افغان امور میں مداخلت پر دو جماعتیں دوبدو

جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق نے کہا تھا کہ افغانستان کی حکومت کو اقتدار افغان طالبان کے ہاتھ میں سونپ دینا چاہیے جس کے جواب میں اے این پی کے سردار بابک نے انہیں پڑوسی ملک کے اندورنی معاملات سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔

(تصاویر: سوشل میڈیا)

خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی ) اور مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (س) کے رہنماؤں کے درمیان افغان طالبان کے موضوع پر پچھلے کچھ دنوں سے گرم بیانات کے تبادلے جاری رہے۔

اس میں جو دو مرکزی کردار زیر بحث رہے ان میں ایک اے این پی کے سینیئر رہنما اور موجودہ رکن صوبائی اسمبلی سردار حسین بابک اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور مرحوم مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق شامل تھے۔

تفصیلات کے مطابق، رواں ہفتے کے اوائل میں مولانا حامد الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کو چونکہ افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں شکست ہو چکی ہے لہذا افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اب اقتدار افغان طالبان کو سونپ دے۔

اس بیان کے ردعمل میں سردار حسین بابک نے خیبر پختونخوا کے علاقے دیر میں ایک تقریر کے دوران مولانا حامد الحق کو للکارتے ہوئے کہا کہ انہیں افغانستان کے اندرونی معاملات پر بات کرنے کی بجائے اسلام آباد میں اپنے والد کے قاتلوں کا سراغ لگانا چاہیے۔

جواب میں جے یو آئی (س) کے مرکزی ترجمان مولانا یوسف شاہ نے بھی ایک بیان جاری کیا اور یہ کہا کہ مولانا حامد الحق اپنے والد کے قاتلوں کا بدلہ افغانستان میں لے چکے ہیں۔

ان گرما گرم بیانات کے تبادلے کے بعد دونوں سیاسی جماعتوں کے حمایت کاروں اور کارکنوں نے بھی سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف ہلہ بول دیا اور بات گالم گلوچ اور دھمکیوں تک پہنچ گئی۔ یہاں تک کہ ٹوئٹر پر اس حوالے سے ایک ٹرینڈ ’وی سٹینڈ ود سردار بابک‘ (ہم سردار بابک کے ساتھ ہیں) بھی چلا۔

اے این پی کے رہنما کے بیان کے پیچھے محرکات کیا تھے؟

اس تمام معاملے کے مرکزی کردار سردار حسین بابک سے انڈپینڈنٹ اردو نے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’بحیثیت عدم تشدد کی داعی اور پشتونوں کی نمائندہ جماعت اے این پی نے ان ہاتھوں کو روکنے کی کوشش کی ہے جو پشتونوں کو دوبارہ جنگ میں جھونکنے کے لیے لوگوں کا درجہ حرارت چیک کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’پچھلے چالیس پینتالیس سالوں سے ان لوگوں نے پشتونوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ پشتون برباد ہو کر رہ گئے، ان کی معیشت ختم ہو گئی۔ اب عسکریت پسند پھر سے جنگ چاہتے ہیں اور دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔ لوئر دیر سے لے کر خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پمفلٹس تقسیم کیے جا رہے ہیں۔‘

انہوں نے الزام لگایا کہ’سکیورٹی فورسز مقامی لوگوں کو اختیار ہاتھ میں لینے کے لیے ورغلا رہے ہیں۔ تو اس سے ہم کیا تاثر لیں؟‘

انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (س) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’اس کو ہم کیا سمجھیں جب کوئی سیاسی جماعت اٹھ کر کھلم کھلا پاکستان سے افغانستان میں جہاد کی بات کرے، ریاست کو نظر انداز کرے پھر بھی ریاست کوئی ردعمل نہ دکھائے؟‘

سردار حسین بابک نے سوال اٹھایا کہ کس طرح ایک سیاسی جماعت پاکستان سے بیٹھ کر کسی دوسرے ملک کی خودمختاری کو چیلنج کر سکتی ہے۔ ان کے بقول: ’یہ دوبارہ جنگ کے لیے ماحول بنا رہے ہیں، اس لیے دلیل سے بات نہیں کرتے۔ ان کا جنگوں میں فائدہ ہے۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ مذہبی کارڈ کھیل کر اس سرزمین پر لاکھوں کروڑوں ڈالر کمائے گئے۔ لیکن اب پشتون بیدار ہو چکے ہیں اور انہیں ورغلانا مشکل ہے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کے مطابق انہوں نے دلیل کی بنیاد پر حامد الحق کو مخاطب کیا تھا جس کا جواب ان کی جماعت کو دلیل سے دینا چاہیے تھا نہ کہ دھمکیوں سے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ علمائے حق ہیں تو امن کی بات کیوں نہیں کرتے؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سردار بابک نے جے یو آئی(س) کے ترجمان مولانا یوسف کی اس بات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے کہا کہ مولانا حامد الحق اپنے والد کا بدلہ افغانستان میں لے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا وضاحت کریں کہ افغانستان میں کس سے بدلہ لیا تھا  جب کہ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ مولانا سمیع الحق کو امریکہ نے قتل کیا ہے۔

’ملک کی سلامتی چاہتے ہیں‘

سردار حسین بابک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ بحیثیت پاکستانی ایک قومی بیانیے کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان ہمارا ملک ہے اور کون اپنے ملک کی سلامتی نہیں چاہتا۔ تاہم اگر حکومت پاکستان اگر ایسے غیر ریاستی عناصر کے اشتعال انگیز بیانات اور حرکات پر نظر نہیں رکھیں گے، اور ان کی روک تھام نہیں کریں گے تو اس سے شک کی فضا پروان چڑھے گی۔‘

ان کا اشارہ پاکستانی فوج، اسٹیبلشمنٹ اور ان ریاستی اداروں کی طرف تھا جن پر پہلے سے پاکستانی سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کا الزام لگتا آیا ہے۔

پاکستانی فوج ہمیشہ اس طرح کے الزامات کے جواب میں وہ یہ کہتی آئی ہے کہ پاکستانی فوج کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بہت بڑی قربانیاں ہیں اور ہزاروں جانوں کے نذرانے پیش کر چکی ہے۔

حکومت پاکستان بھی اپنے خلاف اس قسم کی تنقید کو ہمیشہ رد کرتی آئی ہے، اور وزارت خارجہ اور عالمی پاکستانی حکام کی طرف سے بارہا یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان اور پورے خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان ہے اور ان کو چاہیے کہ وہ ہی اس کا حل مذاکرات کے ذریعے ڈھونڈیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل