کی امریکہ سے دوسری اقوام کو منتقلی کی وجہ اور اسے ’یکطرفہ‘ قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے اعلان پر سائنس دانوں کے ایک گروپ نے امریکی انخلا کے مضمرات کو دیکھتے ہوئے ایک رپورٹ شائع کی اور تجویز پیش کی کہ صدی کے آخر تک امریکہ تقریباً آٹھ ٹریلین ڈالرز کا نقصان اٹھانے کے بعد پانچ فیصد تک پسماندہ ہو سکتا ہے۔

جی 20 کی ترقیاتی تنظیم کی تیار کردہ ایک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ماحولیاتی پالیسی ترقی اور روزگار کو فروغ دے سکتی ہے۔ اس تحقیق میں اشارہ کیا گیا ہے کہ جی 20 کے ممالک کاربن میں کمی اور آب و ہوا میں بہتری پیدا کرنے کی حکمت عملی کے ذریعے صدی کے وسط تک شرح نمو میں پانچ فیصد اضافہ کر سکتے ہیں۔

کلنٹن اور جارج ڈبلیو بش انتظامیہ میں موسمیات کے حوالے سے مذاکرات کار کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے اور کلائمنٹ ایڈوائزر سی ای او نجل پریوس نے خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کو بتایا کہ ’یہ معاہدہ امریکی عوام پر ٹیکس نہیں ہے اور نہ ہی اس سے دولت کی بڑے پیمانے پر امریکہ سے منتقلی ہو گی۔ در حقیقت یہ معاہدہ کسی بھی ملک کو مالی ادائیگی کرنے کا پابند نہیں بناتا۔‘

صرف پچھلے کچھ ہفتوں میں جاپان اور جنوبی کوریا دونوں نے 2050 تک کاربن کے اخراج کے خاتمے کا عزم کیا ہے کیونکہ پوری دنیا میں زیادہ سے زیادہ معیشتیں آب و ہوا کے بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں۔

جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر وہ صدر بن جاتے ہیں تو وہ فوری طور پر پیرس معاہدے میں دوبارہ شامل ہوجائیں گے۔ وہ اوباما کی کتاب سے ایک پرچہ نکال کر ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرسکتے ہیں جیسا کہ سابق صدر نے 2016 میں کیا تھا۔لیکن یہ ضروری نہیں کہ بالکل ایسا ہی ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ کو اخراج کو کم کرنے کے لیے فوری منصوبہ پیش کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی زبان میں اسے ’این ڈی سی‘ کہا جاتا ہے۔ صدر اوباما نے اس سے قبل 2005 اور 2025 کے درمیان اخراج میں تقریباً 26 فیصد کمی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

لیکن بائیڈن کے دلیرانہ عزائم ہیں۔ ان کے آب و ہوا کے منصوبے کے تحت امریکہ 2050 کے آخر میں 100 فیصد صاف توانائی کی معیشت اور کاربن کے صفر اخراج کے ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ باقی دنیا بھی COP26 کے تحت اس حوالے سے کام کرے۔ COP26 اقوام متحدہ کے تحت ماحولیات پر مذاکرات ہیں جو نومبر 2021 میں سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں وبا کے باعث تاخیر سے شروع ہوں گے۔

بائیڈن کے ماحولیاتی ایجنڈے کو کانگریس کی حمایت درکار ہو گی جس کے لیے دونوں ایوانوں اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہونا لازمی ہے۔ منگل کے نتائج سینیٹ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

پیرس معاہدے کے تحت صدر اوباما نے ’گرین کلائمنٹ فنڈ‘ کے ذریعے غریب ممالک کی مدد کے لیے تین ارب ڈالر امداد کا اعلان کیا تھا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد اس کو دو ارب ڈالر تک محدود کر دیا تھا۔ 2019 میں 27 ممالک نے کُل 9.8 ارب ڈالر فنڈ کا اعلان کیا تھا جس کے لیے امریکہ نے اپنا حصہ فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ اس فنڈ میں دوبارہ شامل ہوں گے اور یہ کہ امریکہ اپنے عہد کے مطابق اس میں اچھا حصہ ڈالے گا اس بات سے قطع نظر کہ دوسرے ممالک کی اس فنڈ میں شمولیت مشکوک ہے۔

اوباما انتظامیہ میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں ماحولیاتی تبدیلی کے لیے خصوصی ایلچی کے فرائض انجام دینے والے جوناتھن پیرشنگ نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ عالمی سطح پر امریکہ کو بداعتمادی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس سے قبل سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی 1997 کے کیوٹو پروٹوکول سے امریکہ کو نکال لیا تھا، اس معاہدے پر ان کے پیش رو بل کلنٹن نے دستخط کیے تھے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات