سو کنال اراضی: ضلع خیبر کا واحد انگریزی سکول ’یتیم ‘

 حال ہی میں انڈپینڈنٹ اردو نے اس سکول کے موجودہ حالات جاننے کی غرض سے دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ صرف تین سال کا عرصہ گزر  جانے کے بعد یہ سکول دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

جنوری 2018 کی بات ہے جب ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں جدید نصاب پر مشتمل ایک انگریزی سکول وکالج کا افتتاح کیا گیا، جس کا تصور لارنس کالج،  برن ہال سکول ایبٹ اباد اور  ملک کے دیگر  بڑے تعلیمی اداروں سے اخذ کیا گیا۔

 چونکہ یہ سکول آئیڈیا کے لحاظ سے تمام قبائلی اضلاع میں اپنی نوعیت کا پہلا ایسا سکول تھا، لہذا یہ خبر  بڑے پیمانے پر میڈیا کی زینت بھی بنی۔

باڑہ میں قائم کیے گئے اس تعلیمی ادارے کو  اسلامیہ کالج کے بانی سر  صاحبزادہ عبدالقیوم کے نام سے منسوب کیا گیا، جب کہ اس کے لیے سو کنال کی اراضی اور  عمارت کی تعمیر کے لیے رقم خود علاقے کے عمائدین نےاپنی جیبوں سے اکھٹی کرکے عطیہ کے طور پر پیش کی۔

 اس وقت کے پولیٹیکل ایجنٹ خالد محمود نے سکول کی بنیادی ضروریات اور سٹاف کی تنخواہیں پوری کرنے کے لیے ابتدائی طور پر کچھ رقم ادارے کے اکاؤنٹ میں رکھ دی اور  سکول کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔

 حال ہی میں انڈپینڈنٹ اردو نے اس سکول کے موجودہ حالات جاننے کی غرض سے دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ صرف تین سال کا عرصہ گزر  جانے کے بعد یہ سکول دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے جس کے سبب بچوں کی پڑھائی بیچ میں ہی رک جانے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اساتذہ اور دیگر سٹاف نے بتایا کہ سکول کا نظم و نسق چلانے والے لوگ تو چلے گئے اور  اب رہے سہے فنڈ سے شاید کچھ ہی مہینے یہ سکول چل پائے گا۔

نرسری کی ایک ٹیچر نادیہ خان نے بتایا کہ کہنے کو  تو  ’یہ ایک انگریزی سکول ہے لیکن اندر نظام کسی پسماندہ علاقے کے سرکاری سکول جیسا ہے، جہاں سب کچھ پشتو میں سکھایا جارہا ہے۔‘

’صاحبزادہ عبدالقیوم سکول وکالج‘ کے بنیادی آئیڈیا کے خالق اور صاحبزادہ عبدالقیوم کے نواسے بریگیڈئیر ریٹائرڈ ایاز خان جو  اس دورے کے موقع پر موجود تھے، نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ فاٹا کے انضمام کے بعد یہ ادارہ یتیم ہو کر رہ گیا ہے اور اب اس کا کوئی والی اور وارث نہیں رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جس دلچسپی اور سوچ کے تحت ہم یہ منصوبہ لے کر آئے تھے، وہ نظر نہیں آرہا۔ ہمارا نصب العین تو یہ تھا کہ چونکہ ضلع خیبر میں تیراہ کے علاقے تک کوئی ایسا سکول نہیں تھا، جو  انگلش سکولوں کا مقابلہ کر سکے۔ تو بڑی سوچ بچار کے بعد موجودہ جگہ کا تعین کیا گیا اور اس میں مقامی لوگوں نے دل کھول کر عطیات دیے۔ لارنس کالج نے بھی  جذبہ سماجی بہبود کے تحت انتظامی امور میں مدد کرنے کا وعدہ کیا۔‘

بریگیڈئیر ایاز نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 2018 میں ایمرجنسی بنیادوں پر  اس وقت سکول کے اکاؤنٹ میں ایک خطیر رقم رکھ دی گئی، ساتھ ہی لیویز فورس سے اس کو سکیورٹی بھی دے دی گئی۔ تاہم جیسے ہی قبائلی اضلاع کا خیبر پختونخوا میں انضمام ہوا، دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کا نظام بھی درہم برہم ہو ا۔

ایاز خان نے کہا کہ جس سکول کو بنانے کے لیے اتنی محنت کی گئی وہ عدم توجہی کے باعث ایک عام سکول تو  رہ ہی گیا ہے لیکن اب اس کے بند ہونے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

’سکول کے سٹاف سے بات کرنے کے بعد مجھے تو یہ لگ رہا ہے کہ یہ سکول تو بالکل ہی یتیم ہو کر رہ گیا ہے۔ اور جو بچے کھچے فنڈز اس وقت رکھے گئے تھے وہ بھی کم ہو کر اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ نہ تو ٹیچرز کے اینکریمنٹ کے لیے پیسے ہیں، نہ پک اینڈ ڈراپ یا دیگر سہولیات کے لیے فنڈز ہیں۔ ‘

بریگیڈئیر ایاز نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کے مستقبل کی خاطر حکومت فوری توجہ دے، ورنہ یہ ادارہ اپنی موت خود ہی مر جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس