پشاور: زیبرا کراسنگ کی نئی مشق کا آنکھوں دیکھا حال

ٹریفک نظام میں بہتری لانے اور انسانی جانیں بچانے کی خاطر سٹی ٹریفک پولیس نے شہر میں مختلف جگہوں پر پیدل چلنے والوں کے لیے مصروف سڑکوں پر نئی سفید و سیاہ لکیریں کھینچ دی ہیں، مگر کیا اس پر عمل ہو رہا ہے؟

پاکستان جہاں ڈارئیور حضرات ٹریفک سگنل پر گاڑیاں نہیں روکتے تو کیا وہ زیبرا کراسنگ کے ذریعے پیدل سڑک کراس کرنے والوں کا حق تسلیم کریں گے؟

 یہ چیلنج خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ٹریفک پولیس نے اپنے ذمے لیا ہے۔ ٹریفک نظام میں بہتری لانے اور انسانی جانیں بچانے کی خاطر سٹی ٹریفک پولیس نے شہر میں مختلف جگہوں پر پیدل چلنے والوں کے لیے مصروف سڑکوں پر نئی سفید و سیاہ لکیریں کھینچ دی ہیں۔

اس مقصد کی خاطر ٹریفک اہلکار ہر زیبرا کراسنگ پر گاڑیوں کو روک کر انہیں ان لکیروں کی اہمیت سمجھا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ڈرائیورز کو روڈ لین لائن ڈسپلن، سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کے استعمال کے حوالے سے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق شہر کی مختلف شاہراہوں پر زیبرا کراسنگ فعال کر دی گئی ہیں جن میں شامی چوک، آرٹلری چوک، میچنی چوک، سورے پل چوک، ڈیفنس کراس، کلب چوک، پولیس لائن چوک اور باغ ناران چوک زیبرا کراسنگ شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہر میں اس سے پہلے بھی پیدل چلنے والوں کے لیے وقتاً فوقتاً زیبرا کراسنگ کی سہولت فراہم رہی ہے، تاہم عوام اور ڈرائیور حضرات کی اکثریت ان قوانین کا خیال رکھنے سے غافل رہے۔ یہاں تک کہ کئی جگہوں سے زیبرا کراسنگ کے یہ نشانات مٹ چکے تھے۔

ایک لمبے عرصے بعد نئے چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید مروت کی جانب سے ذاتی دلچسپی دکھاتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پشاور میں ٹریفک کی روانی یقینی بنانے اور شہریوں کی نقل وحرکت آسان بنانے کے لیے مختلف اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً ڈرائیوروں اور راہ گیروں کو روڈ ڈسپلن کا خیال رکھنے کی تنبیہ کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب بعض راہ گیروں نے نئی اقدامات کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں مصروف شاہراہوں پر زیبرا کراسنگ کا استعمال کرتے ہوئے خوف رہتا ہے کہ کہیں کوئی ڈرائیور اپنی کم علمی کے باعث انہیں نقصان نہ پہنچا دے۔

ایک راہ گیر نے کہا کہ اگر ٹریفک اہلکار موجود نہ ہوں تو گاڑیاں زیبرا کراسنگ کا خیال نہیں رکھتیں۔ انہوں نے ٹریفک پولیس کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر گاڑیوں کی طرح ہر زیبرا کراسنگ پر پیدل چلنے والوں کے لیے بھی بتیوں (سگنلز) کا انتظام کیا جائے تو عوام بلاجھجھک سڑک پار کر سکیں گے۔

دنیا میں پیدل سڑک کراس کرنے والوں کے حقوق کا بھی شہری انتظامیہ گاڑیوں سے زیادہ خیال رکھتی ہے۔ اس کا ایک مقصد پیدل چلنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے راس الخیمہ علاقے میں ٹریفک پولیس نے گذشتہ دنوں ایک نئی زیبرا کراسنگ متعارف کروائی ہے جسے ’تھری ڈی واک وے‘ کا نام دیا گیا ہے۔ لاہور میں بھی اسی قسم کی کراسنگ متعارف کروائی گئی ہے۔ ان کا مقصد ڈرائیورز کی توجہ حاصل کرنا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے پشاور میں کئی راہ گیروں اور گاڑیوں کو نئے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے دیکھا ہے۔ کئی گاڑیاں پیدل چلنے والوں کو نظر انداز کر کے تیزی سے نکل جاتی ہیں جب کہ بعض پیدل چلنے والے انہی تیز رفتار گاڑیوں کی بیچ میں سے سڑک پار کر کے چلے جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان